اللہ خیر کرے گا

احساس/ اے وحید مراد

عمران خانی جدید مدینے والی ریاست میں پنجاب کو ایک بار پھر رنجیت سنگھ جیسا حکمران نصیب ہوا ہے ۔ ایسا کبھی ممکن نہ ہوتا اگر انصافی ووٹرز سابق کرکٹر عمران خان کو مدینے کی ریاست بنانے کا مینڈیٹ بھرے بکسوں کے ساتھ نہ دیتے ۔ اور پھر وہ سب کے مشورے اور تنقید کو بالائے طاق رکھ کر پنجاب میں رنجیت سنگھ کے تاریخی دور کو واپس لانے کیلئے ڈیرہ غازی خان کے وسیم اکرم یعنی عثمان بزدار کو نہ لے کر آتے ۔

یہ مولوی طارق جمیل کی دعاؤں کا اثر اور بشری بی بی کے چلوں کی کرامت ہے کہ پنجاب میں اس وقت امن و انصاف کا دور دورہ ہے ۔ پورے صوبے میں شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ پر پانی پیتے ہیں اور سی ٹی ڈی والے اگر سڑک پر ماں باپ کے ساتھ کار میں سوار بچوں کو دیکھ لیں تو روک کر ٹافیاں/چاکلیٹ بانٹتے ہیں، یہ سب عمران خان جیسے انصاف پسند حکمران کو مرکز میں تخت پر بیٹھانے سے ممکن ہوا ۔

یہی وجہ ہے کہ ساہیوال میں انیس جنوری کو پیش آنے والے معمولی واقعے پر جدید مدینے کی ریاست کے والی عمران خان درد اور کرب میں مبتلا ہوگئے، انہوں نے سانحے کے ٹھیک چوبیس گھنٹے بعد اگلے دن بارہ بجے کے لگ بھگ فوری ردعمل ظاہر کیا ۔ ان کے الفاظ میں کتنا دکھ تھا یہ ان کی ٹویٹ پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے ۔ انہوں نے لکھا کہ

"سہمے ہوئے بچوں، جن کے والدین کو ان کی آنکھوں کے سامنے گولیوں سے بھون ڈالا گیا کو دیکھ کر ابھی تک صدمے میں ہوں۔ اپنے بچوں کے بارے میں ایسی صدمہ انگیز صورتحال کے تصور ہی سے کوئی بھی والدین پریشان ہوجائیں گے۔ ریاست اب ان بچوں کا ذمہ لے گی اور ان کی مکمل دیکھ بھال کرے گی”۔

اس کے فوری بعد لکھا کہ "اگرچہ کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ دہشت گردی کے خلاف نمایاں خدمات سرانجام دے چکا ہے تاہم قانون کی نگاہ میں سب برابر ہیں ۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ آتے ہی اس کی روشنی میں سخت کارروائی کی جائے گی ۔ اپنے تمام شہریوں کا تحفظ حکومت کی ترجیح ہے۔”

عمران خان جیسا درد دل رکھنے والا کوئی حکمران ہی اتنے چھوٹے سے واقعے کے بعد اپنے وسیم اکرم کو فورا تخت لاہور سے اتنے دور ساہیوال پہنچنے کا حکم دے سکتا ہے ۔

مدینے کی ریاست کے والی کا پیغام ملتے ہی پنجاب کے نئے رنجیت سنگھ نے فورا جاگرز پہنے اور دو گھنٹے میں ساہیوال کے اس اسپتال میں تھے جہاں ماں باپ اور بہن کے مارے جانے کو بھول جانے والے بچے اپنے حکمران کے پھولوں کے گلدستے حاصل کرنے کیلئے بے تابی سے منتظر تھے ۔

بدقسمتی سے میڈیا مکمل طور پر ‘ن لیگیا’ ہے اس لئے کسی نے جدیدیائے پنجاب کے حکمران کی وہ گفتگو رعایا کو نہ سنائی جو اسپتال میں بچوں اور مارے جانے والوں کے لواحقین سے کی گئی ۔ پنجاب کے وسیم اکرم نے دس گھنٹے قبل ماں باپ سے محروم ہو جانے والوں سے کہا کہ ‘اللہ خیر کرے گا’ ۔

دوسری طرف دو ٹویٹس کے بعد بھی عمران خان اس معمولی واقعے کو بھولے نہیں اور ٹھیک چھبیس گھنٹے بعد اکیس جنوری کو پونے دو بجے ریاست مدینہ کے نئے والی نے ایک اور ٹویٹ میں اپنی رعایا کو بتایا کہ یہ سب اس وجہ سے ہوا کہ میں بیرون ملک تھا، انہوں نے افتادگان خاک سے کہا کہ زیادہ اتاؤلے نہ ہوں، میرے آنے کا انتظار کریں ۔

عمران خان نے لکھا کہ "ساہیوال واقعے پر عوام میں پایا جانے والا غم و غصہ بالکل جائز اور قابلِ فہم ہے ۔ میں قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ قطر سے واپسی پر نہ صرف یہ کہ اس واقعے کے ذمہ داروں کو عبرت ناک سزا دی جائے گی بلکہ میں پنجاب پولیس کے پورے ڈھانچے کا جائزہ لوں گا اور اس کی اصلاح کا آغاز کروں گا۔”

مدینے کی جدید ریاست سے یہ سب آپ کی خدمت میں بطور نمونہ پیش کیا وگرنہ فیاض چوہان، فواد چودھری، گورنر سرور، راجہ بشارت قانون کے فرمودات بھی بتاتا تو آپ اپنی قسمت پر عش عش کر اٹھتے ۔

معلوم نہیں کیوں یہ سب لکھنے کے بعد میرا دل کرتا ہے کہ سی ٹی ڈی کے وردی/سادہ کپڑوں میں ملبوس ان دہشت گردوں کی ویڈیو  کو ‘باہا مین’ کے اس گانے کے بول کے ساتھ اپلوڈ کروں کہ ‘ہو لٹ دا ڈاگس آؤٹ ۔۔۔ ؤؤ ؤوؤ’ ۔

یہ سب لکھا ہی تھا کہ ٹوئٹر پر ایک تصویر ابھری جس میں برف کی سفید چادر پر خون کے دھبوں کے درمیان ایک شکاری اپنی بندوق کے ساتھ برفانی ریچھ کی لاش پر بیٹھا ہے ۔ تصویر پوسٹ کرنے والے نے لکھا ہے کہ ‘اگر آپ ٹرافی ہنٹنگ جیسے بے رحمانہ کھیل کے مخالف ہیں تو اس کو ری ٹویٹ کریں’ ۔

میں جدید مدینے کی ریاست پاکستان میں رہتا ہوں اس لئے ری ٹویٹ نہ کر سکا ۔

متعلقہ مضامین