گرفتاری پر احتجاج

لاہور میں صحافی رضوان رضی کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے ۔ ایف آئی اے لاہور کے دفتر کے باہر صحافیوں نے احتجاج کیا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر بھی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔

‏سینئر صحافی رضوان رضی کے خلاف مقدمہ درج کرنے پر ن لیگی سینیٹرمشاہد اللہ خان نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے پاکستان میں آزادی اظہار کو جرم بنا دیا گیا ہے، حکومت آزادی اظہار کا گلا گھونٹ کر جمہوریت کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے،ایف آئی اے وزیراعظم کے ماتحت ہے، کیا یہ سب ان کی ہدایات پہ کیا جا رہا ہے؟

سوشل میڈیا پر ن لیگ کو بھی سخت تنقید کا سامنا ہے جس کے دور حکومت میں سائبر کرائم کا قانون بنایا گیا جس کے تحت اب سوشل میڈیا کے اسٹیبلشمنٹ مخالف صارفین پر مقدمات درج کئے جا رہے ہیں ۔

دوسری جانب بظاہر صحافی بنے کچھ ٹوئٹر ٹرولز کہہ رہے ہیں کہ پہلے شاہد مسعود کو ہتھکڑیاں لگیں تو سب خاموش تھے اب رضوان رضی کو قانون کا سامنا کرنا چاہئیے۔ اس کے جواب میں اکثر سوشل میڈیا صارفین نے شاہد مسعود اور رضوان رضی کے مقدمات کی ایف آئی آرز شیئر کی ہیں اور بتایا ہے کہ شاہد مسعود کو ہتھکڑیاں بطور ایم ڈی پی ٹی وی کرپشن کرنے پر لگائی گئیں جبکہ رضوان رضی کو ان کی ٹویٹس کے ذریعے کی گئی حکومت مخالف پوسٹ پر سائبر کرائم ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے ۔

اس بحث کے دوران بعض صارفین نے کہا ہے کہ شاہد مسعود ہوں یا رضوان رضی قانون کے مطابق عدالتوں میں جلد از جلد الزامات ثابت کرنا ضروری ہیں تاکہ عام لوگوں کا قانونی و عدالتی عمل پر اعتماد بحال ہو ۔

متعلقہ مضامین