مثبت رپورٹنگ

احسان حقانی

صحافت کے ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے اپنے اساتذہ سے ایک سوال پوچھنا چاہتاہوں۔
چیلنج دے کر کہتاہوں، کہ سوائے چند کے، پاکستانی صحافیوں کو مثبت رپورٹنگ کرنا آتا ہی نہیں ۔ وہ جانتے ہی نہیں کہ مثبت رپورٹنگ بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔بلکہ ہمارا مزاج ہی یہ بن گیا ہے کہ اچھے سے اچھے کام میں جب تک نقص نہ نکال لیں، ہماری رپورٹنگ مکمل نہیں ہوتی۔

گزشتہ دنوں ڈی جی آئی ایس پی آر نے قومی صحافت سے گزارش کی، کہ چھ مہینے کے لئے مثبت رپورٹنگ کی کوشش کی جائے۔جواب میں مذاق اڑایا گیا اور لطیفے تخلیق کئے گئے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کا مجموعی جواب انتہائی غیرسنجیدہ اور بچگانہ تھا۔

پاکستانی صحافی منفی صحافت ہی کرسکتے ہیں اور کررہے ہیں۔لیکن ہماری منفی صحافت بھی معیاری نہیں۔ایک بری مثال دینے کے لئے معذرت خواہ ہوں۔خدا نخواستہ کسی سکول میں بم دھماکہ ہوتاہے۔ ایک جونئیرصحافی بھی اس قابل ہوتا ہے کہ وہ فوری طور پرجائے وقوعہ پر پہنچے اور لائیو خبرکاری شروع کردے ۔وہ کہے گا کہ بہت ہی خوفناک دھماکہ ہوا ہے۔ مقتولوں اور زخمیوں کی تعداد احتیاطاً زیادہ بتائے گا۔ کہے گا کہ ابھی تک امدادی کاروائیاں شروع نہیں ہوئی۔اتنا وقت گزر گیا لیکن ایمبولینس نہیں پہنچے۔ ہسپتال میں نہ ڈاکٹر ہیں اور نہ ہی ادویات۔پھر وہ سٹریچر پر پڑے مریض سے یہ بھی کہلوا دے گا کہ ہائے میں مر گیا۔
بم دھماکہ یقیناًایک بہت دردناک سانحہ ہوتا ہے، لیکن ہماری منفی صحافت اس کو مزید دردناک بنا کر پیش کرے گی۔ بعد میں اس پر پروگرام بھی ہوں گے اور تجزئیے ہوں گے کہ ناقص سیکیورٹی تھی۔ دو سو کلومیٹر دور فوجی پھاٹک تھا۔ اس کے باوجود یہ سانحہ کیسے ہوگیا۔فلاں اور فلاں اور فلاں کی ناکامی ہے وغیرہ۔اینکر باربار رپورٹر سے پوچھتا ہے کہ دوبارہ بتائیے کتنے لوگ مرے ہیں؟ جواب سن کر پھر پوچھتا ہے کہ اچھا جن ناظرین نے ہمیں ابھی جوائن کیا ہے ان کے لئے ذرا ایک بار پھر بتائیے کہ کتنے لوگ مرے ہیں؟ اس طرح ایک بم دھماکے سے بیسیوں ٹی وی چینلوں اور اخبارات کا پیٹ بھر جاتاہے۔ نہ کسی تحقیق کی ضرورت ہوتی ہے، نہ ریکارڈنگ کی، نہ ایڈیٹنگ کی۔کیونکہ دہشت گردی کی رپورٹنگ سب سے کم خرچ، سب سے زیادہ سنسی خیز اور جلدی تیار ہونے والا مواد (content) ہوتاہے۔

لیکن فرض کریں کہ سکول میں بم دھماکہ نہیں ہوتا۔تو پھر۔۔۔۔
یقین کیجئے کہ ہمارا صحافی خالی الذہن ہوجاتاہے ۔اس بیچارے کو کوئی آیڈیا نہیں کہ جب سکول میں بم دھماکہ نہیں ہوا، تو پھر میں کیا کہوں؟ جب سکول میں امن ہے تو خبر کیسی؟یہ خبر ہی نہیں کہ اس سکول میں پندرہ سو بچے پڑھتے ہیں۔اتنے اساتذہ ہیں۔امتحان، نتائج، یوم والدین، ذہین بچوں کے لئے انعامات، ان کی باتیں، مستقبل کے خواب، کوئی بچہ یا استاد معذور ہے تو وہ کیسے سکول آتا جاتاہے وغیرہ،یہ سب کوئی خبر نہیں۔ کمال ہے۔

ہسپتال میں کوئی ڈاکٹر پانچ گھنٹوں میں تین سو مریضوں کا معائنہ کرتاہے، کوئی خبر نہیں۔لیکن اگر یہی ڈاکٹر اپنی ڈیوٹی پر موجود نہ ہو تو پھر کافی ’مزے کی ‘خبربنائی جاسکتی ہے۔ ہماری صحافت کا کام کیڑے نکالنا رہ گیا ہے۔ جہاں گندگی وہاں صحافت۔دس لاکھ لوگوں کا پرامن جلوس پورے نظم وضبط سے جارہاہو اور دوسری سڑک پر پچاس لوگوں کا جلوس کسی گاڑی کو آگ لگادے، تو میڈیا کے تمام کیمرے آگ لگانے والوں کی طرف مڑ جائیں گے ۔ پرامن جلوس منظر سے غائب ہوجائے گا۔ صحافی کی بھی مجبوری ہوتی ہے۔ مالکان، انتظامیہ اور یہاں تک کہ ناظرین بھی آگ والے جلوس کو دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ لیکن صحافی عوامی پسند وناپسند کو تشکیل دینے والا ہوتا ہے،اسے عوامی پسند وناپسند کی پیروی کرنے والا نہیں ہونا چاہئے۔

اس ملک کو ایک ولولہ انگیز صحافت کی ضرورت ہے جو پرامن حالات میں بھی خبر دینے کی قابلیت رکھتی ہو۔جو عوامی رائے کی پیروی نہیں بلکہ رہنمائی کرے۔لوگوں کو نیا حوصلہ دے۔تعلیم کی دنیا صحافت کے لئے ایک بہت بڑا موضوع ہے۔ طب ایک الگ دنیا ہے۔ کھیل ایک پوری زندگی ہے۔کاروبار، زراعت اور بہت سی دنیائیں ہیں، لیکن ہماری صحافت سیاست سے شروع ہوتی ہے اور سیاست پر ہی ختم ہوتی ہے۔

ہم جنگ اور بدی کی خبر دینے میں تو بڑی تیزی دکھاتے ہیں، بلکہ فخر محسوس کرتے ہیں لیکن امن اور نیکی کی خبر ہمیں نظر ہی نہیں آتی۔ہمارے بڑے بڑے صحافیوں کی صحافت منفی رپورٹنگ پر قائم ہے۔ آپ مثبت صحافت کر کے بڑے صحافی بن ہی نہیں سکتے۔وسعت اللہ خان صاحب کی تحریروں میں معلومات کا دریا بہتا ہے۔ لیکن ان تمام معلومات کا نچوڑ یہ ہوتا ہے کہ پاکستان بخشو ہے اور خراب ترین ملک ہے۔طلعت حسین صاحب جیسے صحافی کو شاید کچھ اچھا نظر بھی آئے لیکن اگر وہ اچھی (یعنی مثبت ) رپورٹنگ کریں گے، تو لوگ انہیں بکا ہوا سمجھیں گے اور ان کی ریٹنگ نیچے رہے گی۔ دراصل منفی سوچ کے اس حمام میں ہم سب ایک جیسے ہیں۔یہ صرف صحافتی نہیں، بلکہ قومی المیہ ہے کہ ہم لٹ لے کر برائیوں کی تلاش میں نکلے ہیں اور اچھائیوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

ہماری صحافت نے ہماری جو سوچ بنائی ہے اس کے مطابق سیاستدان چور ہیں، وہ بھی سارے کے سارے۔ فوج جمہوریت کی دشمن ہے۔ بیوروکریسی کرپٹ ہے۔ ڈاکٹر غفلت کا مظاہرہ کرنے والے ہیں۔ پولیس قاتل ہے۔ یہ سب باتیں کسی حد تک درست ہیں۔ لیکن صحافت کا کام ان لوگوں کی تلاش ہے جو سیاستدان ہوتے ہوئے بھی دیانت دار ہو۔ جو فوجی ہوتے ہوئے جمہوریت پسند ہو۔ جو ڈاکٹر ہوتے ہوئے بھی غفلت کا مظاہرہ نہیں کرتاہو۔ جو پولیس والا ہوتے ہوئے بھی ایمانداری سے اپنا فرض پورا کرتاہو۔

پاکستان میں اب بھی پورا پورا دن، گھنٹے گھنٹے کے نیوزبلٹن چلتے ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک چیخ و پکار، لڑائی مارکٹائی سے بھرپور۔تو کیا بائیس کروڑ لوگوں کے ملک میں کچھ بھی اچھا نہیں؟یا آپ میں colour blind کی طرح اچھی چیزیں دیکھنے کی صلاحیت ہی نہیں؟ یا پھر آپ کو مثبت رپورٹنگ کرنا نہیں آتا۔بس یہی پوچھنا تھا۔

متعلقہ مضامین