اپوزیشن کی جھپی اور وزیراعظم کی پریشانی

شہباز شریف اور آصف زرداری کی جادو کی جھپی ۔۔۔ اور وزیر اعظم پریشان کیوں؟

نوشین یوسف

شہباز شریف اور آصف علی زرداری گلے لگیں گے ، تو عمران خان کو پریشانی تو ہوگی۔ کیونکہ وزیر اعظم بھی ایسی جادو کی جھپیوں کے راز سے بخوبی اگاہ ہیں۔ ماضی میں شہباز شریف نے آصف علی زرداری کوسڑکوں پر گھسیٹنے کی دھمکی دی۔آصف زرداری نے 2009 میں پنجاب میں گورنر راج نافذ کر دیا تھا۔ ایک دہائی تک ایک دوسرے کی مخالفت کرنے والے یک دم 2019 میں قائد حزب اختلاف کے چیمبر میں گلے لگ گئے۔ لیکن سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ ان چھپیوں کے پیچھے بیک ڈور ڈپلومیسی چلتی ہے۔ اس وقت یہ دونوں رہنماء مشکل میں ہیں۔ شہباز شریف پابند سلاسل ہیں اور آصف زرداری کے سرپر کیسز کی تلوار لٹک رہی ہے۔ لیکن حالیہ دنوں میں دونوں رہنماوں کو ریلیف ملا۔ سپریم کورٹ کے زریعے آصف زرداری کو ریلیف دیا گیا، دوسری جانب حکومت نے شدید مخالفت کے بعد اچانک سرینڈر کیا اور پبلک اکاونٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ شہباز شریف کے حوالے کر دی۔ تاہم انسانی عقل یہ ماننے سے قاصر ہے کہ یہ سب قدرتی انداز میں ہواہے۔جولائی 2018 کے عام انتخابات کے بعد بننے والی قومی اسمبلی میں یہ دونوں سیاسی مخالفین پہنچے۔ لیکن ابتداء میں ہی دیکھا گیا کہ شہباز شریف ، آصف زرداری کے ہمراہ ایوان میں داخل ہوئے سابق صدر ایوان میں داخل ہوتے تو قائد حزب اختلاف تقریر کے دوران ہی انھیں ویلکم بھی کر دیتے۔۔ پھر دونوں پر کڑا وقت آیا، شہباز شریف نیب کی زیر گرفتاری میں چلے گئے،اور آصف زرداری کے خلاف جے آئی ٹی کی رپورٹ آئی جس کے بعد انکا نام ای سی ایل میں چلا گیا۔ یہ مجبوریاں ، اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے لیے سب سے موضوں وقت ہوتی ہیں۔
حالیہ ماضی میں بھی اپوزیشن جماعتیں اکھٹے بیٹھیں، لیکن ان پر اس وقت کی حکومتوں نے کبھی زیادہ بوکھلاہٹ کا اظہار نہیں کیا تھا۔ لیکن اپوزیشن کے حالیہ اتحاد سے وزیر اعظم عمران خان کو کچھ زیادہ پریشانی ہوئی ہے۔ وزیر اعظم نے بار بار عزم دہرایا ہے کہ این آر او نہیں دیا جائے گا۔ وزیر اعظم یہ بات کس کو سنا رہے ہیں۔ ۔اپوزیشن رہنماء تو وزیر اعظم کے بیان کا مسکرا کر جواب دے جاتے ہیں کہ وزیر اعظم کو این ار اوکی تعریف معلوم نہیں۔ اس لیے وزیر اعظم کی بے چینی کئی سوالات کو جنم ضرور دیتی ہے۔
پی ٹی آئی حکومت نے جے آئی ٹی رپورٹ میں نامزد ہونے پر فوری طور پر آصف زرداری، بلاول بھٹو ، مراد علی شاہ سمیت پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا۔ اعلی عدلیہ کے جج نے پہلے تو پیپلز پارٹی کی قیادت کے کچن کے بل بھی دکھا دیے۔ لیکن ایک دم سب صورت حال تبدیل ہو گئی۔ عدلیہ کا موقف تبدیل ہوتا دیکھائی دیا، حکومت کے اقدامات پر اس کی سرزنش کر ڈالی۔ یہ سب پی ٹی آئی حکومت کے لیے ایک دھچکے سے کم نہ تھا۔ شائد معصومیت میں پی ٹی آئی سمجھ بیٹھی تھی کہ حکومت اور وہ ایک پیچ پر ہیں۔ لیکن پہلی مرتبہ اس سے برعکس حقیقت انھیں معلوم ہوئی۔ اپنی خفت مٹانے سلسلہ وار انداز میں سرینڈر کیا، اور آخر کام وہ نام جو جلد بازی اور خوشی سے بے قابو ہو کر ای سی ایل میں ڈالے تھے، وہ آہستہ آہستہ کرکے بوجھل دل کے ساتھ ای سی ایل سے ہٹا دیے۔ لیکن اس واقع نے عمران خان پر باور ضرور کرا دیا کہ وہ صرف انکے نہیں بلکہ کسی اور کے بھی ہیں۔
تیزی سے بدلتے موقف اور رویہ میں لچک پتہ دیتی ہے کہ کوئی این آر او کرنے کے لیے بری طرح بے تاب ہے۔ وہ ڈیل بھی چاہتے ہیں اور یہ بھی خواہش رکھتے ہیں کہ تاثر جائے کہ این آر او منت ترلے کے باعث دیا گیا ہے ۔
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی ناتجربہ کاری اور غلطیاں بہت تیزی سے مقتدر حلقوں میں اضطراب پیدا کر رہی ہے۔ خود پی ٹی آئی کی اعلی قیادت کا ٹھنڈا اور سست رویہ اس تاثر کو جنم دیتا ہے کہ حکومت چلانا ان کے بس کا کام نہیں۔ لیکن اس ے لیے انھیں ایک محفوظ راستہ درکار ہو سکتا ہے۔ اگر وہ گھر چلے بھی جائیں تو الزام خفیہ حلقوں کے نہیں بلکہ کسی اور کے سر آئے۔۔ یہ کام کرنے کے لیے موجودہ صورت حال آئیڈیل شکل اخیتار کر سکتی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں اکھٹی ہو جائیں ، جماعتیں بدلنے والے آزاد پنچھی اپوزیشن کے کیمپ میں بیٹھ جائیں۔ اور ایک ان ہاوس تبدیلی کے زریعے موجودہ قومی اسمبلی ایک نیا قائد ایوان منتخب کر لے گی۔ لیکن اس آئینی طریقہ کار کا استعمال کرنے سے اپوزیشن جماعتوں پر ایک دھبا لگ جائے گا، کہ ایک منتخب وزیر اعظم کو پھر سیاسی جماعتوں کی گٹھ جوڑ نے وقت سے پہلے گھر بھیج دیا۔ گھر بھیجے جانے والے وزیر اعظم مظلومی کی داستان بن جائیں گے اور انھیں گھر بھیجنے والی سیاسی جماعتیں ویلن۔ جو مستقبل میں تاہم اس وقت اپوزیشن جماعتوں میں موجود سیاسی قائدین کی سیاسی بسیرت کافی زیادہ ہے، جو ہرگز اپنے اوپر داغ نہیں لگانا چاہیں گی۔ آسانی سے استعمال نہیں ہو پائیں گی۔ لیکن ایک بات نظر آتی ہے کہ اپنے لچکدار رویہ کے باعث شہباز شریف اور آصف زرداری زیادہ قابل قبول ہیں ۔
حالیہ سیاسی منظر نامے میں نواز شریف اور مریم نواز شریف کہیں پس منظر میں ڈالنے کی کوشش جاری ہے ، نواز شریف کی آواز کو جیل کی سلاخوں نے غائب کر دیا ہے ۔ خواہش تو یہ لگتی ہے کہ اگر ان دونوں کو مائنس کردیا جائے ، تو حالیہ مستقبل میں شہباز شریف اور مستقبل میں بلاول زرداری ان کو بہترین انداز میں ریپلیس کر سکتے ہیں ۔ تاہم تاحال ایسا کرنا کچھ مشکل دکھائی دے رہا ہے ، کیونکہ میاں نواز شریف کے ووٹرز ان کا انتظار کر رہے ہیں اور ابھی تک ان کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ یہ سب باتیں عندیہ دیتی ہیں کہ مریم نواز آج بھی مخصوص حلقوں کو قابل قبول نہیں ، اور انھیں قومی سیاست کے افق پر فعال سیاست سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی ۔ مریم نواز کی نااہلی کو قائم رکھنا یقینا انھیں سیاست سے روکنے میں معاون رہے گی ۔
لہذا مائنس نواز شریف اور مریم نواز باقی کے اپوزیشن رہنماء ان کو قبول ہیں ۔
نیز یہ کہ نواز شریف کے حامی اراکین اسمبلی یہ سمجھتے ہیں کہ جن قوتوں نے عمران خان کی کامیابی کے پس پردہ اہم اور اصل کردار ادا کیا وہی قوتیں عمران خان کی ناکامی کو چھپانے کے لئے شہباز شریف اور آصف زرداری کے کندھے پر بندوق رکھ کر عمران خان کو ناکامی کی وجوہات فراہم کرنا چاہتی ہیں۔ لہذا ان ہاؤس تبدیلی لانا بھی تبدیلی کے علمبرداروں ہی کی مدد کے مترادف ہوگا۔
حالیہ کچھ عرصے میں مقتدر حلقوں کی جانب سے بنائے جانے والے زیادہ تر منصوبے کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔ اب وہ اپنے خاموشی کے زریعے کیے گئے طریقہ واردات کو مزید وسط دینے کا موڈ بنا سکتی ہیں۔
اب وزیر اعظم کی حالیہ دنوں میں اضطراب کی وجہ سمجھ میں آتی ہے کیونکہ وہ چوہدری برادرن، شیخ رشید احمد سمیت متعدد رہنماؤں کو ماضی میں یہی جادو کی جھپی لگا چکے ہیں ۔

متعلقہ مضامین