ریاست کے اندر ریاست ادارے کے اندر ادارہ

اظہر سید
فیض آباد دھرنہ ختم کرنے کیلئے ریاست نے بھرپور کوشش کی لیکن زبردست پولیس ایکشن مکمل طور پر ناکام ہو گیا ۔پولیس افسران آف دی ریکارڈ کہتے سنے گے اچانک مری روڈ سے تربیت یافتہ مظاہرین نمودار ہوئے جن کے پاس شاندار غلیلیں تھی جن میں خوفناک چکنے پتھر تھے پولیس جو اگلے پندرہ منٹ میں مولوی خادم حسین کو گرفتار کرنے کو تھی پسپا ہو گئی بہت سارے پولیس اہلکار ہسپتالوں میں پہنچ گئے اور پھر "اپنے لوگوں کو ہزار ہزار روپیہ کا جیب خرچ دے کر خلاصی ہوئی ۔
بلیوں نے مالکان کو میاوں کرنے کی جسارت کی صرف تین دن میں غبارے سے ہوا نکل گئی معمولی پولیس ایکشن نے مولوی خادم حسین کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا اور پنجاب بھر میں شمع رسالت کے پروانے اخبارات میں اشتہارات دے کر تحریک لیبیک سے کم اور مولوی خادم حسین سے زیادہ لاتعلقی کا اظہار کرنے لگے ۔عوامی دانش کو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا لوگوں کو پہلے سے پتہ تھا پولیس ایکشن کیوں ناکام ہوا اور بعد میں کیسے کامیاب ہو گیا ۔
ڈی چوک دھرنے نے وزیراعظم ہاوس اور پی ٹی وی کا رخ کیا پولیس نے کاروائی کا آغاز کر دیا لیکن ایک ادارے کی طرف سے ایک بیان آگیا جس میں فریقین کو تشدد سے منع کیا گیا پولیس افسران یہ کہتے سنے گے چھ گھنٹے میں سب صاف ہو جانا تھا مولوی قادری اور عمران خان دونوں گرفتار ہو جاتے لیکن اجازت نہیں ملی ۔
مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ اپنی حکومتوں کی برطرفی کو "ریاست کے اندر ریاست ” جیسے الزامات سے جواز دیتی آئی ہیں ۔آپریشن میڈ نائٹ جیکال کے متعلق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو نے آرمی چیف کو شواہد دئے آئی ایس آئی کے دو افسران کی نوکریاں چلی گئیں یہ اور بات ہے بی بی کی حکومت پھر بھی نہیں بچ پائی ۔
ڈی چوک دھرنے کے متعلق وزیراعظم نواز شریف نے جنرل راحیل شریف کو شواہد پیش کئے اور آئی ایس آئی چیف کا تبادلہ ہو گیا لیکن بعد میں نواز شریف کی وزارت عظمی بھی نہیں بچ پائی ۔
عام انتخابات سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینٹر فرحت اللہ بابر اور دیگر راہنماؤں نے ادارے کے بعض افسران کے نام لے کر الزامات لگائے فلاں میجر فلاں کرنل ڈرا دھمکا رہے ہیں وفاداریاں تبدیل کرنے کیلئے دباو ڈال رہے ہیں ۔بلوچستان کی بعض سیاسی جماعتوں کے بعض راہنماؤں نے افسران کے نام لے کر الزامات لگائے وفاداریاں تبدیل کرانے کیلئے دباو ڈال رہے ہیں ۔یہ سب کچھ سامنے آچکا ہے میڈیا میں رپورٹ ہو چکا ہے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں محفوظ بھی ہو چکا ہے کوئی بھی گوگل سرچ کر کے صرف ایک منٹ میں اس مواد تک رسائی حاصل کر سکتا ہے ۔
تحریک انصاف والے بلا کے خود غرض اور منافق ہیں ۔ساہیوال کے سانحہ کے دوسرے روز ہی دھڑلے سے پریس کانفرنس میں انکشاف کر دیا "آپریشن آئی ایس آئی کی اطلاع پر کیا گیا تھا” اس کے بعد بھلے ذیشان کو دہشت گرد ثابت کر دیا جائے انصافی حکومت نے جو کہنا تھا کہہ دیا اور جو کرنا تھا کر دیا۔
سانحہ ماڈل ٹاون بھی سانحہ ساہیوال ایسا ہی تھا اس میں بھی خفیہ ایجنسیوں کی ان پٹ شامل تھی لیکن مجال ہے شہباز شریف یا کسی وزیر نے آج تک کسی ایجنسی کا نام لیا ہو سب کچھ خود برداشت کیا اور کر رہے ہیں اور شہباز شریف کو امید ہے انہیں اس وفا کا پھل ضرور ملے گا ہمیں بھی یقین ہے یہ پھل نواز شریف سے چھین کر شہباز شریف کو دینے کی کوشش ترک نہیں ہوئیں اور ڈیل ڈیل کا کھیل تاحال کھیلا جا رہا ہے شہباز شریف بھائی سے غداری کرنے پر تاحال آمادہ نہیں لیکن صاف انکار بھی نہیں کرتے ۔
ادارے کے اندر ادارے کی بات کرنا غداری ہو ہی نہیں سکتی تمام حقائق تاریخ کے سینے میں محفوظ ہیں اور متعلقہ لوگوں کی ریٹائرمنٹ کے بعد لکھی گئی کتابیں بھی یہ سچ بیان کرتی ہیں ۔جنرل ایوب کے خلاف جنرل یحیی کی بغاوت ادارے کے اندر ادارہ تھا۔جنرل ضیا الحق کے جہاز کی تباہی کی تحقیقات مکمل نہیں ہو سکیں یہ پتہ نہیں ادارے کے اندر ادارہ تھا یا کچھ اور تھا ۔جنرل مشرف کے خلاف وکلا تحریک نہ جانے ادارے کے اندر ادارہ تھا یا کچھ اور تھا ۔جنرل مشرف کہتا تھا نواز شریف کی سیاست ختم لیکن جنرل اشفاق پرویز کیانی جو وکلا تحریک کے دوران آئی ایس آئی چیف تھے انہوں نے میاں نواز شریف کو وزیراعظم بننے کی اجازت دے دی ۔
جنرل اسلم بیگ اور جنرل راحیل شریف نے بینظیر بھٹو اور نواز شریف کی طرف سے ٹھوس شواہد پیش کرنے پر ایکشن لیا لیکن دونوں وزرا اعظم کی حکومت پھر بھی برطرف ہوئی ۔نواز شریف کے خلاف احتساب عدالت میں کاروائی کے دوران ایک افسر کی متعلقہ جج سے ملاقات اور بعض صحافیوں کی طرف سے افسر کا پیچھا کر کے اس کی تصویر محفوظ کر لینا اور سوشل میڈیا پر اس کا وائرل ہو جانا ایک المیہ ہے ۔ایک افسر کی طرف سے فیض آباد دھرنہ کے مظاہرین کو ہزار ہزار روپیہ دینے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو جانا بھی ایک المیہ تھا ۔
سپریم کورٹ کے ایک جج نے گزشتہ روز جس طرح کراچی کنٹونمنٹ میں کاروباری سرگرمیوں پر فوج کے حوالہ سے ریمارکس دئے ہیں یہ ایک نئی شروعات کا آغاز لگتا یے ۔جس حکومت کے وزیر ساہیوال سانحہ کی ذمہ داری خفیہ ایجنسی پر ڈالنے سے نہیں گھبرائے ان سے وفا کی امید نہیں کی جا سکتی ۔بلوچستان میں لاپتہ افراد بتدریج خاموشی سے گھروں کو پہنچ رہے ہیں ۔راو انوار کے نقیب اللہ محسود جعلی پولیس مقابلہ کی انکوائری رپورٹ میں عقل والوں کیلئے بہت نشانیاں ہیں ۔”اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے ” منظور پشتین کے مطالبات بتدریج منظور کئے جا رہے ہیں اور فاٹا سے پولیس چیک پوسٹیں ہی تیزی سے کم نہیں کی جا رہیں لاپتہ افراد بھی تیزی سے گھروں کو لوٹ رہے ہیں ۔
ہمیں نہیں پتہ کہیں پر پسپائی ہو رہی ہے یا منتخب حکومت کی طرف سے مدد نہیں کی جا رہی ۔جو کچھ بھی ہو رہا ہے خاموشی سے معاملات حل کرنے کی بجائے کھلے عام غلطیوں کا اعتراف کر لیا جائے تو بہت بہتر ہے۔ بلوچستان اور فاٹا میں عام معافی کا اعلان کیا جائے ،ادارے اور ریاست سے بڑھ کر کوئی اہم نہیں کوئی قصور وار ہے اسے سزا دی جائے ۔عام انتخابات کرائے جائیں بغیر مداخلت کے ، جو جیتے اسے اقتدار سونپ دیا جائے سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے