فیصلے پر عمل مگر نہیں ہوگا؟

سپریم کورٹ سے اے وحید مراد

اکتوبر 2012 میں دیے گئے تاریخی فیصلے پر تاحال عمل نہیں ہو سکا اور اس کیلئے اٹھنے والے قدم رک چکے ہیں ۔ ایسے میں درخواست گزار اصغر خان کی وفات کے بعد ان کے ورثاء ملک کی سب سے بڑی عدالت پہنچے ۔ اصغر خان کی بیوہ اور ان کے بیٹے علی اصغر کیس کا نمبر پکارے جانے پر روسٹرم کے سامنے کھڑے ہوئے ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے اصغر خان کے وکیل سلمان اکرم راجا کو مخاطب کرکے کہا ‘سلمان، اتنی بڑی کوشش تھی ان(اصغر خان) کی ۔ ان کی زندگی بھر کی جدوجہد تھی، یہ بہت بڑا کام تھا، فیصلہ بہت دیر بعد آیا، بہت اچھا فیصلہ ہے اور اب اس پر عمل درآمد کا مرحلہ آیا تو ایف آئی اے کا یہ جواب ہے کہ مزید کچھ نہیں ہو سکتا’ ۔

چیف جسٹس نے اپنی بات جاری رکھی، بولے کہ یہ ہم نے نہیں کیا، ہو سکتا ایف آئی اے نے نیک نیتی سے یہ سمجھا ہو مگر کیا اس پر عمل کرانے کا کوئی اور طریقہ نہ تھا؟ سلمان اکرم نے کہا کہ یہ فیصلہ اور اس پر عمل جمہوری عمل کی بقا کیلئے اور اس کو شفاف بنانے کیلئے ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس کا مقصد صرف دو لوگوں کے خلاف کارروائی نہ تھا، سیاسی لوگوں پر جو افراد باہر سے اثرانداز ہوتے ہیں ان کو روکنے کیلئے تھا ۔ وکیل سلمان اکرم نے کہا کہ اس کے ذریعے سیاسی نظام کو درست کرنا تھا، کیا سیاسی اور فوجی حکام کا الگ الگ ٹرائل ہونا ضروری ہے؟ کیونکہ ہمیں نہیں پتہ کہ بند فوجی دروازوں کے پیچھے کیا ہوتا ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ فیصلے کے بعد ملوث فوجی افسران کے خلاف کارروائی کیلئے کابینہ نے جی ایچ کیو سے کہا، اس کی بھی رپورٹ آنا چاہئے ۔ وکیل نے بتایا کہ درخواست گزار اصغر خان کا پورا خاندان یہاں کھڑا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ بھی اس خاندان کے پیچھے کھڑی ہے ۔ اب ایف آئی اے کہتی ہے کہ فوجی افسران کے ایڈریس نہیں ملے، کیا بریگیڈیئر سعید اختر امریکا چلے گئے؟ ان کا بیان کیوں نہیں لیا جا سکا؟

ایف آئی اے ڈی جی بشیر میمن نے بتایا کہ وہ پاکستان میں ہی ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جو صاحب امریکا چلے گئے وہ کون ہیں؟ ۔ ڈی جی نے جواب دیا کہ اقبال نام کے فوجی افسر تھے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس کی تفتیش و تحقیق ہونا چاہیے ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ جس دن یہ فیصلہ آیا، اسی دن چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے جا کر ان کے چیمبر میں ملا اور کہا کہ اگر آج کے بعد سپریم کورٹ کچھ بھی نہ کرے تو یہ فیصلہ ہی اس ادارے کیلئے کافی ہے ۔ وکیل سلمان اکرم نے کہا کہ بلاشبہ اصغر خان اور آسیہ بی بی مقدمات کے فیصلے پاکستان کی عدالتی تاریخ کے سب سے بڑے فیصلے ہیں، یہ اس ملک کی آئینی تاریخ میں اہم واقعات ہیں ۔ وکیل نے کہا کہ ایف آئی اے نے عمل درآمد کرتے ہوئے کسی ملوث شخص کو انٹرویو تک نہیں کیا ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم سب کو بتانا چاہتے ہیں کہ سارے ادارے سپریم کورٹ کے تابع ہیں، سیکرٹری دفاع کو بلا کر پوچھ لیتے ہیں ۔ وکیل نے بتایا کہ معاملے میں ملوث فوجی افسران دنیا بھر میں گھومتے ہیں، کتابیں لکھتے ہیں اور انٹرویو دیتے ہیں ۔

اصغر خان مرحوم کے بیٹے علی اصغر نے عدالت میں ایک خط پیش کیا، انہوں نے خط کو پڑھا جس میں لکھا تھا کہ یہ ہمارے خاندان نہیں اس ملک کے کروڑوں لوگوں کا مقدمہ ہے، یہ ہمارے کالونیل آقاؤں کے بڑے کھیل کے خلاف ہمارا کیس ہے، یہ فوج کے ادارے کی ساکھ چند بے مہار افراد کی جانب سے خراب کرنے کے خلاف درخواست تھی ۔ اس کا فیصلہ 19 اکتوبر 2012 کو آیا تھا مگر تاحال اس پر عمل نہ کیا جا سکا۔

علی اصغر کے دو صفحات پر مشتمل خط کو سننے کے بعد چیف جسٹس نے ایف آئی اے کے ڈی جی سے کہا کہ اپنی رپورٹ دیں ۔ بشیر میمن نے رپورٹ پڑھ کر بتایا کہ فیصلے میں کل دس سیاست دانوں کے خلاف کارروائی شروع کرنے کا مینڈیٹ ہمیں دیا گیا تھا، ان دس میں سے چھ وفات پا چکے ہیں، باقی چاروں کہتے ہیں کہ ہم نے پیسے نہیں لئے ۔ ملوث افسران کہتے ہیں کہ کس کو دیے یاد نہیں، حامد سعید سے پوچھا تو ان کا جواب تھا کہ یاد نہیں پیسے ہم تک کس افسر نے پہنچائے تھے ۔ جنرل اسد درانی نے کہا کہ یاد نہیں پیسے کس ذریعے سے دیئے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ انہوں نے عدالت میں جمع کرائے بیان حلفی میں تسلیم کیا تھا ان سے دوبارہ پوچھنے کی ضرورت نہیں تھی ۔ ڈی جی نے کہا کہ فوجداری نوعیت کی کارروائی کیلئے دستاویزی ثبوت اور منی ٹریل نہیں ہے، اس کے بغیر استغاثہ کیس دائر ہی نہیں کر سکتا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایف آئی اے نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو استعمال کیوں نہ کیا؟ ڈی جی نے بتایا کہ فیصلے میں لکھا ہے کہ 40 ملین جی ایچ کیو سے لئے اور ایم آئی کوئٹہ تک بھی رقم پہنچائی گئی ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جنرل اسد درانی تو کئی بار اس پر معذرت خواہانہ انداز میں بات بھی کر چکے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بریگیڈئیر حامد سعید سے کیوں نہیں پوچھا؟ ڈی جی نے جواب دیا کہ وہ کہتے ہیں کہ بالکل پیسے دیے مگر یہ یاد نہیں کہ کس کو دیے، اب وہ بزرگ آدمی ہیں ۔

سرکاری وکیل عامر رحمان نے عدالت کو بتایا کہ مجھے ہدایات ملی ہیں کہ ملوث فوجی افسران کے خلاف کورٹ آف انکوائری میں کارروائی جاری ہے ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کس کس کے خلاف کیا کارروائی ہو رہی ہے اس کی تفصیل حاصل کر کے آگاہ کریں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر اس فیصلے کو ضائع کر دیا تو جو کچھ اب تک حاصل کیا اور جو مستقبل میں حاصل کرنا ہے سب ختم ہو جائے گا ۔ جب یہ تسلیم کیا گیا کہ 40 ملین کس ادارے کو پہنچائے تو اس ادارے کے کسی افسر سے پوچھ گچھ کیوں نہیں کی گئی ۔ ایف آئی اے والے اپنا کام خود کیوں نہیں کرسکتے؟

چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کا ادارہ میرے جانے کے بعد بھی اسی انہماک اور زور و شور سے کام کرے گا، ہر شخس نے جانا ہوتا ہے ۔

اس کے بعد عدالت نے حکم نامہ لکھوایا کہ ‘ عدالت ایف آئی اے کی انکوائری بند کرنے کی وجوہات سے مطمئن نہیں کہ ان کو مواد نہیں مل سکا جن کی بنیاد پر کسی شخص کے خلاف کارروائی کر سکتے، عدالت سمجھتی ہے کہ اس کیس میں تفتیش کا دائرہ بڑھانا چاہئے اور مواد اکھٹا کرنا ضروری ہے تاکہ استغاثہ کا مقدمہ بن سکے ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں دی گئی ٹرمز آف ریفرنسز میں ایف آئی اے کی تفتیش کا دائرہ محدود ہے ۔ اس سیاق و سباق میں درخواست گزار کے خاندان کی جانب سے وکیل نے بتایا کہ عدالتی فیصلے میں ملزمان کے خلاف کارروائی کیلئے تمام تفصیل موجود ہے اسی وجہ سے نظرثانی درخواستیں بھی خارج کی جا چکی ہیں، درخواست گزار نے کیس بند کرنے کی سختی سے مخالفت کی ہے، اس پر ایف آئی اے جواب دے ۔ سیکرٹری دفاع پیش ہوں، ان کو نوٹس جاری کیا جاتا ہے ۔

بتایا جائے کہ ملوث فوجی افسران کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟ کیا طریقہ کار اختیار کیا گیا اور اس فیصلے کے سامنے آنے کے بعد کیا نتائج اخذ کئے گئے ۔ یہ تمام معلومات سپریم کورٹ کو ایک ہفتے میں فراہم کی جائیں تاکہ یہ مقدمہ آگے بڑھے اور عمل درآمد سرد خانے میں نہ پڑ جائے ۔

عدالت نے پہلے مقدمہ سترہ تاریخ تک ملتوی کیا ۔ پھر سرکاری وکیل نے استدعا کی کہ مہلت بڑھائی جائے کیونکہ اس پر ہمیں کام کرنا پڑے گا ۔ چیف جسٹس نے 22 تاریخ کر دی ۔ پھر استدعا ہوئی تو 25 تاریخ دے دی گئی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button