شہریوں کے قتل پر شدید ترین ردعمل

سوشل میڈیا پر سخت اور شدید ردعمل سامنے آنے کے بعد تحریک انصاف کی پنجاب اور وفاقی حکومت نے ساہیوال میں محکمہ انسدادِ دہشتگردی کے مبینہ انکاؤنٹر نیں ملوث اہلکاروں کو حراست میں لینے کا حکم دیا ہے ۔ حکومت نے دو عورتوں سمیت چار افراد کے مارے جانے اور تین بچوں کے معمولی زخمی ہونے والے واقعہ کی مختلف سطح پر تحقیقات کا حکم دے دیا ہے ۔

حکومت پنجاب کے محکمہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ مشکوک پولیس مقابلے میں ملوث سی ٹی ڈی کے اہلکاروں کو پولیس نے تحویل میں لے لیا ہے۔بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ وزیراعلٰی اپنی تمام مصروفیات منسوخ کر کے ساہیوال روانہ ہو گئے ہیں۔

اس واقعہ کی خبر سامنے آنے کے بعد موقع سے تصاویر اور ویڈیوز سامنے آنا شروع ہو گئیں اور پولیس کے موقف کو شک کی نگاہ سے دیکھا گیا اور حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

ایک ہینڈ آؤٹ کے مطابق وزیرِ اعلیٰ نے اس واقعہ کا نوٹس لیا ہے اور پولیس سربراہ سے رپورٹ طلب کی ہے۔ انہوں نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم بھی دیا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ اس واقعہ کی ہر پہلو سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کے بعد رپورٹ پیش کی جائے۔

آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ ڈی آئی جی ذوالفقار حمید جے آئی ٹی کے سربراہ ہوں گے جبکہ انٹیلی جینس ایجنسیز آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی کے رکن اس کا حصہ ہوں گے۔

سی ٹی ڈی کے مبینہ مقابلے کے بعد جاری کئے جانے والے بیانات پر شہریوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا جس کے بعد پنجاب اور وفاقی حکومت کے ترجمان ہمدردانہ بیانات دینے پر مجبور ہوئے ہیں تاہم ملک کی تاریخ میں ایسے کئی واقعات کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا گیا اس کی آخری مثال کراچی پولیس کے افسر راو انوار کی ہے جس کو نقیب محسود قتل کیس میں ضمانت پر رہا کیا جا چکا ہے ۔

متعلقہ مضامین