نواز شریف کے خلاف نیب اپیلیں خارج

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بنچ نے نواز شریف، مریم اور صفدر کی ایون فیلڈ ریفرنس میں سزائیں معطل کرنے کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر قومی احتساب بیورو نیب کی اپیلیں خارج کر دی ہیں ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس گلزار احمد، جسٹس مشیر عالم اور جسٹس مظہر عالم پر مشتمل پانچ رکنی بنچ نے نیب کے پراسیکیوٹر اکرم قریشی اور نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کے مختصر دلائل سنے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق آدھے گھنٹے کی سماعت میں تین ججوں کی جانب سے چند سوالات پوچھے گئے جبکہ کچھ آبزرویشنز بھی دی گئیں ۔

اپیلیں خارج کرنے کا مختصر فیصلہ سنانے سے قبل چیف جسٹس ثاقب نثار نے نیب کے پراسیکیوٹر سے پوچھا کہ ان کے پاس نواز شریف اور مریم کی ضمانتیں منسوخ کرانے کیلئے قانونی بنیاد اور دلائل کیا ہیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق جسٹس آصف کھوسہ نے پوچھا کہ اگر ملزمان ضمانت حاصل کر کے اس کا غلط استعمال کریں تب منسوخی کیلئے عدالت سے رجوع کیا جاتا ہے، بدقسمتی سے وہ دوسرے مقدمے میں سزا کے بعد جیل میں ہیں ۔

نیب کے پراسیکیوٹر اکرم قریشی نے کہا کہ سپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں قرار دے چکی ہے صرف ناگزیر حالات میں سزا معطل کر کے ضمانت دی جا سکتی ہے، ہائیکورٹ نے سزائیں معطل کرکے ضمانت دیتے ہوئے قانون کا درست اطلاق نہیں کیا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ہائیکورٹ نے درست طریقے سے ضمانت نہیں دی تو کیا ہم بھی اسی طرح غلطی کرکے بغیر کسی قانونی وجہ کے ضمانت منسوخ کر دیں؟ ۔

جسٹس آصف کھوسہ نے نیب کے پراسیکیوٹر کو مخاطب کرکے کہا کہ اپنے پاؤ گوشت کیلئے یہ کرنا چاہتے ہیں، شیکسپئر کے ناول مرچنٹ آف وینس کا حوالہ دوں گا مگر پھر مجھ پر ناول کا الزام لگ جائے گا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق جسٹس گزار احمد نے کہا کہ چین میں وائٹ کالر کرائم/کرپشن کا سمری ٹرائل ہوتا ہے اور فائرنگ اسکوڈ کے سامنے کھڑے کرکے گولی مار دی جاتی ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button