جہلم کےچند عظیم سپوتوں کے نام

سیاسی افق/ اعزاز سید

دسمبر کا آخری ہفتہ یادگاررہا۔ خاندان کے دو پیاروں کی شادی میں شرکت کے سلسلے میں جہلم مقیم رہا۔ بچپن اسی شہر میں گذرا ہے لہذا شادی میں شرکت کی خوشی کے ساتھ ساتھ پرانی یادوں نے بھی گھیرے رکھا۔

زاتی وابستگیوں کی طویل داستان الگ مگر جہلم کے اور بھی  بہت حوالے ہیں۔ یہ شہر برصغیر کے نامور شاعروں ، ادیبوں، جنگجووں اور سیاستدانوں کا شہر ہے ۔ اس شہر سے منسوب کچھ لوگ تو تاریخ کا بھرپور حوالہ ہیں مگر کچھ ایسے خاموش کردار بھی ہیں جنہیں عام آدمی نہیں جانتا مگر وہ بڑے انسان ہیں۔

اگر آپ اسلام آباد سے جی ٹی روڈ پر سفر کرتے ہوئِے جہلم داخل ہوں تو سوہاوہ کے بعد دینہ شہر کا سٹاپ آتا ہے۔  دینہ کا نام عصر حاضر میں سب سے بڑے شاعروں میں سے ایک گلزار کے ذکر کے بغیر نا مکمل ہے ۔ آپ یہاں رکیں یا نہ رکیں۔ گلزار کے پرانے گھر جائیں یا نہ جائیں مگر آپ کو یہاں سے گلزار کی شاعری کی خوشبو ضرور آئے گی۔ گلزار تقسیم کے بعد دینہ سے ہندوستان جا بسے ۔ مگرآج بھی وہ کسی فلم کا گیت لکھیں، کسی ٹی وی یا سوشل میڈیا پر کوئی نظم یا غزل کہتے نظر آئیں ، آپ کو ان کے لہجے میں جہلم کی خوشبو ضرور آئے گی ۔

ذکر جہلم کا ہے ، بات ہے دِینے کی
چاند پکھراج کا ، رات پشمینے کی
کیسے اوڑھے گی اُدھڑی ہو ئی چاندی
رات کوشش میں ہے چاند کو سینے کی
کوئی ایسا گرا ہے نظر سے کہ بس
ہم نے صورت نہ دیکھی پھر آئینے کی

 

دینہ گلزار کے ساتھ ساتھ مزاحیہ شاعر ضمیر جعفری سے بھی منسوب ہے ۔ ضمیر جعفری نے اردو ادب میں بڑا نام کمایا۔ وہ ہنس مکھ شاعر ہی نہیں تھے بلکہ اپنے سماجی کردار کی وجہ سے بھی جانے جاتے تھے ۔ دینہ سے چند کلو میٹر آگے آئیں تو راٹھیاں کی ڈھلوان پوتھوہار کو خدا حافظ کہہ کر آپ کو پنجاب میں خوش آمدید کہتی ہے ۔ یہاں الٹے ہاتھ پر کالا گجراں نامی ایک گاوں ہے۔ اس گاوں کے تین تاریخی کردار بہت اہم رہے۔ سب سے پہلے تو تقسیم سے پہلے مزاحمت کے پنجابی شاعر درشن سنگھ آوارہ ہیں۔

کالاگجراں کے اندر داخل ہوں تو مین بازار میں ڈاکخانے کے قریب درشن سنگھ آوارہ کا گھر موجود ہے۔ وقت نے پرانی عمارت کو تو نگل لیا مگر ۱۹۰۶میں یہاں پیدا ہونے والے آوارہ کا بچپن اور جوانی آج بھی یہاں گھومتی پھرتی محسوس کی جاسکتی ہے۔ آوارہ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ اس کی ماں بچپن میں چاٹی میں مدھانی ڈال کر اسے شیخ فرید کا کلام سناتی۔ آوارہ کی کتاب، "بجلی دی کڑک” پر برطانوی حکومت نے پابندی عائد کردی ۔ مگر برطانوی حکومت درشن سنگھ آوارہ کے خیالات اور آدرشوں پر پابندی عائد نہ کرسکی اور اس نے "بغاوت” کے عنوان سے ایک اور کتاب لکھ ڈالی۔ تقسیم کے بعد درشن سنگھ آوارہ ہندوستان چلے گئَے اور بعد میں ۱۹۵۴ میں پاکستان آئے اور پھر ایک بار اس کے بعد بھی۔ میرے چچا اشفاق شاہ بتاتے ہیں کہ درشن سنگھ آوارہ جب پاکستان آئے تھے تو وہ اپنے والد کے ہمراہ ان سے ملے تھے۔

تقسیم کے بعد آوارہ اپنی جنم بھومی دیکھنے کے لیے پاکستان آئے تو ان کےاعزاز میں  کالا گجراں میں ایک خصوصی جلسہ اور مشاعرہ بھی منعقد کیا گیا۔ سنا ہے پاکستان سے روانگی  کے بعد درشن سنگھ آوارہ نے مشرقی پنجاب کے شہر جالندھر میں آباد ہوئے اور ان کا ایک بیٹا بھی تھا جو بعد میں کینیڈا چلا گیا۔ گوگل اور یوٹیوب کے اس دور میں درشن سنگھ آوارہ کے بارے میں کچھ بھی موجود نہیں۔ وکی پیڈ یا کے کمزورحوالوں کی ویب سائیٹ پر البتہ کچھ ذکر موجود ہے ۔ کالا گجرا ں بازار جاوں تو آوارہ اپنی طویل نظم کا ایک حصہ سناتے دکھتے ہیں،

او مندر دی ولگن وچ مجبور ربا!
مسیتی چکا ہندے وچ محصور ربا!
او گرجے دی ٹیشی تے مغرور ربا!
انجیلاں قرآناں دے مشہور ربا!

تیرے نال دو گلاں کرنے تے جی ہے

تے اج میرا دل پھول دھرنے تے جی ہے

میں سنیۓ توں حجاں۔نمازاں تے ٹھیناں ایں
توں سنکھاں تے ٹلی جیہے سازاں تے ٹھیناں ایں
خوشامد۔چڑھاوے۔نیازاں تے ٹھیناں ایں
توں بانگاں تے اچیاں آوازاں تے ٹھیناں ایں

سنے کوک گنگیاں غریباں دی جیہڑا

اوہ کس تھاں تے وسدا اے اوہ رب ہے جیہڑا

 

اسی گاوں میں برصغیر کے معروف ٹریڈ یونینسٹ مرزا ابراھیم کا گھر بھی موجود ہے ۔ مرزا تقسیم سے پہلے متحدہ ہندوستان کی ریلوے یونین کے جنرل سیکرٹری تھے۔ پورا ہندوستان ان کی کال پر جام ہوجاتا۔ ۔ دہلی کی سیاست میں مرزا کا ایک نام تھا۔ وہ اپنے وقت کے معروف سیاستدان وی وی گری کے ساتھ کام کرتے رہے جو بعد میں بھارتی صدر بھی رہے ۔ تقسیم کے بعد بھی ریلوے میں مرزاکا طوطی بولتا تھا ۔ لوگ آج بھی انہیں یاد کرتے ہیں۔ میرا کراچی جانا ہوا تو جیونیوز سے منسلک پیارے دوست کامران رضی کے والد معروف ٹریڈ یونینسٹ منظور رضی سے ملاقات ہوئی ۔ انہوں نے مرزا ابراہیم سے وابستہ قصے سنا ئے تو پتہ چلا کہ کتنا عظیم شخص کالا گجراں میں گمنامی کی موت مر گیا۔ سنا ہے مرزا ابراہیم کے بچے بیرون ملک جاچکے۔ پتہ نہیں ان کے پاس مرزا کی یادوں کے کیا کیا خزانے ہوں گے؟

کالا گجراں ہندوستان اور پاکستان میں ایک اور حوالے سے بھی جانا جاتا ہے ۔ یہ جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ کی جنم بھومی بھی ہے۔ اروڑہ مشرقی پاکستان میں جنرل نیازی کے مقابلے میں بھارتی فوج کے کمانڈر تھے۔ یہ وہی کمانڈر ہیں جنہوں نے جنرل نیازی سے ہتھیار ڈالنے کے معاہدے پر دستخط کروائے۔ اروڑہ محلے میں تقسیم سے پہلے تعمیر کیے گئے گھر اب تک اس جنگجو فوجی کے بچپن کو آوازیں دیتے ہیں۔

کالا گجراں سے نکلیں تو جہلم شہر کم و بیش دو کلومیڑ دوررہ جاتا ہے ۔ غالبا ۱۹۸۴ تک ، ضلع چکوال بھی جہلم کی ہی ایک تحصیل تھا۔ اسطرح اس ضلعے کا بڑا رقبہ تھا۔ انتظامی مجبوریوں کے تحت جہلم کی تقسیم کردی گئی ۔ میری جب بھی کسی چکوال کے رہائشی سے ملاقات ہوتی ہے تو میں ان سے مذاق کرتا ہوں کہ دراصل چکوال جہلم کا بنگلہ دیش ہے ۔ فرق اتنا ہے کہ بنگلہ دیش لڑ کر آزاد ہوا تھا اور جہلم نے پیار سے اسے جدا کردیا۔ بھارت کے دو وزرااعظم منموہن سنگھ اور اندر کمار گجرال جہلم سے تعلق رکھتے تھے۔ گجرال جہلم شہر سے جبکہ منموہن سنگھ کا تعلق گاہ گاوں سے ہے جو آجکل چکوال کی حدود میں آتا ہے ۔ مجھے کسی دوست نے بتایا ہے کہ معروف بھارتی فلم سٹار سنجے دت  کے والد سنیل دت بھی اسی شہر کے باسی رہے۔ تقسیم نے دیگر خاندانوں کی طرح انہیں بھارت دھکیل دیا۔

جہلم کا ذکر ہواور پنجابی شاعر جوگی جہلمی کا ذکر نہ ہو تو یہ بھی زیادتی ہے۔ جوگی کی شاعری میں بھگوان بستا ہے ۔ وہ شعر نہیں کہتا زندگی کے اصول بتاتا ہے ۔  اللہ دتہ عرف جوگی جہلمی پیدا تو کھڑی شریف آزاد کشمیر میں ہوامگر بچپن میں ہی جہلم آ بسا ۔ پنجابی شاعری میں جہلم اسکی اور وہ جہلم کی شناخت ہے ۔ جوگی لکھتا ہے

مال نال زندگی نہ با ل نال زندگی

ناں ماں پیاں دے نال تے ناں زال نال زندگی

زندگی تے موت جوگی دویں ہی کوئی چیز نئیں

خیال نال موت  ہے  خیال نال  زندگی

 

آج کے دور میں بھی جہلم اور اس کے باسیوں میں آوارہ کی مزاحمت، گلزار کی مجبت ، مرزا کی جدوجہد اور جوگی کا کردار بستا ہے ۔ اس دور میں جہلم کی نئی نسل کو ادب شاعری اور تاریخ کے اسلوب سکھانے والے جہلم کے اساتذہ بھی بڑے اہم ہیں۔ ان میں سے ایک امیرسلطان ہیں جو آجکل موٹا غربی نامی گاوں میں ہیڈ ماسٹر ہیں۔  آج کے دور میں ان جیسے اساتذہ کو سلام پیش کرنا چاہیے جو مخدوش حالات اور شہر سے دور تعیناتی کے باوجود من سے نئی نسل کو تعلیم دیتے ہیں۔ جہلم گیا تو الیاس صادق ، خالد بٹ اور سہیل کے ہمراہ چائے تو پی مگر امیرسلطان صاحب سے نہ مل سکا۔

جہلم سے واپس آیے دوہفتے گذرگئے مگر دل اب بھی جہلم میں ہی ہے ۔ آپ جدھر بھی جائیں مجبت آپ کے ساتھ ہی ہوتی ہے ۔

بشکریہ جنگ

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button