دھندہ ہے پر گندہ ہے

اعزازسید / سیاسی افق

کالے رنگ کے شیشوں والی گاڑی سڑکوں پر فراٹے بھر رہی تھی ۔ گاڑی میں پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وزیر قانون فاروق ایچ نائیک کے ہمراہ لاپتہ افراد کمشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال بیٹھے تھے۔ گاڑی ایک گھر کے اندر داخل ہوئی اور پھر دونوں گھر کے ایک خاص کمرے میں چلے گئے۔ اس گھر میں فاروق ایچ نائیک جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو مہمانوں کی طرح ٹریٹ کر رہے تھے ۔ 
یہ واقعہ سال دوہزار سترہ کے آخر کا ہے۔ سابق چیرمین نیب چوہدری قمر الزمان ریٹائر ہو رہے تھے اور نئے چیرمین کی تعیناتی کے لیے مسلم لیگ ن کے سربراہ نوازشریف نے پیپلز پارٹی کونیا چیرمین نیب نامزد کرنے کا پیغام بھیج رکھا تھا۔ ان دنوں نوازشریف کو آصف علی زرداری پر بہت پیار آرہا تھا کیونکہ نوازشریف خود مشترکہ تحقیقاتِی ٹیم کی رپورٹ کی روشنی میں وزارت عظمی۱ کے ایک حکمنامے کے باعث اقتدار سے باہر ہوچکے تھے۔ انہیں رہ رہ کرآصف زرداری سے کی گئی اس بیوفائی پر اپنی غلطی کا احساس ہورہا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ احتساب عدالت میں ایک بار میں نے نوازشریف سے اس غلطی بارے پوچھا کہ بحثیت وزیراعظم انہوں نے سابق صدر کی ایک متنازع تقریرکے بعد ان سے طے شدہ ملاقات کیوں منسوخ کی؟ تو انہوں نے ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے تسلیم کیا کہ یہ واقعی ان کی غلطی تھی۔ 
مگر اب آصف زرداری کی باری تھی۔ زرداری کے خلاف جعلی اکاؤنٹس کیس کی تحقیقات ہورہی تھی اور وہ نشانے لے لے کر نوازشریف اور مسلم لیگ ن پر خوب تنقید کررہے تھے۔ انہیں پتہ تھا کہ کھیل میں اصل کھلاڑی نوازشریف سے ناخوش ہیں۔ نوازشریف سے نفرت کو زرداری اپنے خلاف جاری مہم کے راستے میں بند باندھنے کے لیے استعمال کررہے تھے۔ ایسے میں چیرمین نیب کی تعیناتی ایک اہم مرحلہ تھا۔ پیپلز پارٹی ابھی کوئی نام فائنل کرنے کا سوچ ہی رہی تھی کہ آصف زرداری کو پارٹی کے دو تین اہم رہنماؤں نے آگاہ کیا کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال چیرمین نیب بننے کے لیے رابطے کررہے ہیں۔ زرداری کو بات سمجھ میں آگئی۔ 
اسی تناظر میں جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال ، فاروق ایچ نائیک کے ساتھ کالے شیشوں والی گاڑی میں سوار ہو کر رات کے اندھیرے میں اس گھر اس خاص کمرے میں آئے تھے۔ یہاں سابق صدر آصف علی زرداری سے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی ملاقات ہوئی۔ میری اطلاعات کے مطابق جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے سابق صدر کو چیرمین بننے کے بعد ہرطرح کے تعاون کی یقین دہانی کرائی اور ملاقات ختم ہوگئی۔ اس ملاقات میں ملک کے ایک بڑے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کا بھی بڑا کردارتھا۔ دراصل ملک ریاض شہباز شریف سے رابطے میں تھا۔ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے پراپرٹی ٹائیکون سے بھی ملاقات کی اور ن لیگ کو پیغام بھیج دیا گیا۔ اس واقعے کے کچھ دنوں بعد مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی باضابطہ طور پر جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے نام پر متفق ہوگئے اور یوں اکتوبر دوہزار سترہ میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی منظوری کے بعد وہ چیرمین نیب مقرر کر دئیے گئے۔ 
جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال ایک دلچسپ پس منظر کے حامل ہیں۔ وہ سال2007 تک سپریم کورٹ کے ایک غیرمعروف جج تھے۔ جب سال 2006 کے آخر میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری فوجی ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو کھٹکنے لگے تو افتخارمحمد چوہدری کو ہٹانے کے لیے مشرف نے جنرل کیانی کی سربراہی میں خفیہ ادارے آئی ایس آئی کو خصوصی ٹاسک دیا۔ ادارے نے اپنا کام خوب کیا اوردیگر امورطے کرنے کے ساتھ ساتھ "چھومنتر” کے ذریعے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو افتخار چوہدری کے ہٹائے جانے کیبعد حلف اٹھانے پر راضی کرلیا۔ پس جاوید اقبال 9 مارچ 2007 کو افتخار چوہدری کو جنرل مشرف کی طرف سے گھر بھیجنے کے بعد بطورقائم مقام چیف جسٹس کے طور پر منظر نامے پر نمودارہوئے۔ 
ملک میں افتخار چوہدری کی برطرفی پر ردعمل ہوا تو سپریم کورٹ کے فل بنچ نے سابق چیف جسٹس کی درخواست کی سماعت کی اور وہ بحال ہوگئے۔ افتخارچوہدری کودوبارہ تمام ججوں کے ہمراہ فارغ کیا گیا تو جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال بھی فارغ ہونے والے ججوں میں شامل تھے۔ مگر انہیں جلد ہی پریس فاؤنڈیشن کا چیرمین مقررکردیا گیا۔ سب حیران تھے کہ مشرف جیسا ڈکٹیٹر تمام ججز کے خلاف ہے مگر ایک جج کو وہ نوکری دے کر نواز رہا ہے۔ مگر جاننے والے جانتے تھے کہ دراصل جسٹس جاوید اقبال طاقت کے اصل مراکز کے ساتھ گہرے روابط کے حامل رہے۔ افتخار چوہدری دوبارہ بحال ہوئے تو دیگر ججوں کے ساتھ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال بھی بطور جج بحال کردئیے گئے۔
جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال بطور سپریم کورٹ جج لاپتہ افراد کیسز دیکھا کرتے تھے۔ ریٹائر ہوئے تو پیپلزپارٹی کی حکومت نے انہیں لاپتہ افراد کمشن کا سربراہ مقررکر دیا ۔ آج تک کمشن کی کوئی حتمی رپورٹ سامنے آئی نہ لاپتہ افراد کا مسئلہ حل ہوا۔ مگر وہ چیرمین نیب کے ساتھ ساتھ لاپتہ افراد کمشن کو بھی بدستور چلا رہے ہیں۔ 

جب سے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال چیرمین نیب بنے ہیں۔ محسوس کیا جاسکتا ہے کہ اب نیب کی توجہ پیپلزپارٹی کی بجائے ن لیگ پر ہوگئی ہے۔ ایسا نہیں کہ یہ سب چیرمین نیب کی وجہ سے ہوا ہے۔ اس کی وجہ کوئی اور ہے اور چیرمین نیب کسی اور سے جڑے ہوئے ہیں۔ 
نیب کے اندر چیرمین نیب کی طرف سے اپنے افسران کے بیرون ملک جانے کی پابندی ہو یا سابق وزیراعظم نوازشریف پر بھارت منی لانڈرنگ کا الزام کئی معاملات پر چیرمین نیب پر تنقید کی جاسکتی ہے مگر آپ ان کی ذہانت پر ہرگز تنقید نہیں کرسکتے۔ یہ ان کی ذہانت ہی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں نیب کے کردار پر معترض ہیں مگر کوئی ایک بھی چیرمین نیب کا ناقد نہیں ۔ 
مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف بھی اندر سے چیرمین نیب کے حامی ہیں۔ آپ پارلیمینٹ میں شہبازشریف کی تقاریر اٹھا کردیکھ لیں۔ وہ نیب پر تنقید کرتے ہوئے چھوٹے افسروں کا نام تو لیں گے لیکن کبھی چیرمین نیب کا نام لے کر تنقید کرنے کی جرات نہیں کریں گے۔ 
آپ دوسری بڑی جماعت پیپلزپارٹی کے سربراہ سابق صدر آصف علی زرداری کو ہی دیکھیے انہوں نے ایک دفعہ چیرمین نیب پرخوب تنقید کی اور کہا کہ اسکی جرات بھی نہیں کہ وہ انہیں گرفتار کرسکے۔ پھر زرداری نے پارلیمنٹ میں کہا کہ "چیرمین نیب کو پارلیمینٹ کے سامنے پیش کیا جائے” ۔ پھر وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے چیرمین نیب کا نام لیے بغیر تنقید کی کہ کیا وجہ ہے کہ نیب جعلی اکاؤنٹس کیس کی تحقیقات میں وقت لے رہی ہے اور سابق صدر آصف علی زرداری کو گرفتارنہیں کیا جارہا؟ میں منتطر تھا کہ نیب سابق صدر زرداری کو بھی آڑے ہاتھوں لے گی اور فواد چوہدری کو بتادے گی کہ وہ بھرپورکارروائی کررہا ہے۔ مگر چیرمین نیب کی منظوری سے ترجمان نیب نے فواد چوہدری کے خلاف ایک تحکمانہ بیان جاری کیا اور کہا کہ نیب کسی وزیر یا مشیر کے کہنے پر کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائے گا۔ 
الٹا فواد چوہدری کا نام لیے بغیر اس پر اس الزام کے تحت کیس کھولنے کی دھمکی بھی دیدی کہ ان کے بیانات کا جائزہ لیا جائے گا کہ آیا وہ ان کی تحقیقات کی راہ میں حائل ہیں یا نہیں۔ نیب کے بیان کے بعد سے فواد چوہدری بھی خاموش ہیں انہیں بھی اندازہ ہے کہ اس طرف نہیں جانا جہاں خود ان کا وزیراعظم بھی نہیں جاسکتا۔ 
باقی رہ گئے آصف زرداری ابھی کل کی بات ہے چیرمین نیب کی طرف سے بیان جاری کیا گیا کہ جعلی اکاؤنٹس کیس کی تحقیقات کی نگرانی وہ خود کریں گے۔ سچ یہ ہے کہ نیب قوانین میں ایسی کوئی گنجائش نہیں ہے مگر نجانے کیوں آصف زرداری سے ان کے گھر جاکران سے ملاقات کرنے والے جسٹس جاوید اقبال کا بیان پڑھ کر میں ان کی ذہانت کا کیوں قائل ہو گیا ہوں ؟ کھیل اب جاری ہے اور نجانے کب تک جاری رہے گا مگر اب تک کا کھیل دیکھ کر بھارتی فلم "کمپنی ” کا مشہور ڈائیلاگ یاد آتا ہے، دھندہ ہے پر گندہ ہے یہ ۔۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button