ایل این جی اور عباسی

اظہر سید
سابق وزیراعظم نواز شریف کی فراغت کے بعد اسلام اباد میں یوم فتح منایا گیا ۔تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے فلک شگاف انداز میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی پر کک بیک کا الزام لگاتے ہوئے چیختے ہوئے ایل این جی عباسی کے نام سے پکارا اعلان کیا اگلی باری شاہد خاقان عباسی کی ہے ۔ نیب کی طرف سے ایک پریس ریلیز جاری کی گئی تھی جس میں قطر سے ایل این جی کے کنٹیریکٹ کی تحقیقات کا اعلان کیا گیا تھا ،وزیر ریلوے شیخ رشید تو ایل این جی کے معاہدوں میں کرپشن کی دستاویزات لینے بیرون ملک بھی چلے گئے تھے لیکن انہیں دنوں نصرت جاوید نے اپنے کالم میں زرایع سے انکشاف کیا کہ شیخ رشید مشرق بعید کے ایک ملک میں چھپے بیٹھے ہیں ایک ہفتہ کے بعد شیخ رشید واپس آگئے لیکن ایل این جی کے معاہدے میں بھاری رشوت ستانی کے الزامات کی تکرار بند نہ ہوئی ۔
جی ایچ کیو میں چیدہ صحافیوں کو دی گئی ایک بریفنگ میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو ملکی معیشت کیلئے disaster قرار دیا گیا تھا جس پر متعدد پالتو اینکرز نے نجی چینلز پر پروگرام بھی کئے تھے ۔ ایل این جی کے معاہدے میں کوئی بدعنوانی نہیں تھی بلکہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بہترین شرائط پر یہ معاہدہ کیا تھا ۔معیشت کے متعلق عالمی جریدے اکنامسٹ نے قطر سے ایل این جی کے معاہدے پر شاہد خاقان عباسی اور انکی ٹیم کی تحسین کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ اس معاہدے سے پاکستان کو 60 کروڑ ڈالر سالانہ کا فائدہ ہوا ہے جبکہ فرنس ائل کی درامد کم ہونے سے مزید ایک ارب ڈالر کا فائدہ ہو گا ۔ وزیراعظم عمران خان اب ایل این جی کے معاہدوں کی پاسداری کا علان کرتے ہوئے امیر قطر سے مزید محبت کے حصول کیلئے وہاں موجود ہیں ۔جن لوگوں نے جھوٹ اور فراڈ سے عوام کو گمراہ کیا وہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو سبق سکھانے میں کامیاب ہو گئے لیکن اس کی بھاری قیمت ادا کی گئی ہے اور نہ جانے جو سفر شروع کیا گیا تھا وہ کہاں جا کر ختم ہو گا ۔
اگر شاہد خاقان عباسی پر ایل این جی کے معاہدوں میں کرپشن کے الزامات ٹھیک تھے تو پھر ان معاہدوں کو برقرار کیوں رکھا گیا ہے اور ایل این جی کے دو جہاز جیٹی پر کیوں موجود ہیں اور وزیراعظم قطر کیا لینے گئے ہیں ۔ اگر ایل این جی کے معاہدوں مین کوئی فراڈ نہیں تھا تو اگست میں ایل این جی کی درامد کیوں روکی گئی اور مہنگے فرنس آئل کی درامد میں اضافہ کیوں کیا گیا ۔
اس ملک کا کوئی والی وارث نہیں ،خود ساختہ حب الوطنی کے نام پر اسحاق ڈار کو جس وقت ملکی معیشت کیلئے تباہ کن قرار دیا گیا اس وقت زرمبادلہ کے زخائر کیا تھے ،حصص بازار کا انڈکس کتنا تھا ،معیشت کی شرح نمو کیا تھی ،کرنٹ اکاونٹ خسارہ کہاں تھا بیرونی قرضے کتنے تھے ،عالمی ریٹنگ ایجنسوں نے پاکستان کی معاشی ریٹنگ کو کہاں رکھا ہوا تھا اور سب سے بڑھ کر جب اسحاق ڈار کو disaster قرار دیا گیا تھا اس وقت روپیہ کے مقابلہ میں ڈالر کی کیا قیمت تھی ۔آج ملکی معیشت کیلئے تباہ کن اسحاق ڈار بھی موجود نہیں اور نواز شریف ایسا ووٹ کو عزت دو پر اصرار کرنے والا بھی موجود نہیں اور ہزار ارب روپیہ روزانہ کی منی لانڈرنگ بھی نہیں ہو رہی تو خود ساختہ وطن پرست 140 روپیہ کے ڈالر ،چھ ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے زخائر،معاشی شرح نمو میں مسلسل گراوٹ ،بڑھتے ہوئے تجارتی اور کرنٹ اکاونٹ خسارے ،عالمی ریٹنگ ایجنسوں کی معاشی ریٹنگ کم کرنے اور قریہ قریہ بھیک کا کٹورہ پکڑے آنے جانے کو کیا کہیں گے ؟
چینی سفیر نے تو لاہور میں صاف صاف انتباہ کر دیا ہے "آپ کی پالیسوں میں تسلسل نہیں چینی سرمایہ کار یہاں آنے کو تیار نہیں ۔
جو کچھ ملک میں چل رہا ہے وہ ایک مسلسل دھوکہ ہے اور کچھ بھی نہیں مشیر تجارت رزاق داود نے ایک شرلی چھوڑی تھی سی پیک کو ایک سال کیلئے منجمد کر دیا جائے پھر غیر ملکی جریدے میں اپنے شائع شدہ انٹرویو کی تردید کر دی ،نگران وزیر پٹرولیم نے شرلی چھوڑی تھی عمران خان کے آنے کی برکت سے سمندر میں تیل و گیس کی عظیم زخائر برامد ہوئے ہیں تین دن بعد پدی سی تردید جاری کر دی ۔ایک group of people نے پاکستان کے ساتھ فراڈ کیا ہے ،عوام کو دھوکہ دیا مقاصد کیا تھے اس کا فیصلہ تاریخ پر چھوڑتے ہیں لیکن اس وقت معاشی تباہی سامنے ہے ،افراتفری سامنے ہے ،بھلے افغانستان میں بھارتی فنڈز حاصل کرنے والی افغان خفیہ ایجنسی افغان طالبان کے خود کش حملوں میں تباہ و برباد ہو جائے بھلے افغانستان میں تمام پاکستان مخالف سی آئی اے اور را کےایجنٹوں کو پاکستان میں دس سال تک دہشت گردی مسلط کرنے کی سزا دی جائے پاکستان مین معاشرتی ڈھانچہ تیزی کے ساتھ متاثر ہوا رہا ہے ،سانحہ ساہیوال سے وزیراعظم کی بہن علیمہ خان کی سلائی مشینوں سے اربوں روپیہ کی پراپرٹی خریدنے کی تمام خبریں دم توڑ گئی ہیں ،معاشی بحران اور عوامی بے چینی کا رخ اس سانحہ کی طرف ہو چلا ہے لیکن تابکے؟
لاہور میں جس طرح شہریوں نے پولیس افسران پر حملہ کیا اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر دیکھ کر خوف آتا ہے اگر عوام باہر نکل آئے اور انہیں اپنی طاقت کا اندازہ ہو گیا تو افغانستان کی تمام کامیابیاں گہنا جائیں گی ۔پاک فوج ملکی سلامتی کی واحد ضمانت ہے اس فوج کے خلاف صرف منظور پشین کے جلسوں میں نعرے نہیں لگتے پنجاب کے شہروں میں بھی ردعمل آنے لگا ہے ۔اگر پاکستانی طالبان کے ترجمان کو ملکی سلامتی کی وجہ سے زندہ رکھا جا سکتا ہے تو ملکی سلامتی کے نام پر ہی نقیب اللہ محسود کے معاملہ کو بھی حل کیا جا سکتا ہے راو انوار ایسے کردار ملکی سلامتی اور ادارے کی ساکھ سے زیادہ اہم نہیں انہیں بھی قربان کیا جا سکتا ہے ۔
حالات خراب ہو رہے ہیں انہیں فوری سنبھالنے کی ضرورت ہے ،رایفل طیاروں کی ڈیل میں رشوت کے مصدقہ شواہد کے باوجود یہ معاملہ بھارتی سپریم کورٹ میں آیا تو چیف جسٹس نے شنوائی کی درخواست یہ کہہ کر مسترد کر دی ‘ فیصلہ ہم نہیں بھارت کی جمہوریت کرے گی ‘لیکن یہاں جو عدالتیں دو منتخب وزرا اعظم کو ہڑپ کر جاتی ہیں وہ آئین سے ہٹ کر تجویز دیتی ہیں کہ صدر ایک ڈائیلاگ کرائیں جس میں تمام سٹیک ہولڈر شریک ہوں ۔ کیوں ؟ اگر جمہوریت رکھنا ہے تو عوام کو فیصلہ کا حق کیوں نہیں اور اگر جمہوریت ٹھیک نہیں تو ہر فوجی آمر ایک عدد کنونشن لیگ ،مسلم لیگ اور مسلم لیگ ق کیوں بناتا ہے ۔
جو کچھ ماضی میں ہوتا رہا وہ اب ممکن نہیں افغان جنگ ختم ہو رہی ہے اور پیسے بھی بند ہو رہے ہیں اب کمائی صرف معاشی استحکام ،برامدات میں اضافہ اور سرمایہ کاری میں اضافہ سے ہوگی اور یہ سب کچھ چینیوں کے پاس موجود ہے جن کے 30 ارب ڈالر سی پیک پر لگوا دئے توانائی میں خود کفالت حاصل کر لی اور اب وہ آپ کی معاشی پالیسوں پر عدم تسلسل کا الزام عائد کر رہے ہیں ۔
معاملات درست کر لیں اس سے پہلے بہت دیر ہو جائے اسٹیبلسمنٹ سیاسی قوتوں سے رابطے کر لے اور واپسی کا محفوظ راستہ بھی لے لے سچ مچ کے شفاف الیکشن کرا کے عوام کے سچ مچ کے منتخب نمائندوں کو اقتدار سونپ دیا جائے اور انکی بھر ور معاونت کی جائے ۔قومی یکجہتی اور سایسی استحکام ھاصل ہو جائے تو باقی مسائل بھی حل ہو جائیں گے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button