بلوچستان پر توجہ دیں

اظہر سید (

امریکہ طالبان مذاکرات کی کامیابی کی اطلاعات کے پس منظر میں بلوچستان میں ہونے والے دہشت گردی کے حالیہ واقعات تشویشناک ہیں اور فوری اقدامات کے متقاضی ہیں ۔متعلقہ اداروں کو پتہ ہے دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے پیچھے افغانستان میں دہشت گردی کے تربیتی کیمپ نہیں اور نہ ہی ماضی کی طرح افغان خفیہ ایجنسی ،را اور سی آئی اے کا کوئی گٹھ جوڑ ممکن ہے ۔افغان طالبان کے امریکیوں کے ساتھ کامیاب مذاکرات کا مطلب یہ ہے اب افغان سرزمین کو ماضی کی طرح پاکستان میں دہشت گردی کیلئے استمال نہیں کیا جا سکے گا۔قبائلی علاقہ جات میں کوئی خود کش حملہ ہوتا یا جمعہ کے روز شمالی یا جنوبی وزیرستان میں کسی مسجد میں کوئی خود کش حملہ آور نمازیوں کے بیچ خود کو اڑاتا تو امریکہ طالبان مذاکرات کی کامیابی ممکن نہیں تھی اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات کا جواز بھی ممکن تھا لیکن موجودہ صورتحال میں اگر بلوچستان میں کوئی دہشت گردی کی واردات ہوتی ہے تو اس کا دوسرا مطلب یہ ہے ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے عسکریت پسند بیرونی معاونت کے بغیر ہی پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی اہلیت رکھتے ہیں اور یہ بات بہت تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے۔

عسکریت پسندوں کو قومی دھارے میں واپس لانے کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے کبھی نہیں تھی ۔ماضی میں پاکستان دشمن خفیہ ایجنسیوں کی ایک مکمل جنگ پورے پاکستان میں ہو رہی تھی لیکن اس وقت یہ صورتحال موجود نہیں ۔داعش کو افغانستان میں لانچ کرنے کا امریکی فیصلہ پاکستان کیلئے بے پناہ خوش قسمتی کا باعث بنا تھا۔داعشیوں کے خوف نے روسیوں کو ہی نہیں چینیوں اور ایرانیوں کو بھی پاکستان کے ساتھ کھڑا کر دیا ۔پاکستان جو اکیلا دہشت گردی کی جنگ بھگت رہا تھا افغانستان میں ایک غلط امریکی فیصلہ کی وجہ سے چین اور روس ایسے نئے حلیف حاصل کر گیا ۔داعشیوں کی افغان جنگ میں شمولیت سے افغان طالبان کو بھی چین ،روس اور ایران ایسے نئے حلیف مل گئے اور پاکستان کو بھی نئے حلیفوں کے ساتھ مل کر افغانستان میں پاکستان مخالف تمام عناصر کو مزا چکھانے کا موقع مل گیا ۔

اب افغانستان میں کوئی پاکستان مخالف تربیتی کیمپ ممکن نہیں ۔اب افغان سرزمین پر پاکستانی طالبان کو بھی کوئی معاونت حاصل ہونا ممکن نہیں ۔مستقبل افغان طالبان کو افغان حکومت میں شامل کرنے کا اور انہیں افغان قومی دھارے میں لانے کا یے جس کا دوسرا مطلب افغان حکومت میں شامل بھارت اور امریکہ دوست پاکستان مخالف عناصر کا اپنی طاقت کھو دینے کا ہے ۔

قبائلی علاقہ جات میں منظور پشین کی پر امن تحریک کو ایجنسیوں نے اپنی بھر پور کوشش سے ریاست کیلئے خطرہ بننے سے روکا ہوا یے ۔منظور پشین کے تمام جائز مطالبات چپکے چپکے تسلیم کئے جا رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ منظور پشین کے مطالبات میں سختی بھی آرہی ہے ۔اسٹیبلشمنٹ جس ہنر مندی سے منظور پشین کے معاملہ کو ہنڈل کر رہی یے اس میں مزید بہتری کی بہت زیادہ گنجائش ہے ۔منظور پشین اور بلوچ سخت گیر عناصر بغیر کسی بیرونی معاونت کے کسی یکساں ہدف پر متفق ہو گئے تو اسٹیبلشمنٹ کیلئے حقیقی چیلنج کا باعث بن جائیں گے ۔

افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی کے بعد بہت بڑے چیلنجز درپیش ہونگے ۔کسی کو خبر نہیں اور نہ پارلیمنٹ میں اس معاملہ پر کوئی بحث ہوئی ہے نہ کسی حکومتی نمائندے نے قوم کو بتایا ہے امریکیوں کے جانے کے بعد افغانستان کا کیا بنے گا ۔افغان ریاست کے امور چلانے کیلئے فنڈز کہاں سے آئیں گے ۔افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہو گئی تو اس کا تدارک کیسے ہو گا ۔

پاکستان پر جو حکومت مسلط کی گئی یے اس کے تباہ کن اور احمقانہ فیصلوں نے ملکی معیشت کو نادہندگی کی سطح پر پہنچا دیا یے ۔مستقبل قریب میں اگر افغانستان بھی ایک بحران بن گیا تو پاکستان کہاں کھڑا ہو گا اور اس چیلنج سے کیسے نپٹے گا ۔مستقبل کے خطرات سے نپٹنے کی بجائے یہاں مسلسل نواز شریف اور آصف علی زرداری چور ہے کے نعرے لگائے جا رہے ہیں اور اپنی ناکامیوں،جھوٹ اور فراڈ کو ہالینڈ کی گائے 40 لیٹر دودھ دیتی ہے یا مرغی اور انڈے کی معیشت سے جواز دیا جا رہا ہے ۔

منظور پشین اور بلوچ تحفظات کو سیاسی لیڈر شپ کی معاونت سے حل کرنے کی ضرورت ہے اور یہ سیاسی لیڈر شپ میاں نواز شریف،آصف علی زرداری ،مولانا فضل الرحمن،اسفند یار ولی ،آفتاب شیرپاؤ اور بلوچ قوم پرست جماعتوں کی لیڈر شپ پر مشتمل ہے ۔اسٹیبلشمنٹ نے ان تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت صرف ایک فراڈ اور جعلی لیڈر کیلئے کھوئی ہے ۔ملکی مسائل کا حل نئے الیکشن میں ہے اور عوام کی حقیقی نمائندہ حکومت کو تمام تر اختیارات دینے اور آئین کے تحت اس حکومت کے تمام اختیارات تسلیم کرنے میں ہے ۔ابھی وقت ہے پاکستان میں قومی یکجہتی کے اہداف کیلئے درکار اقدامات شروع کر دئے جائیں اس سے پہلے کہ افغانستان پاکستان کی سلامتی کیلئے نیا چیلنج بن جائے اور بلوچستان میں کوئی نیا چیلنج پیدا ہو جائے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے