میڈیا ورکرز کی برطرفی کیوں؟

وقار حیدر

صحافت (صحافی) کا جنازہ ہے زرا دھوم سے نکلے
صحافت کیا ہے؟ بس یہ عوام تک خبر پہنچانا، خبر کوئی بھی ہو ، کسی کی بھی، کہیں کی بھی، کیونکہ خبر تو خبر ہے، اور جب کچھ نا بھی ہو رہا ہو تو یہ بھی ایک خبر ہی ہوتی ہے ۔ آپ نے تو سن رکھا ہے کہ ہر خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے ۔ جب ہم جیسے جوان خون صحافت کی پٹری پر چڑھتے ہیں تو ہی پتہ چلتا ہے کہ اس ٹریک پر کئی جنکشن اور اسٹیشن آنے ہیں کچھ بڑے تو کچھ چھوٹے ۔

ویسے تو صحافت نام ہے اس پٹری پر پیدل چلنے کا لیکن کچھ لوگ ٹرین کا سہارا بھی لے لیتے ہیں اور منزل مقصود تک جلدی پہنچ کر اپنی راہ لیتے ہیں پیدل چلنے والے کے پاس خبریں تو بہت ہوتی ہیں لیکن اسکا جنکشن دور ہوتا ہے کچھ تو اس راہ میں تھک ہار کر چھوڑ دیتے ہیں کچھ پہلے اسٹیشن پر ہی پڑاو ڈال دیتے ہیں اور کچھ میں سکت ختم ہو جاتی ہے۔ عوام خبر اس سے لیتے ہیں جو پہلے جنکشن پر اترتا ہے اسکے پاس خبر ہوتی ہے لیکن پوری نہیں بلکہ ادھوری کیونکہ وقوعہ جب وقوع پزیر ہورہا تھا یہ صحافی وہاں سے گزر رہا تھا اس نے دیکھا آگے پہنچا اور بتا دیا بعد کے حالات کیسے تھے ، کس کا عمل کیسا تھا یہ اس کی پہنچ سے دور تھا ہاں اس نے ایسا کیا کہ باقی سنی سنائی اور بات بڑھا دی ۔ اس نے پیچھے رہ جانے والے رابطہ کر کے حالات پوچھ کر آگے بتا دئیے۔
پیدل چلنے والے کچھ تو رپورٹر ہوتے ہیں کچھ نمائندے ہوتے ہیں اسٹیشن پر بیٹھے زیادہ تر اینکر ہوتے ہیں ، اینکر کی مختلف اقسام ہیں، کچھ لمبا سفر طے کر کے پہنچے ہیں سب حالات سے واقف و آگاہ ہیں کچھ شہر میں رہتے تھے تو جلد ہی اسٹیشن پر پہنچ گئے۔ انھوں نے نہ تو گاوں دیکھا نہ گاوں کے حالات ، خیر یہ سب کام کررہے ہیں کسی نہ کسی نیوز چینل کیلئے۔ چینل کی مشین کے یہ سب پرزے ہیں جیسے گھڑی میں وقت تو صرف 2 سوئیاں ہیں بتاتی ہیں لیکن اس کے پیچھے چھوٹے، بڑے کئی پرزے ہوتے ہیں، چینل کی سوئیاں یہ اینکر ہیں، نمبر رپورٹر اور پیچھے والے پرزے باقی عملہ، لیکن یہ گھڑی کوئی بھی خرید سکتا ہے۔کبھی بھی کہیں بھی آویزاں کر سکتا ہے ۔ حتی کہ دیوار کیساتھ ہی لگا سکتا ہے۔ آج کل یہی ہو رہی ہے گھڑیاں دیوار کیساتھ لگنا شروع ہو گئی ہیں ۔ ایک سے دوسرے ہاتھ میں بکنا شروع ہو گئیں ہیں دیکھا جا رہا ہے کہ کتنے پرزے کم کیے جائیں ، بس ضروری پرزے لگائے جائیں باقی نکال دیئے جائیں، اور کچھ مالکان تو اس حد تک پہنچ گئے کہ گھڑی چلتی ہے تو ٹھیک ورنہ ہمارے پاس دوسرے ذرائع ہیں وقت معلوم کرنے کے، وقت کی رفتار کیساتھ چلنے کے، نئی گھڑیاں خریدنے کے۔
ملک کے بڑے ٹیلی ویژن اسٹیشن سے رپورٹرز سمیت دیگر عملہ کو نکالنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ کہیں تنخواہیں کاٹی جا رہی ۔ کہیں تنخواہیں روکی جا رہی، کہیں دیگر مراعات واپس لی جا رہی ہیں تو کہیں جبری مشقت لی جارہی ہے کہ نوکری کرنی ہے تو کریں نہیں تو گھر کی راہ لیں۔ کسی نے اگر احتجاج کیا تو دوسرے نکالے جانے والوں کیساتھ اسے بھی نکلنے کا عندیہ دے دیا ، جو بچ گئے انکی مستقل نوکریوں کو عارضی میں بدل دیا گیا ، عارضی سے فائدہ یہ ہوگا کہ مراعات ختم کرنے کیساتھ ساتھ انکو کسی بھی وقت راندہ درگاہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن جتنے بھی لوگ نکالنے گئے ہر اسٹیشن سے انسے بچت 10 لاکھ کے قریب ہے ان 10 لاکھ میں تقریبا 20 سے 30 گھروں کا چولہا جل رہا تھا۔
دوسری طرف مارکیٹ میں ڈاؤن سائزنگ کا الارم ہے کہ لگاتار بجتا ہی چلا جا رہا ہے ۔ ٹی وی مالکان کو کوئی خاص نقصان تو نہیں ہورہا ہے بس یہ کہ نئی حکومت سے جب خود کچھ حاصل نہ کر سکے تو ورکز کو حکومت کے سامنے لا کھڑا کیا ، احتجاج پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ دراصل صحافت کا جنازہ کیا صحافیوں کے جنازے اب نکل رہے ہیں ۔
دل پریشان ہے، رات بھاری ہے، زندگی ہے کہ پھر بھی پیاری ہے، اور کیا تماشا ہے، کب سے جاری ہے؟ اس وقت پاکستان کے میڈیا ورکرز کے یہ حالات ہیں، یہ سلسلے کب رکے گا ؟

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے