نئے چیف جسٹس کا عدالت میں پہلا دن

سپریم کورٹ سے اے وحید مراد

حلف اٹھانے کے بعد چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ پونے بارہ بجے کمرہ عدالت میں داخل ہوئے تو ان کے ہمراہ غیر ملکی مہمان بھی تھے ۔ چار ملکوں کے جج صاحبان چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے ساتھ ججز کی نشستوں پر بیٹھے رہے ۔

چیف جسٹس آصف کھوسہ نے آغاز کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر اٹارنی جنرل، اینڈ ویلکم آل آف یو لیڈیز اینڈ جنٹلمین ۔

اس کے بعد اٹارنی نے روسٹرم پر آ کر چیف جسٹس کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی ۔ انہوں نے نائجیریا کی ریاست برونو کے چیف جج، ترکی کے زیرانتظام قبرص کے جج، انڈیا اور کینیڈا سے تعلق رکھنے والے سابق ججوں کو پاکستان اور سپریم کورٹ میں خوش آمدید کہا ۔

اٹارنی جنرل نے مشکل سے مہمان ججوں کے ناموں کی ادائیگی کی اور کہا کہ امید کرتے ہیں ہمارے مہمانوں کا دورہ پاکستان دنیا کے کسی بھی ملک کے دورے سے بہتر ہوگا ۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے بھی چیف جسٹس کو مبارکباد پیش کی اور غیر ملکی مہمانوں کو خوش آمدید کہا ۔

اس کے بعد چیف جسٹس نے کہا کہ اب عدالتی کارروائی کا آغاز کیا جاتا ہے ۔ چیف جسٹس اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سماعت شروع کی ۔ عدالتی اسٹاف نے پہلے مقدمے کا نمبر اور عنوان پکارا ۔ وکیل نے دلائل کا آغاز کیا تو چیف جسٹس نے کہا کہ درخواست گزار پر منشیات برآمدگی کا الزام ہے، مقدمہ ہے کہ وہ گھر کے باہر کرسی پر بیٹھا تھا جس کے نیچے دو کلو چرس کے دو پیکٹ پڑے ہوئے تھے ۔

وکیل نے کہا کہ دراصل ملزم نور محمد گھر کے باہر نہیں تھا بلکہ گلی میں تھا اور پولیس نے برآمدگی ڈال دی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ چرس گلی میں پڑی ہوئی تھی اور آپ کا موکل وہاں ویسے ہی موجود تھا تو اس دلیل سے ہمارے مہمان بھی اتفاق نہیں کریں گے، اس پر غیر ملکی ججز سمیت کمرہ عدالت میں موجود افراد مسکرا اٹھے ۔

وکیل نے مختلف حوالے دیے تاہم چیف جسٹس جو فوجداری قوانین کے ماہر ہیں انہوں نے اہم سوالات کر کے وکیل کو خاموش کر دیا ۔ ایک سوال یہ تھا کہ کیا آپ نے چرس کے کیمیائی تجزیے اور پیکٹس میں چرس نہ ہونے کا کسی مرحلے پر موقف اختیار کیا ۔ وکیل کی خاموشی پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس مقدار کی منشیات پر سزا کم ہوئی ہے اور اگر آپ کی اپیل سماعت کیلئے باقاعدہ منظور کر لی تو پھر میرٹ پر فیصلہ دیتے ہوئے سزا بڑھائی جا سکتی ہے ۔

وکیل نے کہا کہ ایسا تو میں نہیں چاہوں گا ۔ چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ہم بھی ایسا نہیں کر رہے ۔ اس کے بعد چیف جسٹس نے اپنے مخصوص انداز میں بڑی روانی کے ساتھ حکم نامہ لکھوایا کہ نور محمد کے خلاف تھانہ سٹی میانوالی میں 21 سو گرام چرس برآمدگی کا مقدمہ درج کیا گیا ۔ ٹرائل کورٹ نے چرس کے کیمیائی تجزیے کی رپورٹ، شواہد اور گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد قصوروار قرار دیتے ہوئے ساڑھے چار سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی ۔ ہائی کورٹ نے اس کو برقرار رکھا ۔

سپریم کورٹ بھی یہ سمجھتی ہے کہ ماتحت عدالتوں نے درست فیصلے دیے اور چرس برآمد کرنے والے پولیس اہلکاروں کو ملزم سے کوئی ذاتی عناد نہیں تھا کہ جھوٹے مقدمے میں پھنساتے ۔ اس لئے سزا کے خلاف اپیل کو سماعت کیلئے منظور کرنے کی درخواست خارج کی جاتی ہے ۔

اس کے بعد چیف جسٹس کے سامنے ایک اور ملزم کی ضمانت کا مقدمہ لگا ۔ دلائل کے بعد وکیل نے خود ہی قانونی پوزیشن کو سمجھ کر اپیل واپس لینے کی استدعا کی، یونہی نمٹا دی گئی ۔ چیک ڈس آنر ہونے کے ایک ملزم کو عدالت نے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کیا ۔

اس طرح پہلے دن 35 منٹ میں تین مقدمات نمٹانے کے بعد چیف جسٹس نے عدالت برخاست کر دی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے