وزیراعلی سندھ جذباتی اور مایوس کیوں ؟

عبدالجبار ناصر
ajnasir1@gmail.com
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے 22جنوری کوسندھ اسمبلی میں جذباتی بیان نے سنجیدہ طبقے کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ اسمبلی میں کراچی سرکلر ریلوے)کے سی آر( پر پالیسی بیان دے رہے تھے اور ملکی سیاسی و معاشی عدم استحکام اور وفاقی وزراء کے مبینہ منفی رویہ کے ذکر پرجذباتی و آبدیدہ ہوگئے اورکہاکہ’’ سولی پر چڑھانے کی بات کرنے والے یاد رکھیں سولی پر چڑھنے والا آج بھی زندہ ہے۔میں توان کی وزارت عظمیٰ میں ملک کو ڈوبتے ہوئےدیکھ رہا ہوں ، خدا را مارو پکڑو سے باہر آکر ملک کے لئے سوچیں ۔میرے چین جانے کی وجہ سے میرا نام ای سی ایل میں ڈالا گیاتھا، سرکلر ریلوے پرموجودہ وفاقی حکومت عدم دلچسپی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔نوازشریف حکومت خط کا جواب تو دیتی تھی مگر یہ حکومت جواب بھی نہیں دیتی ہے‘‘۔ 2016ء میں وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد غالباً پہلی بارسید مراد علی شاہ اس طرح جذباتی ہوئے ہیں۔موجود حالات میں یہ بات قابل غور ہے کہ آخر ایک صوبے کا وزیراعلیٰ اتنی بڑی بات ایوان میں کیونکر کہ رہا ہے اورمایوس کیوں ہے؟ یا واقعی حالات اس قدرخراب ہیں کہ اب ایک صوبے کا منتظم اعلیٰ سلامتی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کر رہاہے۔ یہ بات درست ہے کہ وفاقی حکومت کے اقدام بالخصوص وزراء کے منفی رویہ کی وجہ سے خود تحریک انصاف کا حامی ایک بڑا طبقہ نہ صرف نالاں بلکہ عملاً مایوس ہے۔ 5ماہ کے دوران تحریک انصاف کی حکومت اپنے وعدوں اور دعووں پرعمل کرنے میں عملاً ناکام نظر آرہی ہے۔ حالات سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے افراد کوحالات کی سنگینی ادراک نہیں یا دانستہ طورپرغیرسنجیدگی کامظاہرہ کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان دنیا کے سامنے پاکستان کا جس طر ح چہرہ دکھا رہے ہیں وہ سوائے بدنامی اورشرمساری کے کچھ نہیں ہے۔
یہ بات درست ہے کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کی تسلسل کے ساتھ یہ تیسری حکومت ہے اور11سال میں پیپلزپارٹی کو سندھ میں جس طرح کام کرنا تھاوہ نہیں کرسکی اوریہ بھی درست ہے کہ کرپشن کے قصے زبان زد عام ہیں مگراس کے باوجود سندھ کےعوام ان کا انتخاب کرتے ہیں توعوامی جذبات کا احترام ضروری ہے اور اگر کوئی غیر قانونی کام ہوا ہے توقانون کے مطابق شفاف اورمنصفانہ کارروائی کی جائے۔ کسی کو یہ احساس نہ ہوکہ ’’ایک پاکستان‘‘ میں’’ دو قانون‘‘ ہیں۔ وفاقی وزراء اورتحریک انصاف کے بعض رہنمائوں کے سندھ میں تبدیلی کے دعوے افواہ ثابت ہوئے، فی الحال سندھ میں پیپلزپارٹی میں فاروڈ بلاک کے آثار نہیں ہیں،بلکہ یہ اطلاعات ہیں کہ بعض وفاقی وزراء کے سندھ کے ایشوزکے حوالے سے رویوں پر تحریک انصاف کے ارکان سندھ اسمبلی کا ایک گروپ سخت ناراض ہے اور سندھ کے ایشوز کے حوالے سے وزراء کا رویہ اسی طرح رہا تو یہ گروپ کسی بھی وقت اپنے اختلاف کا اظہار کریگا۔ دوسری طرح تحریک انصاف کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ پاکستان بھی ناراض دکھائی دے رہی ہے۔ ایم کیوایم کے بعض رہنمائوں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی وفاقی حکومت اورسندھ اسمبلی میں تحریک انصاف کے رہنمائوں کی غیرسنجیدگی کا یہی عالم رہا تو ہمارے لئے ساتھ چلنا بہت مشکل ہوگا۔
سندھ اسمبلی کااجلاس 9جنوری سے جاری ہے اورقانون سازی بھی ہورہی ہے۔ 23جنوری کوبلدیاتی ایکٹ 2013ء میں ترمیم سب اہم ہے اور اس کے سیاسی اثرات سندھ بالخصوص کراچی اور حیدرآباد میں بڑھ سکتے ہیں۔ اس ترمیم کے بعد بعید نہیں کہ کراچی کے مئیر وسیم اختر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش ہو اور یہ صورتحال دیگراضلاع کی بھی ہے،غالباً یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن نے سخت احتجاج کیا ۔سندھ اسمبلی میں گزشتہ 5 ماہ کی کارکردگی کا مختصر جائزہ یہی ہے کہ تمام جماعتوں کے نئے ارکان میں سے بیشتر ارکان نے 5 ماہ کے دوران پارلیمانی روایات اورقانون سازی کے طریقے کو سیکھنے کی کوشش نہیں کی ہے بلکہ ایشوز کے حوالے سے انہیں علم ہی نہیں یا وہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کر رہے ہیں۔ 14جنوری کو پیپلزپارٹی کی ندا کھوڑو کی ’’قومی مالیاتی کمیشن(این ایف سی)‘‘ کے حوالے سے تحریک التویٰ پربحث ہوئی اور ایک درجن سے زائد ارکان بحث میں حصہ لیا جن میں بالترتیب ایم ایم اے کے سید عبدالرشید،تحریک انصاف کے بلال احمدغفار، عمراوماری، پیپلزپارٹی کی ندا کھوڑو اور گنور اسران نے ایشو پر مدلل گفتگو کی، باقی ایک درجن کے قریب ارکان حسب روایت سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کرتے رہے اور یہی صورتحال 16 جنوری کو پیپلز پارٹی کی خاتون رکن ہیرسوہو کی ’’ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی(ارسا)‘‘ کی ناانصافیوں اورسندھ کواس کے حصے کا پانی نہ دئے جانے کے خلاف تحریک التویٰ پرنظرآئی، نصف درجن سے زائد ارکان نے بحث میں حصہ لیا مگرسوائے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اورایم ایم اے کے سید عبدالرشیدکے باقی کی تقاریر جاندار نہیں تھیں،سندھ کے اس اہم اور حساس ایشو پرتحریک انصاف نے بحث میں حصہ نہیں لیا۔ مبصرین کے مطابق ایوان میں بعض سینئر ممبران بھی غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ تحریک انصاف کواپنے ارکان کی تربیت کی سخت ضرورت ہے،کیونکہ یہ جماعت سندھ اسمبلی میں پہلی باردوسری بڑی جماعت کے طور پرآئی ہے اورقائد حزب اختلاف کاعہدہ بھی اسی کے پاس ہے، اپوزیشن کی کامیابی اورناکامی کریڈٹ اسی کو جائے گا۔
سندھ حکومت اور اپوزیشن کو سندھ میں امن و امان کی خراب ہوتی صورتحال،اچانک فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ،معاشی بد حالی، بے روزگاراوراسٹریٹ کرائم کے اضافے پر توجہ مرکوز کرنا ہوگا۔عام انتخابات 2018ء کے بعد اچانک مذکورہ معاملات میں تشویشناک حدتک خرابی نظر آرہی ہے۔ کراچی کا امن وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے لئے بھی ایک چیلنج ہے۔اگر ان مسائل کا حل فوری طورپرتلاش نہیں کیاگیا تو پھرحالات سنگین ترہوجائیں گے۔کراچی میں قیام امن ہویا استحکام یہ حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کی ددبڑی جماعتوں تحریک انصاف اورایم کیوایم پاکستان کے لئے بہت ہی اہمیت کے حامل ہیں،کیونکہ یہ دونوں جماعتیں کراچی کی نمائندہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں اوران کے سیاسی مستقبل کے بقا کا انحصار بھی اسی میں ہے کہ وہ عوام کو مطمئن کریں۔ ایم کیوایم کے لئے تجاوزات کے خلاف مہم مشکل کا باعث بن سکتی ہے۔مختلف سیاسی، سماجی اورمذہبی جماعتیں پہلے ہی سراپا احتجاج تھیں اور اب ہل پارک میں مسجد کی شہادت نے مذہبی طبقے کو مزید مشتعل کردیا ہے۔مئیر کراچی وسیم اختر اور کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن کی انتظامیہ کو تجاویزات کے خلاف کارروائی کے دوران حالات کی نزاکت اورعوامی مسائل کو مد نظر رکھنا ہوگا ورنہ مسائل پیدا ہونگے۔کراچی میں 27جنوری کو سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 94 میں ضمنی انتخاب ہورہا ہے اوراس نشست کے لئے دواتحادی جماعتیں تحریک انصاف اورایم کیوایم پاکستان جان توڑ کوشش کر رہی ہیں۔

متعلقہ مضامین