پاکستان کا ہیرو، گل زمین خان

عمار مسعود
اچھا یوں کجیئے کہ ایک منٹ کے لیئے اپنی آنکھیں زور سے بند کر لیں اور بند آنکھوں سے کتاب پڑھنے کی کوشش کیجئے۔ کچھ نظر آیا ؟ بس اندھیرا ؟ گھپ اندھیرا ؟ پڑھنے کی بات تو چھوڑیں آپ جس کمرے میں بیٹھے ہیں اس کمرے میں کتنے افراد ہیں ، آپ کےاپنے لباس کا رنگ کیا ہے؟ آپ یہ تک نہیں بتا سکتے۔ اب آپ آنکھیں کھول لیں اور اس بات پر شکر ادا کریں کہ آپ آنکھیں کھول سکتے ہیں۔ سب لوگ اتنے خوش قسمت نہیں ہوتے۔
گل زمین خان سے میری ملاقات انیس سو چھیانوے میں ، میری مرحومہ اہلیہ صائمہ عمار کے ساتھ ہوئی۔ صائمہ چونکہ خود بھی بینائی سے محروم تھیں اس لیئے ہم نے مل کے نابینا افراد کے لیئے ایک چھوٹا سا پراجیکٹ شروع کیا تھا جس میں نابینا افراد کے لیئے صوتی کتب ریکارڈ کی جاتی تھیں۔ اس وقت حالات ایسے تھے کہ ریکارڈنگ کا کوئی اچھا سسٹم بھی موجود نہیں تھا ، لکڑی کی ایک پیٹی پر ایک جہازی سائز ٹیپ ریکارڈر رکھ کر سارا دن نابینا افراد کے لیے آڈیو کتب ریکارڈ ہوتی تھیں۔ گل زمیں خان انہی کتابوں کی تلاش میں کے پی کے شہر دیر کے گاوں کٹیاڑی سے تشریف لائے تھے۔ اس وقت گل زمین کی عمر قریبا اٹھارہ برس تھی۔ بے اے میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ ایف ایس سی کے سیکنڈ ائر میں انہیں علم ہوا کہ انکی بصارت رفتہ رفتہ جا رہی ہے۔ وہ آںکھوں کی بیماری اندھراتا یا آر پی کا شکار تھے۔ اس بیماری کا علاج دنیائے سائنس کے پاس نہ پہلے تھا نہ اب ہے۔ گل زمین کے والدین پڑھے لکھے نہیں تھے ۔ والد محنت مزدوری کرتے تھے ۔مگر انکو اپنے چاروں بچوں کو تعلیم دینے کا بے حد شوق تھا۔ گل زمین نے انکے شوق کو بچپن سے دل کے قریب رکھا اور پانچویں کلاس میں وظیفہ حاصل کیا۔ یہی روایت مڈل میں بھی قائم کی اور میڑک میں بھی اول آئے۔ ایف ایس سی کا سیکنڈ ائر شروع ہوا تو بصارت چلی گئی۔ اس وقت تک انہیں صوتی کتب کا علم نہیں تھا۔ گل زمیں نے تین سال اپنی چھوٹی بہن کے ایف اے میں پہنچنے کا انتظار کیا تاکہ وہ اس قابل ہو جائے انہیں کتابیں پڑھ کر سنا سکے ۔ تین سال بعد دوبارہ تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا۔ تعلیم میں بے انتہا قابل ہونے کے باوجود گل زمین ایف اے اور بی اے میں کوئی پوزیشن لینے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ امتحان لینے والے نابینا شخص کا امتحان لینے کے طریقہ کار سے واقف نہیں تھے۔ جس کی وجہ سے ایف اے میں گل زمیں کو وہ رائٹر ملا جو خود ساتویں جماعت میں تھا اور بی اے میں ایک نویں جماعت کے طالبعلم نے انکے لیئے پرچہ امتحان لکھا۔ بہن کی شادی کے بعد بی اے کی صوتی کتب حاصل کرنے لیئے گل زمیں اسلام آباد آئے اور ان سے پہلی ملاقات ہوئی۔
گل زمیں خان کو انگریزی اد ب سے بہت شغف تھا اور وہ اسی مضمون میں اعلی تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے دیر سے آکر اسلام آباد کی نمل یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور انگریزی زبان و ادب کے ماسٹرز میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ نمل یونیورسٹی نے گل زمیں کو بہت اچھی ملازمت کی پیشکش کی مگر گل زمین کا دل اپنے ہی لوگوں میں لگتا تھا اس لیئے انہوں نے مالاکنڈ یونیورسٹی میں تدریس کا فیصلہ کیا۔ ۔ دوہزار نو میں گل زمین کو ہائر ایجوکیشن کی طرف سے پاکستان کے بیسٹ ٹیچر کا ایوارڈ دیا گیا۔ ایچ ای سی کی طرف سے یہ ایوارڈ آج تک صرف ایک معذور فرد کو ملا ہے اور یہ تمغہ گل زمیں کے سینے پر سجا ہے۔ آج کل گل زمین انگریزی ادب میں اپنی پی ایچ ڈی کے اختتامی مراحل میں ہیں اور توقع کی جارہی ہے کہ اسی سال وہ گل زمین سے ڈاکٹر گل زمین کہلائیں گے۔ ہمارے تعلیمی نظام پر گل زمیں کی گہری نظر ہے اور پی ایچ ڈی کے بعد وہ اس نظام تعیلم میں بہتری کے لیئے ریسرچ کے خواہاں ہیں۔
اس کالم کے قارئیں شائد اندازہ نہیں کر سکتے کہ دیر جیسے پسماندہ علاقے سے ایک نابینا بچہ جب انگریزی ادب میں پی ایچ ڈی کہلاتا ہے تو اس کے معنی کیا ہوتے ہہں۔ اس کی کامیابی پر جشن منانا تو بہت آسان ہے مگر ان مشکلات کا اندازہ بھی کرنا مشکل ہے جو انکی تعلیم کی راہ میں حائل ہیں۔ کیونکہ پورے ملک میں نہ تو سپیشل سکولوں میں سہولیات میسر ہیں، نہ استاتذہ کے تربیت کا کوئی اہتمام ہے نہ نابینا افراد کی موبلٹی کے مسائل کوئی حل کرنا چاہتا ہے نہ ان کی تعلیم کے لیئے کتب موجود ہیں۔نہ انکے امتحان لینے کے طریقہ کار سے لوگ ممتحن واقف ہیں، نہ رائٹر کی سہولت موجود ہے نہ بریل پریس لگے ہوئے ہیں۔ سپیشل ایجوکیشن ہمارے ہاں ہمیشہ سے ایک نظر انداز موضوع رہا ہے اور مستقبل قریب میں بھی اس میں بہتری کے اقدامات نطر نہیں آ رہے۔ اگر آپ معذور افراد کے حوالے سے انکلیسیو ایجوکیشن کا ذکر کریں تو بھی بہت سے مراحل طے کرنا باقی ہیں۔ مشترکہ تعلیم کا عزم تو اچھا ہے مگر کیا کسی معزور طالب علم کو تعلیم دینے کے لیئے ہمارے تعلیمی ادارے تیار ہیں۔ داخلے سے لے کر ڈگری کے حصول تک روکاوٹیں ہی روکاوٹیں ہیں۔ اگر انکلیسو ایجوکیشن کا نعرہ بلند کرنا ہے تو اس کے لیئے ہمیں پہلے ان تعلیمی اداروں اور انکے عملے کو اس حوالے سے تیار کرنا ہے۔ ورنہ یہ پالیسی بھی بے فائدہ رہے گی۔
میں نے ذاتی طور پرپورے پاکستان کے قریبا تمام ہی سپیشل سکولوں کا دورہ کیا ہوا ہے اور دنیا بھر میں بھی کئی ممالک میں مجھے سپیشل سکول دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ میرے تجربے کے مطابق پاکستان میں پنجاب اور سندھ نے اس سلسلے میں پھر کوئی کام کیا مگر کے پی کے اور بلوچستان کی صورت حال بہت تشویش ناک ہے۔ اس بات کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ پنجاب اور سندھ میں نابینا افراد کے صورت حال تسلی بخش ہے۔ ان دو صوبوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں بریل پریس لگے ہوئے ہیں اور نابینا افراد کو بریل کی کتابیں میسر ہیں۔ کسی بھی نابینا شخص کی مالی مدد تو کرنا بہت احسان ہے مگر انکو تعلیم دینا اس تعلیمی نظام میں ازحد مشکل ہے۔ لیکن جو بچے اس سارے سسٹم سے مقابلہ کر کہ تعلیم حاصل کر لیتے ہیں اور اس تعلیم کی بنا پر اگر وہ کوئی روزگار کمانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر یہ معاشرہ ان کی قدر کرتا ہے۔ انکو ہیرو مانتا ہے۔ انکو سلیبریٹی تسلیم کرتا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کے پسماندہ علاقے دیر سے ایک نابینا بچہ تعلیم کے سفر پر نکلتا ہے اور پی ایچ ڈی کے مدارج پر پہنچتا ہے۔ پاکستان کا بہترین استاد منتخب ہوتا ہے ۔ تدریس میں وہ کمال حاصل کرتا ہے کہ دور دور سے طلباء اسکا لیکچر سننے کے لیئے آتے ہیں تو یہ کہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ گل زمین کو صرف ہیرو کہہ دینا کافی نہیں ہے۔ وہ ایک معجزہ ہے۔ جس پر سارے پاکستان کو فخر ہے۔ سارے کے پی کے کو فخر ہے۔ سارے مالا کنڈ کو فخر ہے۔
پی ٹی آئی کے حکومت نے آتے ہی ٹکنو کریٹس کا نعرہ بلند کیا میں اس نعرے کے حق میں نہیں ہوں لیکن اگر معاملہ تعلیم کا ہو تو مالاکنڈ یونیوسٹی کے گل زمین سے بہتر ماہر تعلیم ہمیں میسر نہیں ہے اس کے علم سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔ اس کے تجربے کو مثال بنانا چاہیئے۔ جو کام گل زمیں نے کیا وہ کسی طرح بھی سہل نہیں ہے ۔ اگر آپ اب بھی گل زمیں خان کی انگریزی ادب میں پی ایچ ڈی کو کوئی عام سی بات سمجھ رہے ہیں تو یوں کیجئے کہ ایک منٹ کے لیئے اپنی آنکھیں زور سے بند کر لیں اور بند آنکھوں سے کتاب پڑھنے کی کوشش کیجئے۔ کچھ نظر آیا ؟

بشکریہ روزنامہ جنگ

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے