بھوک، ننگ اور کرپشن کا رونا

عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں اور دوسری جانب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ اور لفظی جنگ عروج پر ہے یعنی ہاتھیوں کی لڑائی میں گھاس کچلی جا رہی ہے.سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگا کر ملکی مفادات کو چن چن کر ذبح کرنے والے ڈکٹیٹر کے جوتے پالش کرنے والے کچھ سیاست دان جو اب نئے پاکستان کا نعرے لگانے والوں کے بھی وزیر ہیں وہ ہمہ وقت چور ڈاکو اور کرپشن کرپشن کی گردان میں مصروف ہیں.انور مسعود صاحب کا دور آمریت میں لکھا گیا ایک قطعہ یاد آ رہا ہے بعنوان کرپشن
کچھ ایسا تند ہے سیل خرابی
کہ جس کی رو میں ہر شے بہہ گئی ہے
رہا کیا ہے عزیزو اب وطن میں
کرپشن ہی کرپشن رہ گئی ہے
جوابی کارروائی میں اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کچھ سیاست دان بھی گولہ باری میں مصروف ہیں.عام تاثر ہے کہ کچھ حکومتی اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے اراکین شاید یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی بحثیت قوم تماش بین ٹائپ ہیں اور اسی قسم کی گفتگو پسند کرتے ہیں لہذا لفظی گولہ باری جاری رکھتے ہیں.بغیر کچھ کئے صرف احمقانہ بیانات پر ہی تالیاں بجھ رہی ہوں تو عوامی مسائل جائیں بھاڑ میں.لیکن اب شاید یہ انکی خام خیالی ہے کیونکہ یہ طریقہ واردات ذیادہ دیر نہیں چل سکتا.عوام کا بڑھتی ہوئی مہنگائی نے انجرپنجر نکال دیا ہے وہ سوال کر رہے ہیں کہ اقتصادی بد حالی،مہنگائی، بےروزگاری، بجلی،گیس،پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے،ڈالر کی قدر میں اضافے اور روپے کی ناقدری پر سابقہ حکومت پر تنقید کرنے والے اور دن رات عوام کو سبز باغ دکھاتے والے تبدیلی کے دعویدار وہ سب کام خود کیوں کر رہے ہیں؟یہ عوام کو باور کراتے تھے کہ انکے پاس ہر مسئلے کا حل موجود ہے لیکن اب وہی باتیں کر رہے ہیں جو سابقہ حکمران کیا کرتے تھے.صرف کرپشن کرپشن کا راگ الاپنے سے کچھ نہیں ہو گا.عوام بھی ملک کے با اثر طبقات کا احتساب چاہتے ہیں لیکن وہ سب کا بلا تفریق احتساب چاہتے ہیں.لفظی گولہ باری کے ماہر سیاست دان چاہے اپوزیشن کے ہوں یا حکومت سے انہیں سنجیدگی سے حقیقی عوامی مسائل حل کرنے کی جانب توجہ دینا چاہئے.ایک دوسرے کیخلاف احمقانہ بیان بازی کی آڑ میں عوامی مسائل کو نظرانداز کرنا عوام کیساتھ بڑا سنگین مذاق ہے

.سید ضمیر جعفری صاحب کی ایک نظم یاد رہی تھوڑی سی ترمیم کیساتھ بعنوان محاذ آرائی


گوڈے گوڈے بھوک ننگ،خواری ہے بیکاری ہے
ماندی سی مخلوط معیشت، نوری ہے نہ ناری ہے
گردن میں رعشہ ہے لیکن سر پر پگڑی بھاری ہے
اپنی کارگزاری یہ ہے لفظی جنگ جاری ہے

امریکہ سے یاری لیکن اپنوں سے بیزاری ہے
آری جاپانی ہے اپنی، جرمن میڈ گراری ہے
ہر بچہ مقروض ہمارا، پوری قوم ادھاری ہے
اپنی کارگزاری یہ ہے لفظی جنگ جاری ہے

سارنگی جمہوری لیکن راگ وہی درباری ہے
کیا اس اندھی صبح کی خاطر کالی رات گزاری ہے
ووٹر نے جو بازی جیتی لیڈر نے وہ ہاری ہے
اپنی کارگزاری یہ ہے لفظی جنگ جاری ہے

رستم اعجاز ستی

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے