جھوٹا گواہ سپریم کورٹ طلب

سپریم کورٹ نے جھوٹے گواہوں کے خلاف کاروائی کا آغاز کرتے ہوئے فیصل آباد کے ایک گاوں میں اے ایس آئی مظہر حسین کے قتل کیس میں جھوٹی گواہی دینے والے ساہیوال کے رہائشی محمد ارشد کو بائیس فروری کو طلب کر لیا ہے ۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ جس طرح ارشد رضاکارانہ طور پر گواہ بنا اور جھوٹی گواہی دی اسی طرح رضاکارانہ طور پر اسے جیل بھی جانا چاہیے ۔ عدالت نے سی پی او فیصل آباد کو محمد ارشد کی سپریم کورٹ حاضری یقینی بنانے کا حکم دیا ہے ۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے فیصل آباد کے ایک گاوں میں اے ایس آئی مظہر حسین کے قتل کیس میں عمر قید پانے والے زورآور کی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کی ہمت ہے کہ انہوں نے سزائے موت دی، کمال کیا ہائیکورٹ نے کہ عمر قید کی سزا سنائی، تمام گواہان کہہ رہے تھے انہوں نے کوئی فائر ہوتے ہوئے نہیں دیکھا، یہ سب کچھ نچلی عدالتوں کو کیوں نظر نہیں آتا، چیف جسٹس نے کہا کہ 161 کے بیانات کے مطابق کوئی زخم نہیں، جو پولیس والا رضاکار گواہ بنایا وہ پولیس کا گواہ ہے اور 3 دن کے بعد اس کا میڈیکل ہوتا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں، جس طرح وہ رضاکارانہ طور پر گواہ بنا اسی طرح رضاکارانہ طور پر اسے جیل بھی جانا چاہیے، اس گواہ کو خراش آئی اور اسی زخم کو فائیر آرم انجری کہہ دیا گیا۔

عدالت نے کہا ہے کہ گواہ محمد ارشد نے ٹرائل کے سامنے جھوٹا بیان دیا،اس کے خلاف جھوٹی گواہی پر کیوں نہ کارروائی کی جائے، عدالت نے جھوٹی گواہی دینے پر جھوٹی گواہی دینے پر محمد ارشد کو 22 فروری کو طلب کر لیا، چیف جسٹس نے کہا کہ اسی کیس سے جھوٹےگواہوں کے خلاف کاروائی کا آغاز کر رہے ہیں ۔ سی پی او فیصل آباد اگلی سماعت پر جھوٹے گواہ محمد ارشد کی سپریم کورٹ میں حاضری یقینی بنائیں جبکہ عدالت نے ملزم زورآور کو سات سال بعد شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔

ملزم زور آور پر الزام تھا کہ انہوں نے اے ایس آئی مظہر حسین کو قتل کیا تھا ٹرائل کورٹ نے زور آور کو سزائے موت جبکہ ہائی کورٹ نے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے