چائینہ کا کشمیر و فلسطین

محمود الحسن واہلہ

یہ 9 ستمبر 2001 کو پانچ ستمبر کے حملوں کے پانچ دن کے بعد کا واقعہ تھا، کہ صدر جارج ڈبلیو بش نے اپنی غیر مقبول  "دہشت گردی کے خلاف جنگ” کا اعلان کیا. دنیا بھر میں دیگر حکومتوں نے اس اقدام  کی تعریف کی لیکن چند ممالک نے ان واقعات کی رفتاراور شدت کوسنجیدگی کے ساتھ لیا جن میں بیجنگ کی چالاک انتظامیہ بھی شامل تھی جس نے خود کو اس حوالے سے منظم کرنا شروع کر دیا۔

سنکیانگ کے وسیع اور خود مختار وسطی ایشیا کے سرحدی علاقے میں ترک بولنے والے مسلم اقلیت کی جانب سے بغاوت کا اشارہ دیا گیا تھا جنہیں مقامی زبان میں ویگورز یا یغورز کہا جاتا ہے – دسویں صدی سے اس صوبے میں ترکی نسبت کے مسلمان آباد ہیں۔ ماوزے تنگ کے دور میں چینی ہان کمیونیٹی نے وسیع پیمانے پر اس علاقے کی طرف ہجرت کی اور دیکھتے دیکھتے وہاں قابض ہو گئے اور مقامی لوگوں کے ساتھ اقلیتی سلوک شروع کر دیا۔ جس کا ظاہر ہے ردعمل آنا شروع ہو گیا۔  یہ وہی صوبہ ہے جس سے سی پیک شروع ہوتا ہے اور چائینہ کی آئندہ تجارت کا انحصار اسی روٹ سے وابستہ ہے تو آپ تصور کر سکتے ہیں کہ چائینہ کا اس علاقے پر مکمل کنٹرول کتنا ضروری تھا حالانکہ 1955 سے اس صوبے کو خود مختار صوبے کی حیثیت حاصل ہے اور علامہ اقبال کے مشہورزمانہ شعر "کاشغر” بھی اسی صوبے کا ہی ایک شہر ہے۔

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے

نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر

چینیوں نے 9/11 کے واقعات کے فورا” بعد کمال مہارت سے اقوام متحدہ کو چند ایسی دستاویزات جمع کرا دی جو کہ مشرقی ترکستان اسلامی تحریک یا ETIM کے متعلق تھی مگر یہ ایسا گروہ تھا جس کے بارے میں لوگوں نے پہلے کبھی کچھ نہ سنا تھا اور نہ ہی کبھی اس کی موجودگی کی تصدیق کی گئی اس مبینہ گروہ کو اسامہ بن لادن کی سربراہی میں دہشت گردی کے نیٹ ورک  اوران کی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کا ایک اہم حصہ قرار دے کر ستمبر 2002 تک اقوام متحدہ اور امریکہ  دونوں نے ای ٹی ایم کو” دہشت گرد تنظیم "کے طور پر درج کروا دیا اور اس علاقے میں اس گروہ کا قلع قمع کرنے کو جواز بنا کر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکی گئی۔  یہ تھا کچھ پس منظر اب ذرا فاسٹ فارورڈ کرتے ہیں اور اب 17 سال بعد اگست میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین کے ایک پینل نے کہا کہ صوبہ سنکیانگ میں مسلمانوں کو "ریاست کے دشمنوں” کے طور پرکیمپوں میں محصور کیا جا رہا ہے اورایک اندازے کے مطابق "تقریبا 1 ملین یوگواریز مسلم کو حراست میں لیکر "انسداد انتہا پسندی کے مراکز” میں قید کر کے ان پر تشدد کیا جاتا ہے اور اسلام کو ایک ذہنی بیماری کا نام دے کر علاج کے طور پر مسلمانوں کی برین واشنگ کی جا رہی ہے اور ماہرین اس کو نسلی صفائی سے بھی تعبیر کر رہے ہیں۔

دس لاکھ لوگوں کو حبس بے جا میں رکھنا اور تشدد کرنا۔  آج کی دنیا میں ایک حیرت انگیز طور پر ایک بہت بڑی تعداد ہے. سنکیانگ میں رہنے والےیوگیریز کی آبادی کے   تناظر میں جو کہ تقریبا 11 لاکھ ہیں یہ تعداد بہت بڑی ہے جس کا مطلب یہ ہےکہ ہر گیارہ میں سے تقریبا دس لوگ حراست میں ہیں، اقوام متحدہ کے مطابق  آج دنیا میں انسانی حقوق کی پامالی کا سب سے بڑا اور سب سے منظم واقعہ ہے ۔

واضح رہے کہ چین نے 9/11 کے بعد سے کئی موقع پر مسلمانوں کیخلاف بدترین کریک ڈاون کیا خاص طور پر، 2009 کی "ہڑتال کی سختی اور سزا” مہم۔ جس میں کم و بیش 200 مسلمانوں کو شہید کیا گیا دراصل  چینی فوج نے مشرقی ترکمانستان سے ملحقہ سکیانگ کے اس خود مختار علاقے پر1949 میں ہی  قبضہ کر لیا  تھا، مگر مسلم تحریکوں کے نتیجے میں چند سال بعد اسے خودمختار صوبے کا درجہ دے دیا۔ بیجنگ سے آزادی یا خودمختاری کا مطالبہ کرنے والوں کو فلسطین اور کشمیر کے مسلمانوں کی طرح ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔  جیسا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اس تازہ ترین اقدام کا مقصد بڑے پیمانے پر مسلمانوں کو ریاست کے  زیر تسلط لانا ہے جس میں لاکھوں افراد کی گرفتاری کی ضرورت تھی تاکہ وہ آزادی اور خودمختاری کے مطالبے سے باز آ جائیں اور چونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر ان پر کسی بھی قسم کا قانونی فریم ورک لاگو نہیں ہوتا لہذا ان کو برین واشنگ اور تشدد کے ذریعے دبایا جا سکے.

چینیوں کو یہ یقین ہے کہ اس طرح مسلمانوں کی بغاوت کو کچل کران کی وفاداری حاصل ہوسکتی ہے یا وہاں پیدا ہونے والی اگلی نسلوں کو اپنے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے مگرماہرین کے مطابق نتائج اس کے برعکس نکلیں گے جیسا کہ دہشت گردی کے نام پر  افغانستان اورعراق میں امریکی موجودگی اور اسرائیل کے فلسطین اور غزہ کے قبضے کرنے کے پیچھے کچھ اور مقاصد تھے ایسے ہی اس صوبے اور منصوبے کے سیاسی مقاصد ہیں۔ اس صوبے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ سکیانگ کی سرحد پاکستان انڈیا روس اور افغانستان سمیت آٹھ ممالک کے ساتھ لگتی ہے اور چونکہ  پاکستان کا سی پیک کا منصوبہ اور کاشغر بھی اسی علاقے میں ہیں اس کے ساتھ ساتھ اس صوبے میں کوئلے اور گیس کے سب سے بڑے زخیرے بھی موجود ہیں۔ اس علاقے کو دہشت گردی کے نام پر زیر عتاب رکھنا جہاں بہت بڑا سانحہ ہے وہاں چایئنہ کیلیے بہت اہم۔

اگرچہ آج کی دنیا میں دہشت گردی کا یا مسلم  نام ہی کافی ہے اور یہ دنیا بھر میں طاقتور حکومتوں کے لئے ایک مفید اوٹ یا ڈھال بن گیا ہےجس کی آڑ میں وہ کسی بھی ملک و قوم کو مغلوب بنا کروہاں کے وسائل پر قابض ہو جاتے ہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ سے جہاں طاقتور ممالک نے فائدہ اٹھایا وہاں چینیوں نے بھی اس گنگا میں خوب اشنان کیا ہے کیونکہ دہشت گردی کی اس جنگی فضا میں انسانی حقوق کی تنظیموں سمیت عالمی برادری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ یوگویز کے عسکریت پسند گروہ محض ایک افسانہ تھے مگر جو چند موجود ہیں وہ نہایت تھوڑے اور کمزور تھے اور چینی ریاست کواتنا نقصان نہیں پہنچاسکتے تھے جس قدر انتقام چینی حکومت ان سے لے رہی ہے۔ یہ کسی بھی قسم کی اسلامی ریاست یا القاعدہ کی طرح سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہیں اور نہ ہی کسی قسم کی بین الاقوامی سپورٹ کے حصول کے خواہشمند ہیں بلکہ اپنے معااملات کو اندرونی سطح پر ہی حل کرنے کے طلبگار ہیں ۔ ماہرین کے مطابق ایسے زور زبردستی کرنے سے اس کی روک تھام کی بجائے مزید شدت کا خدشہ ہے جیسا کہ9/11 کے بعد جہاد پسند گروہوں نے دنیا بھر سے نوجوانوں اورشدت پسند مسلم افراد کو بھرتی کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے. یہ تنظیمیں ان نوجوانوں کو اس بات پر قائل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں کہ یہ جنگ دراصل” اسلام کے خلاف جنگ "کے خلاف جنگ ہے سیکناگ میں انہیں اب آن لائن پروپیگندہ ویڈیوزپر انحصار کی ضرورت نہیں جب کہ وہ یہ بربریت اپنی آنکھوں کے سامنےہوتا دیکھ سکتے ہیں

چینی حکومت نے سنکیانگ کے مسلمانوں کو ذلت اور درد کے گہرے سمندر میں پھینکا ہوا ہے حالیہ برسوں میں بیجنگ نے مسلمان والدین پر اپنے بیٹوں کے نام میں "محمد” شامل کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ بچوں کا مساجد میں داخل ہونا اور رمضان المبارک میں سرکاری ملازمین کو رمضان کے روزے رکھنے کی بھی اجازت نہیں. مسلم مردوں کو "غیر معمولی” داڑھی رکھنے اورمسلمان خواتین کو عوام میں چہرے پربرقع اوڑھنے کی بھی اجازت نہیں۔

 

یو این  کے ایک پینل کے مطابق ان کیمپس میں جہاں لاکھوں قیدیوں کو کمونیست پارٹی کے حق میں نعرے لگانے پر مجبور کیا جاتا ہے وہاں صرف چینی آمر صدر جین جیانگ سے وفاداری کا بھی اعلان کرنا پڑتا ہے اور پھر انہیں "اسلام کے خطرات کے بارے میں لیکچر” بھی دئیے جاتے ہیں ۔ اس صوبے میں مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے شاید ہی اس کی مثال دنیا میں کہیں اور ملتی ہو۔

ایسا کیوں ہے کہ عالمی ادارے خاموش کیوں ہیں؟ انسانی حقوق کے چیمپئن مغربی حکومتوں کے احتجاج کہاں ہیں؟

صدر ڈونالڈ ٹومپ کہتے ہیں کہ اس کو "چین کا بہت احترام” ہے اور یہ کہتا ہے کہ جی جیننانگ "میرا دوست ہے.” اس سال برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے چینی ریاست کے حالیہ دوروں میں اس معاملے پر مکمل خاموشی رکھی انہیں کی ساتھی یورپی رہنما، جرمنی کے چانسلر انجیلا مرکل نے 12 سالوں میں 11 بار چین کا دورہ کیا ہے لیکن اس نے کبھی بھی اپنے کسی بھی سفر میں سے ان قیدی مسلمانوں کا مسئلہ نہیں اٹھایا۔ یہ احوال تھا انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹنے والے مغربی ممالک کا جنہیں جبر کا نشانہ بننے والی ایک ملالہ تو نظرآجاتی ہے مگر دس لاکھ سے زائد مسلمان نہیں۔

اب آتے ہی مسلم ممالک کی حکومیتوں کی جانب کہ ان میں اپنے مظلوم مسلم بھائیوں اور بہنوں کے خلاف اس ظلم کو بند کرنے کا حوصلہ پیدا کیوں نہیں ہو رہا؟ خاص طور پر ترکی جو روہنگیا اور فلسطینیوں اور میانمار کے نسلی صفائی اوراسرائیل کے غزہ کو مسمار کرنے کی مذمت کرتے ہیں کیونکہ ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر چلتی رہتی ہیں لیکن سلاخوں کے پیچھےسسکتے دس لاکھ لوگوں کی خبر57 ممالک کی نام نہاد مسلم تنظیم کو کیوں نہیں ہوتی؟ ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلیے مگر حرم کے حرمین شریفین کدھر گم ہو جاتے ہیں جب ان کی ضرورت ہوتی ہے۔ ترک حکومت نے ماضی میں ترکی بولنے والی برادری کے حق میں بات کی لیکن ان دنوں بیجنگ اور ترکی کا ماحول آرام دہ اور پرسکون ہے اور مکمل پر اسرار سی خاموشی ہے اوران مسلم ممالک میں اب پاکستان سب سے سہر فہرست ہے جو اپنے مستقبل کے خوابوں کے ساتھ ساتھ اپنی راہداریاں اور تقریبا” اپنا سب کچھ چایئنہ کی جھولی میں ڈالے مطمئن بیٹھا ہے۔ جنگی جہازوں سے لیکر سیٹلایٹ اور اب سی پیک، سیکیانگ کے مسلمانوں کا خون یہ سوال کرتا ہے ہے روہنگیا،  فلسطینی یا کشمیر میں اپنے مسلم بھائیوں اور بہنوں کی مشکلوں پر ماتم کرنے والی مسلم دنیا ہماری جدوجہد کے بارے میں کیوں لا علم اور خاموش ہے؟ کیا پاکستان کو مسلمانوں کیخلاف ہندووں سے بھی زیادہ بغض رکھنے والی غاصب چینی حکومت کے ساتھ ان معاملات پر بات نہیں کرنی چاہیے اور کیا ملک کے مالک کی جانب سےچائینہ کی مسلم کش نفرت کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان میں بسنے والے مسلمانوں کے مستقبل کے تحفظ کا لائحہ عمل کو بھی کہیں مد نظر رکھا جا رہا ہے کہ جب ہم چین کو ایک راہداری کے زریعے اپنے ملک میں راستہ دے دیں گے تو یہ مستقبل میں یہاں کیا سلوک کریں گے کیونکہ ماضی قریب میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ ایٹم بم وغیرہ پاکستانی عوام کی حفاظت کرنے میں مکمل اور مسلس ناکام رہے ہیں ؟

مغربی یا مشرق وسطی کے ممالک کا چین کے ساتھ کھڑا ہونا خلاف توقع نہیں ہے، کیونکہ وہ چین سے بہت زیادہ سیاسی اور اقتصادی فائدہ اٹھاتے ہیں مگرحقیقت یہ ہے کہ یورپی یونین  بھی چین کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، اس لئے یورپی یونین بھی اس بربریت پر نہ زیادہ کچھ  کر سکتی ہے نہ کہہ سکتی ہے.

یہ ایک نہایت آسان جواز ہے کہ ہم افغانستان کی طرح مسلمانوں پر تشدد کے خلاف آواز اٹھانے کی بجائے ان کا آلہ کار بن جائیں یا یہ کہہ دیا جائے کہا کیونکہ چین ہمارے لئے ایک سرمایہ کار یا تجارتی پارٹنر کے طور پر بہت زیادہ اہم ہے اس لیے ہم کچھ نہیں کہہ سکتے یا کر سکتے یا یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے تو ہمیں اسی فارمولے کے تحت کشمیر و فلسطین میں بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنا ہو گا کیونکہ یہ بھی ان ممالک کے اندرونی معاملے ہیں اور اگر ترکی،عرب امارات یا اقوام متحدہ میں کوئی وسیع اتحاد چین سے سوالات شروع کر دیتا ہے اور اقوام متحدہ یا مسلمانوں کی تنظیم کو چین کے خلاف ان الزامات کی تحقیقات کیلیے ایک آزاد کمیشن کو رسائی دینے پر مجبور کیا جاتا ہے تو محکوموں کی دادرسی میں یہ موثر ثابت ہو سکتا ہے اور اس میں پاکستان یا ترکی قیادت کرسکتا ہے۔ اکیسویں صدی میں اس بڑے پیمانے پر مسلمانوں کی قید اور تشدد کے یہ کیمپ مسلمانوں اور کشمیر و فلسطین کا نام استعمال کرنے والی نام نہاد مسلم قیادتوں خصوصا” مدینے کی ریاست کے دعوایداروں کے منہ پر طمانچہ ہیں جن کی ناک کے عین نیچے دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ رونما ہو رہا ہے ۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے