دولت کا ارتکاز اور میڈیا

جب دولت اور سرمایہ بیشتر لوگوں کی پہنچ سے دور ہو کر چند ہاتھوں میں محدود ہو جاتا ہے تو ایسی صورت حال کو دولت کا ارتکاز کہتے ہیں ۔ جب ایک معاشرے میں امیر لوگ امیر تر اور غریب لوگ غریب تر ہونا شروع ہو جاتے ہیں تو بنیادی وجہ دولت کا ارتکاز ہوتی ہے۔ دولت کے ارتکاز کو روکنے لئے دنیا بھر میں مختلف تحاریک چلتی رہی ہیں۔ سب سے مضبوط تحریک تو خیر سوشلزم کی تھی جس نے دولت کے ارتکاز کو تو پتہ نہیں روکا یا نہیں روکا لیکن اختیارات کے ارتکاز نے اس تحریک کی ناکامی میں اہم کردار ادا کیا۔ دولت کے ارتکاز کو روکنے کے لئے اب تک کا سب سے آزمودہ اور مؤثر طریقہ کار لیبر قوانین پر عملدرآمد ہے۔ جس میں مزدور کے اوقات کار طے کئے جاتے ہیں، اس کی ماہانہ تنخواہ کا تعین کیا جاتا ہے، اس کو طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں اور اس کے علاوہ یہ طے کیا جاتا ہے کہ کتنی عرصہ ملازمت کے بعد اسے کیا مالی فوائد ملیں گے۔ سوشلزم سارے مغرب کو کھا جاتی اگر وہاں لیبر قوانین کا اطلاق نہ کیا جاتا۔
وطن عزیز میں لیبر قوانین کی ساری عمل داری سرکاری اداروں میں تو نظر آتی ہے لیکن نجی اداروں میں اس کا کوئی وجود نظر نہیں آتا۔ نجی اداروں میں، ماسوائے چند، اپنے ورکرز کا بھرپور استحصال کرتے ہیں۔ برصغیر میں مزدور یا ورکر کا استحصال کوئی نئی بات نہیں۔ یہ استحصال ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے کیونکہ یہاں دولت پر سانپ بن کر بیٹھنے کا رواج عام ہے۔ دوسری طرف مزاحمت نہ کرنا اور ہر ظلم و جبر کے خلاف سر تسلیم خم کرنا بھی برصغیر ہی کی روایت ہے۔ یہ روایت بھی برصغیر کی ہے۔ پتہ نہیں یہاں لوگ باشعور نہیں یا پھر بزدل ہیں کہ ان کے اندر اپنے حقوق کے حصول کی کوئی تحریک آٹھ ہی نہیں پاتی۔ اس کے برخلاف ایک صورتحال ایسی ہے جو کہ نہ صرف عجیب بلکہ حیران کن ہے۔ پاکستان میں مجھے لگتا ہے کہ لوگوں کو اپنے قانونی حقوق نہیں چاہیئں۔ بلکہ ان کو ہمیشہ غیر قانونی حقوق چاہئیں ۔
اپنے پریس کلب کے الیکشن ہی کو لیجئیے۔ وہ بندہ جو یہ کہے کہ صحافیوں کو ان کے قانونی حقوق ملنے چاہئیں، کبھی الیکشن نہیں جیت سکتا۔ جو یہ کہے کہ وہ صحافیوں کے اوقات کار کے تعین کے لئے کام کرے گا، جو کہے کہ صحافیوں کو ان کے اداروں سے بہتر معاوضوں کے لئے بات کی جائے گی، جو کہے صحافیوں کا پراویڈنٹ فنڈ ہونا چاہیے جو برطرفی کی صورت میں ان کے کام آئے، صحافیوں کو گریجویٹی ملنی چاہیئے، صحافیوں کو مناسب طبی سہولیات ملنی چاہئیں، ایسا شخص سو سال بھی لگا رہے، الیکشن نہیں جیت سکتا ۔
تو پھر الیکشن کون جیت سکتا ہے ۔؟

وہ، جو کہے کہ میں نے پولیس سے بات کر لی ہے، آئندہ کسی صحافی کا ہیلمٹ نہ پہننے پر یا اشارہ توڑنے پر چالان نہیں ہو گا، صحافی کسی بھی سرکاری دفتر سے کوئی بھی غیر قانونی کام کرا سکتا ہے، صحافی کسی بھی شخص کے دانت توڑ دے، ایسوسی ایشن اس کے پیچھے جا کر اس کو بچا لے گی ۔

صحافیوں کے ووٹ کا مستحق صرف وہ شخص ہے جو کسی ایم این اے، کسی سینیٹر، کسی وزیر سے وہ فنڈ مانگ سکے جو صحافیوں کا استحقاق نہیں۔ ایسا شخص جو سرکاری زمین پر صحافیوں کی کالونی بنانے کی طاقت رکھتا ہو ۔۔۔۔
ایسا ہی شخص قوم کو شعور بانٹنے والی اس کمیونٹی کا رہنماء بن سکتا ہے۔
اگر آپ جنرل الیکشن کی بات کریں تو اس میں بھی انہی خواص کے حامل اشخاص کو ترجیح دی جاتی ہے۔
اگر آپ میرے اس مفروضے کی تائید کرتے ہیں تو اس کا ایک ہی منطقی نتیجہ نکلتا ہے کہ لوگوں کو ان کے قانونی حقوق ہر گز نہیں چاہیئں۔ بلکہ غیر قانونی حقوق چاہیئں ۔
اس ملک کی پچاس فیصد غربت صرف لیبر قوانین پر عملدرآمد سے دور ہو سکتی ہے۔ مزارعوں سے مفت مزدوری لینے والے دیہاتی بیک گراؤنڈ کے افراد جب شہروں میں بڑی بڑی فرمیں، فیکٹریاں اور ادارے بناتے ہیں تو وہ ملازمین کے ساتھ مزارعوں جیسا سلوک ہی کرتے ہیں۔ اور دیہاتی بیک گراؤنڈ کے کارکن مزارعوں ہی کی طرح بی ہیو ( برتاؤ ) کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ صاحب کی خوشامد میں ہر حد سے گزر جاتے ہیں۔ کوئی کام ان کے فرائض منصبی میں شامل ہے یا نہیں، ہر دم کرنے کو تیار رہتے ہیں مبادا کہیں صاحب ناراض نہ ہو جائیں۔ اسی مزارع ذہنیت کے خوفزدہ لوگ ہماری میڈیا انڈسٹری میں بھی پائے جاتے ہیں۔ ایسے لوگ بڑی سے بڑی پوسٹ پر بیٹھ کر بھی خوفزدہ رہتے ہیں۔ ایسے لوگ کبھی بھی لیبر قوانین پر عملدرآمد کی سفارش نہیں کرتے الٹا مالکان کو مشورے دیتے ہیں کہ اتنے ورکر فضول میں رکھے ہیں، ان کو نکال کر آپ اتنا پیسہ بچا سکتے ہیں۔ اس خوف و حرص کے ماحول میں حالات کیسے سدھر سکتے ہیں۔ بے شک کتاب برحق ٹھیک کہتی ہے کہ سب سے بڑا عذاب بھوک اور خوف کا ہے جو اس ملک پر مسلط ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button