پنجاب حکومت کی اہلیت نہیں

چیف جسٹس ثاقب نثار نے زیر زمین پانی کی قیمت کے تعین کے کیس میں پنجاب حکومت کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی پانی کے معاملے پر کام کرنے کی نہ نیت ہے نہ قابلیت ہے ۔

سپریم کورٹ میں زیر زمین پانی کی قیمت اور بہتری لانے کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پانی نایاب ہونا شروع ہو گیا ہے، بعد میں سونے کی قیمت پر بھی نہیں ملے گا، عدالت نے منرل واٹر اور مشروبات کی صنعت کیلئے پر زیر زمین پانی کی قیمت کا تعین کیا، لاء اینڈ جسٹس کمیشن نے بھی محنت سے منصوبہ بنا کر دیا، تاہم حکومت کی جانب سے تا حال کوئی عملدرآمد نظر نہیں آیا ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کی پانی کے معاہدہ پر کام کرنے کی نہ نیت ہے اور نہ ہی قابلیت ہے، لاء اینڈ جسٹس کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد نہیں ہو رہا، معاملہ وزیراعلی یا چیف سیکرٹری کے پاس چلا جاتا ہے، پھر معاملے پر ذیلی کمیٹی بن جاتی ہے، اسی طرح یہ سارا کام کاغذوں کی نذر ہو جائے گا، کیا لوگوں کو پیاسا مار دینا ہے؟، کچھ کہہ دو تو کہا جاتا ہے کہ سوال اٹھا دئیے ہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ گوادر میں پانی نہیں مل رہا، مصروفیات کے باعث وہاں نہیں جا سکا، حکومتیں بنیادی حقوق کی عملدراری کے لیے کیا کر رہی ہیں، ہمیں ٹھوس اقدامات چاہئیں ۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ بڑی بدقستی ہے کہ لاء اینڈ جسٹس کمیشن کی سفارشات پر مثبت جواب نہیں آیا، اب تک کے اقدامات محض دکھاوا ہیں اور ملک میں پانی کی قلت سے نمٹنے کے لیے حوصلہ افزا نہیں، وفاقی اور صوبائی حکومتیں سفارشات پر شق وار 2 ہفتوں میں جواب دیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کوئٹہ میں زیر زمین پانی کی سطح دو سو فیٹ تک گر چکی ہے اور وہاں خشک سالی کا خطرہ ہے جس کی وجہ سے لوگ نقل مکانی کریں گے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button