بلوچستان کے پشتون بیلٹ میں ہڑتال

بلوچستان میں پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما ارمان لونی کی موت کے خلاف کوئٹہ، قلعہ سیف اللہ، لورالائی سمیت پشتون اکثریتی علاقوں میں ہڑتال ہے ۔ اس دوران دکانیں بند ہیں اور ٹریفک کی روانی میں کمی دیکھی گئی ہے ۔

پی ٹی ایم رہنما ابراہیم ارمان لونی دو روز قبل لورالائی میں پولیس کی جانب سے گرفتاری کی کوشش کے دوران مبینہ تشدد کے نتیجے میں مارے گئے تھے اور ان کے جنازے میں گزشتہ رات ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی ۔

ارمان لونی کی ہلاکت کے خلاف ہڑتال کی کال پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے دی تھی جبکہ بعض دیگر سیاسی جماعتوں نے اس کی حمایت کی تھی ۔ بی بی سی کے مطابق ہڑتال کے باعث کوئٹہ شہر کے مرکزی علاقوں میں تمام کاروباری مراکز بند ہیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم ہے ۔ کوئٹہ کے علاوہ بلوچستان کے شمال میں دیگر پشتون آبادی والے علاقوں میں بھی کاروبارِ زندگی معطل ہے۔

ابراہیم ارمان کو جب گزشتہ شب ان کے آبائی علاقے قلعہ سیف اللہ میں سپردِ خاک کیا گیا تو وہاں پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما منظور پشتین، محسن داوڑ اور علی وزیر موجود تھے ۔
تدفین کے موقع پر منظور پشتین، ابراہیم ارمان کی بہن اڑانگہ لون اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما نواب ایاز خان جوگیزئی نے خطاب کیا ۔ منظور پشتین نے خطاب میں کہا کہ ابراہیم ارمان صرف اس علاقے کا ہیرو نہیں بلکہ پورے پشتون وطن کا ہیرو تھا ۔

انھوں نے پاکستان کے سکیورٹی اداروں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر پشتون متحد ہوجائیں تو ان کے علاقوں میں قتل و غارت گری کا جو بازار گرم کیا گیا ہے وہ ختم ہو جائے گا۔

منظور پشتین کا یہ بھی کہنا تھا کہ پی ٹی ایم ابراہیم ارمان کے سوئم کے بعد صلاح و مشورے سے اس سلسلے میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔

حکومت بلوچستان کی جانب سے پابندی کے باوجود پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کے علاوہ ارکانِ اسمبلی علی وزیر، محسن داوڑ اور پی ٹی ایم بعض دیگر رہنما جنازے میں شرکت کے لیے قلعہ سیف اللہ پہنچنے میں کامیاب رہے تھے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button