شیخ عمر عبدالرحمٰن اورامریکی پولیس

عقیل الرحمان

یہ نائن الیون سے پہلے کی بات ہے۔ مصر کے معروف نابینا عالم دین شیخ عمرعبدالرحمٰن نیویارک کی الفاروق مسجد کے خطیب تھے ۔ شیخ اپنی بَلا کی خطابت اورجہادی فکر کی وجہ سے جہادی تحریکوں کے روحِ رواں سمجھے جاتے تھے ۔ نیویارک پولیس کی انٹیلی جنس کو شیخ کی کچھ ایسی سرگرمیوں کی اطلاع ملی جو امریکا کی سلامتی کے خلاف تھیں ۔ مسجد کی خفیہ نگرانی کی جانے لگی ۔ آنے جانے والوں کی سرگرمیوں پرنظر رکھی جانے لگی ۔ جیسے جیسے نگرانی بڑھتی گئی پولیس کا شک یقین میں بدلتا گیا ۔ نیویارک پولیس چیف شیخ کو گرفتار کرنے کیلئے پیچ وتاب کھانے لگا مگر امریکی قانون نے اس کے ہاتھ پاؤں باندھ رکھے تھے کیوں کہ اس کے ہاتھ ابھی تک ایسا ثبوت نہیں لگا تھا جو عدالت کو ایک شہری کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے پہ مطمئن اور آمادہ کرسکے ۔ پولیس چیف ہار ماننے کیلئے تیار نہ تھا۔ اس نے تگ ودو کرکے مصری فوج کے ایک ریٹائرافسرکی خدمات بھاری معاوضے پر حاصل کیں۔ مصری فوجی شیخ کا عقیدت مند بن کر ان کا قرب حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا یہاں تک کہ اس نے شیخ کی ٹاپ سیکرٹ میٹنگز (انتہائی رازدارانہ مجلسوں) تک رسائی حاصل کرلی ۔ ادھر پولیس چیف کو اپنے مصری ایجنٹ کے ذریعے شیخ کے ایک ایک منصوبے کی خبر ہونے لگی اور شیخ کی گرفتاری کیلئے اس کی بے قراری مزید بڑھ گئی تاھم اب بھی وہ شیخ پر ہاتھ ڈالنے کی جرات نہ کرسکا کیونکہ عدالت دعویٰ نہیں ٹھوس ثبوت مانگتی ہے جبکہ یہاں ثبوت ندارد ۔۔۔۔ آخر پولیس چیف نے ٹھوس ثبوت حاصل کرنے کیلئے ایک خطرناک فیصلہ کرلیا ۔۔۔۔۔
نیویارک پولیس چیف نے مصری ایجنٹ کو بلایااور اگلی میٹنگ کی خفیہ ویڈیو ریکارڈنگ کا ٹاسک سونپ دیا ۔ ایجنٹ یہ سن کر کانپ اٹھا۔ کیونکہ یہ سیدھا سیدھا شیر کی کچھار میں سَر دینے والی بات تھی ۔ اس نے سوچنے کا وقت مانگا اور پھر بوریا بستر لپیٹ کر مصر بھاگ گیا ۔ ایجنٹ کے فرار کے بعد پولیس کی ساری محنت برباد ہوچلی تھی اور وہ ایک بار پھر زیرو پوائنٹ پہ کھڑی تھی ۔ مگر وہ پیچھے نہ ہٹی اور ٹوٹے سلسلے کو جوڑنے کیلئے اپنے ہرکارے مصر روانہ کردیئے جنہوں نے مصری ایجنٹ کو ڈھونڈ نکالا ۔ ایک بار پھر ڈیل کا آغاز ہوا۔ پولیس رقم بڑھاتی رہی، ایجنٹ انکار کرتا رہا۔ آخرکار ایک لاکھ ڈالراور خاندان سمیت امریکن نیشنلٹی کی یقین دہانی پر مصری مان گیا ۔ وہ جان ہتھیلی پہ رکھ کرشیخ کی ٹاپ سیکرٹ میٹنگز کی خفیہ ریکارڈنگ کر کے پولیس چیف کو فراہم کرتا رہا۔ جب ٹھوس ثبوت حاصل ہوگئے تو پولیس چیف انہیں لیکر عدالت پہنچا۔ عدالت نے ناقابلِ تردید ثبوتوں کو دیکھ کر شیخ کے پروانہِ گرفتاری پہ دستخط کردیئے اور اگلے دن دنیا بھر کے اخبارات میں مصری نابینا عالمِ دین کی گرفتاری کی خبرچَپھی ہوئی تھی ۔ بعد ازاں الزام ثابت ہونے پر شیخ عمر عبدالرحمٰن کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ۔
یہ ایک ادنٰی سی مثال ہے اس ملک کے داخلی نظامِ قانون وانصاف کی جو عالمِ کفر کا سرغنہ اورمسلم دنیا کا سب سے بڑا دشمن ہے ۔ دوسری طرف عالمِ اسلام کے ایمانی مرکز سعودیہ اور پہلی اسلامی جمہوری ریاست پاکستان کا نظامِ قانون وانصاف دیکھیئے ۔۔۔۔۔ ایک جمال خشوگی کے ٹکڑے کرکے اپنے ایمان کا اور دوسرا معصوم کلیوں کے سامنے ماں باپ کو چھلنی کرکے اپنے اسلام کا تماشا کرتا ہے ۔۔۔۔ جو قوم اخلاقی میدان میں دشمن کو زیر نہ کرسکے ، وہ جنگ کے میدان میں فتح کے خواب دیکھنا چھوڑ دے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button