اقرار الحسن نے غلطی تسلیم کر لی

چوتھی جماعت میں تفاسیر اور احادیث کی درجنوں ضخیم کتابیں پڑھنے کا دعوی کرنے والے اے آر وائے کے اینکر اقرار الحسن نے اپنی غلطی تسلیم کر لی ہے ۔ ٹوئٹر پر انہوں نے صحافی و اینکر مطیع اللہ جان کو جواب دیتے ہوئے لکھا ہے کہ مجھے اس بات کو اپنی علمی فضیلت کے حوالے کے طور پر نہیں لانا چاہیئے تھا ۔

اقرار الحسن نے درجنوں ٹوئٹر اکاؤنٹس کے اسکرین شاٹس لگا کر گلہ کیا کہ

"ن لیگ کے دوست اور صاحبانِ عقل ذرا ایک لمحے کو میری جگہ آ کر دیکھیں، آپ اپنا مذاق اُڑاتی چار سو ٹوئیٹس دیکھیں اور ٹوئیٹ کرنے والے ہر اکاؤنٹ کو ایک ہی شخص فالو کر رہا ہو تو آپ کیا سوچیں گے، سکرین شاٹس کے ساتھ یہ فیصلہ میں آپ پر چھوڑتا ہوں۔۔۔ "

اس ٹوئٹ کے جواب میں مطیع اللہ جان نے لکھا کہ "میں آپ کے ساتھ ہوں ۔ یہ سیاستدان سب ایسے ہی ہوتے ہیں- آپ بس چار سال کی عمر والی ٹویٹ کو ڈیلیٹ کر دیں ورنہ یہ لوگ آپ کے خلاف یوں ہی پراپیگنڈا کرتے رہیں گے- "

مطیع اللہ جان نے مزید لکھا کہ "ویسے چوتھی جماعت میں میں نے امیر حمزہ، عمرو عیار اور انسپکٹر جمشید کی تمام سیریز پڑھ لی تھی- اب اگر کوئی نہ مانے تو میرا کیا قصور-"

اقرار الحسن نے اس کے جواب میں لکھا کہ
"اس بات سے مکمل اتفاق کہ مجھے ان کتب سے شناسائی کو ایک بحث میں اپنی علمی فضیلت کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہئیے تھا کیونکہ ان کتب کا مطالعہ اپنی جگہ لیکن واقعی عمر کے اس حصے میں بھی مکمل گرفت اور عبور ممکن نہیں، سر تسلیم خم۔۔۔ "

اقرار الحسن کے اس جواب کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ ان کی ایک ٹویٹ کو موضوع بحث بنا کر طنز و مزاح کا جو سلسلہ شروع کیا گیا ہے وہ اختتام پذیر ہو جائے گا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button