مستقبل کا لائحہ عمل

عمار مسعود کا کالم بغیر سنسر کے

کسی بھی ٹاک شو میں چلیں جائیں یا اس بحث کا نظارہ ٹی وی پر دیکھ لیں جو ہر روز شام سات بجے سے رات گئے تک چینلوں پر ہو رہی ہوتی ہے اس میں سوائے الزام تراشی کے کچھ نہیں ملتا ۔ ہر کسی کو دوسرے سے شکوہ ہے ۔ وہ سیاسی جماعتیں جو اپوزیشن میں ہیں ان کو حزب اقتدار سے شکوہ ہے ۔ جو اقتدار میں ہیں ان کو اپوزیشن سے اختلاف ہے۔ اپوزیشن کی اپنی جماعتیں بھی جا بجا ایک دوسرے سے روٹھ کر بیٹھ جاتی ہیں۔ ماضی کے وہ قصے سرعام لے آتی ہیں جو اب قصہ پارینہ ہو چکے ہیں ۔ جمہور کی قوتیں غیر جمہوری قوتوں پر الزام تراشی کرتی ہیں اور غیر جمہوری قوتیں عوام کے لیڈروں کی رعونت اور کرپشن کی رام کہانی سنانا شروع کر دیتی ہیں۔ اس ساری سعی لاحاصل سے کچھ فائدہ نہیں ہو رہا۔ بحث برائے بحث سے ایک اور بحث کا آغاز تو ہو سکتا ہے مگر اس سے کسی نتیجے پر پہنچنا ناممکن ہے ۔ نتیجے پر پہنچنے کے لیئے تفکر کی ضرورت ہوتی ہے، سنجیدہ لائحہ عمل اختیار کرنا پڑتا ہے مگر اس کی فرصت کسی کے پاس نہیں ہے۔ سب ہی اس آپا دھاپی میں اس بری طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ اس سے مفر ممکن نظر نہیں آتا ۔ استدالال کی فرصت کسی کے پاس نہیں ہے ۔ ماضی کی رنجشیں مٹانے کا حل کوئی دریافت ہی نہیں کرنا چاہتا ۔ یہاں الزام کے جواب میں الزام کی سہولت سب کو میسر ہے اور سب ہی اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ہر روز کے اس مباحثے میں ہمیں اس بات کا ادراک ہی نہیں رہتا کہ دلیل کا جواب الزام نہیں ہوتا ۔ الزام کا جواب بھی الزام نہیں ہوتا ۔ اس معرکے میں ہر روز شہادت سچائی کی ہوتی ہے اور اونچا بولنے والوں کی آواز روز بروز بلند سے بلند تر ہوتی رہتی ہے ۔ نتیجہ پھر بھی کوئی نہیں نکلتا۔
فرض کیجئے ہم ایک لمحے کے لئے اس ملک کی غیر تابناک سیاسی تاریخ بھلا دیں۔ بھول جائیں اس بات کو کہ جو کچھ آج ہو رہا پہلے بھی نام بدل کر ہو چکا ہے۔ بھلا دیں اس حقیقت کو کہ آج کے ظالم کل کے مظلوم رہ چکے ہیں اور کل کے ظالم آج کیونکر مظلوم بنے ہوئے ہیں۔ بھول جائِیں کہ اس ملک میں تین دفعہ مارشل لاء لگ چکا ہے۔ اس کے بعد بھی سیاسی قوتیں غیر سیاسی قوتوں کے اشاروں پر ناچتی رہی ہیں۔ بھول جائیں کہ ہمارے بطن کا ایک حصہ ہم سے جدا ہو چکا ہے۔ بھول جائِیں کہ ایک عوامی لیڈر پھانسی پر جھول چکا ہے۔ بھول جائِیں وہ سارے غلط فیصلے جو انصاف کے در سے ہمیں تفویض ہو ئے ہیں۔ بھول جائِں پی سی او کے ججز کو۔ بھول جائِیں ان سیاستدانوں کو جنہوں نے دوسری سیاسی جماعتیوں پر کیچڑ اچھالنے کی روایت ڈالی تھی۔ بھو ل جائِیں ان سیاستدانوں کو جنہوں نے اس پارلیمان کی تضحیک کو وطیرہ بنایا تھا۔ بھول جائیں ان بیوروکریٹس کو جنہوں نے اپنی تجوریاں بھرنے کے چکر میں ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ بھول جائیں سول ملٹری تعلقات کی بحث کو۔ بھول جائیں جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کی تخصیص کو۔ بھول جائیں ان سیاسی کارکنوں کو کہ جنہوں نےا پنے خون سے اس ملک کی جمہوریت کو سینچا ہے۔ بھول جائیں ان ڈکٹیٹروں کو جنہوں نے آئیِن کو پامال کیا۔ بھول جائیں ان مفاد پرست سیاستدانوں کو جنہوں نے ان ڈکٹیٹروں کے ہاتھ مضبوط کیئے۔ بھول جائیں ان نااہل سیاستدانوں کو جنہوں نے اپنی ناہلی پر پردہ ڈالنے کے لیئے الزام کی سیاست کو اپنایا۔ بھول جائیں ان شدت پسندوں کو جو ہمارے غلط فیصلوں کی بناء پر اب ہماری سیاست کے جزو لازم ہو چکے ہیں۔ سوال یہ ہےاگر ہم یہ سب بھول جائیں اور تاریخ کی سلیٹ کو باکل صاف کر کے آگے بڑھنا چاہیں تو ہمارے پاس کیا رستہ ہے ۔
دنیا کے کسی بھی مسئلے کا حل بحث و تمحیض سے نکالا جا سکتا ہے۔ دنیا اسی طرح آگے بڑھی ہے۔ ملکوں نے اپنی درست سمت اپنانے کے لیئے مباحثے کو فروغ دیا ہے۔ کج بحثی سے وقت تو کٹ سکتا ہے ملکوں کی تقدیر نہیں بدل سکتی۔ منزل پر پہنچنے کے لیئے درست اقدامات کی درست سمت میں ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے ساتھ جو ہو چکا ہے الزام تراشی کی روش اب اس ماضی کو واپس نہیں لا سکتی۔ اب گئے سانپ کی لکیر پیٹنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ پاکستان میں ہمارے ماضی نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ اقتدار میں آکر لوگ سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ تاریخ تک یاد نہیں رہتی۔ مگر اس ملک کا المیہ یہ ہے کہ یہاں تاریخ اپنے آپ کو بہت تواتر سے دہراتی ہے۔ اب ماضی کے تلخ فیصلوں کو بھولنے کے لیئے حال میں درست سمت متعین کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کو اس وقت ایک ایسے مفاہمتی کمیشن کی ضرورت ہے جہاں سارے سٹیِک ہولڈرز ایک مقام پر اکھٹے ہوں ۔ اس کمیشن کا مقصد اختلاف نہیں اتفاق ہو۔ الزام تراشی نہیں بلکہ درست سمت ہو۔ اس کمیشن کا قیام پارلیمنٹ کے زیر اہتمام ہو۔ جمہوری اور غیر جموری قوتوں کے چنیدہ مفکرین اس کمیشن پر اتفاق کریں ۔ عدلیہ کے نمائندے بھی اس کا حصہ بنیں۔ فوج بھی اس کمیشن کا جزو ہو۔ تمام سیاسی جماعتوں کو اس کمیشن کا سٹیک ہو لڈر تسلیم کیا جائے۔ تحریک انصاف کی سیاسی حیثیت کو تسلیم کیا جائے۔ دوسری سیاسی جماعتوں کو بھی توقیر دی جائے۔ اس ٹروتھ اینڈ ری کنسلیشن کمیشن میں ماضی کی تمام غلطیاں تسلیم کی جائیں۔ اپنے اپنے حصے کا بار اس نیت سےاٹھایا جائےکہ اس گھمبیر صورت حال کو سلجھایا جا سکے۔ تما م سٹِیک ہولڈر اس کمیشن میں اپنی معروضات پیش کریں اپنے اپنے دفاع میں دلائل دیں اپنے اپنے شعبے یا جماعت کا دفاع کریں ۔ اس کمیشن میں پارلیمان کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ ماضی کی چیرہ دستیوں کو بھلا کر آگے کی جانب دیکھنے کا حوصلہ پیدا کرے۔ سب کو انکا منصب اور مقام دیا جائے۔ اس ملک سے جمہوری اور غیر جمہوری کی بحث کو ختم کیا جائے۔ پارلیمان کی حیثیت کو سپر یم تسلیم کیا جائے۔ عوامی نمائندوں کو توقیر دی جائے۔ عدلیہ اور افواج پاکستان کو انکے حصے کی اہمیت ضرور دی جائے مگر پارلیمان کی بالادستی پر سمجھوتہ نہ کرنے کی قسم کھائی جائے۔ پہلی فرصت میں نیب جیسے منتقم المزاج ادارے کا خاتمہ کیا جائے ۔ آئین میں سے باسٹھ، تریسٹھ کی ہولناک شقیں ختم کی جائیں۔یہ سب کچھ کرنے کے لیئے تمام سٹیک ہولڈرز سے نہائت نیک نیتی درکار ہے۔ خلوص درکار ہے۔ اگر تمام سٹیک ہولڈرز ان اقدامات پر اتفاق کریں تو اگلا قدم ری الیکشن ہونا چاہیئے کیونکہ اس دفعہ کے متنازعہ الیکشن کے نتیجے میں بہت سی بدگمانیوں نے جنم لیا ہے۔ عوام کاانکے ووٹ سے بہت اعتماد اٹھا ہے۔ اس لیئے فوری طور پر نئے الیکشن کا اعلان کیا جائے ۔ ایسے الیکشن جس میں غیر جمہوری قوتوں کا کوئی عمل دخل نہ ہو۔ کسی سیاسی جماعت کو نشان عبرت نہ بنایا جائے۔ کسی سیاسی جماعت کو لاڈلا نہ تصور کیا جائے۔ تمام سیاسی جماعتوں میں سے کسی کی قیادت پابند سلاسل نہ ہو۔ لیڈر یا جماعتیں مخلص ہیں یا کرپٹ اس کا فیصلہ عوام کو کرنے دیا جائے۔ اور شفاف، آذاد، منصفانہ اور غیر جانبدار الیکشن میں عوام کے ووٹ سے جو بھی منتخب ہو اس کی برتری کو تسلیم کیا جائے۔ آگے بڑھنے کا یہی رستہ اب ہمارے پاس بچا ہے۔ مجھے ادراک ہے موجودہ حالات میں بہت سے لوگ اس مفاہمتی کمیشن کے قیام اور ری الیکشن کو مجذوب کی بڑ قرار دیں گے لیکن جو جغرافیائی، معاشی، سیاسی اور سماجی حالات اب ہو چکے ہیں اس میں ملکی سالمیت اور بقاء کے لیے یہ واحد لائحہ عمل بچا ہے۔ اس کے سوا امید کی ہر کرن، ہر محاذ پر ڈوبتی نظر آتی ہے ۔

اس ملک سے جمہوری اور غیر جمہوری کی بحث کو ختم کیا جائے ۔ پارلیمان کی حیثیت کو سپریم تسلیم کیا جائے ۔ عوامی نمائندوں کو توقیر دی جائے ۔ عدلیہ اور افواج پاکستان کو انکے حصے کی اہمیت ضرور دی جائے مگر پارلیمان کی بالادستی پر سمجھوتہ نہ کرنے کی قسم کھائی جائے۔ پہلی فرصت میں نیب جیسے منتقم المزاج ادارے کا خاتمہ کیا جائے ۔ آئین میں سے باسٹھ، تریسٹھ کی ہولناک شقیں ختم کی جائیں ۔ یہ سب کچھ کرنے کے لیئے تمام سٹیک ہولڈرز سے نہائت نیک نیتی درکار ہے۔ خلوص درکار ہے ۔ اگر تمام سٹیک ہولڈرز ان اقدامات پر اتفاق کریں تو اگلا قدم ری الیکشن ہونا چاہیئے کیونکہ اس دفعہ کے متنازعہ الیکشن کے نتیجے میں بہت سی بدگمانیوں نے جنم لیا ہے۔ عوام کاانکے ووٹ سے بہت اعتماد اٹھا ہے۔ اس لیئے فوری طور پر نئے الیکشن کا اعلان کیا جائے ۔ ایسے الیکشن جس میں غیر جمہوری قوتوں کا کوئی عمل دخل نہ ہو۔ کسی سیاسی جماعت کو نشان عبرت نہ بنایا جائے ۔ کسی سیاسی جماعت کو لاڈلا نہ تصور کیا جائے۔ تمام سیاسی جماعتوں میں سے کسی کی قیادت پابند سلاسل نہ ہو۔ لیڈر یا جماعتیں مخلص ہیں یا کرپٹ اس کا فیصلہ عوام کو کرنے دیا جائے۔ اور شفاف، آذاد، منصفانہ اور غیر جانبدار الیکشن میں عوام کے ووٹ سے جو بھی منتخب ہو اس کی برتری کو تسلیم کیا جائے۔ آگے بڑھنے کا یہی رستہ اب ہمارے پاس بچا ہے۔ مجھے ادراک ہے موجودہ حالات میں بہت سے لوگ اس مفاہمتی کمیشن کے قیام اور ری الیکشن کو مجذوب کی بڑ قرار دیں گے لیکن جو جغرافیائی ، معاشی ، سیاسی اور سماجی حالات اب ہو چکے ہیں اس میں یہ ملکی سالمیت اور بقاء کے لیے یہ واحد لائحہ عمل بچا ہے۔ اس کے سوا امید کی ہر کرن ، ہر محاذ پر ڈوبتی نظر آتی ہے ۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے