بابر اعوان کو بری نہ کیا جائے

نندی پور پاور پراجیکٹ کے فعال ہونے میں تاخیر پر کرپشن ریفرنس کا سامنے کرنے والے بابر اعوان نے احتساب عدالت کو بتایا کہ وہ قصور وار نہیں اس لئے بری کیا جائے ۔

قومی احتساب بیورو نیب کے پراسیکیوٹر ذیشان مسعود نے عدالت کو بتایا کہ چیئرمین نیب نے ڈاکٹر بابر اعوان اور دیگر 6 کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی، ریفرنس دائر کرنے سے پہلے وزارت قانون سے پوچھا گیا، وزارت قانون کے جواب میں ذمہ داران میں بابر اعوان کا تیسرا نمبر ہے ۔

پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ بابر اعوان کی وزارت سے پہلے وزارت قانون نے سمری کو اپروو کیا، وزارت نے اپروول کے ساتھ لکھا کہ کام شروع کیا جائے، اٹارنی جنرل نے بھی وہی سمری منظور کی ۔ ذیشان مسعود نے عدالت کو بتایا کہ منظوری کے بعد وزارت قانون اور خزانہ کی جانب سے حکومتی گارنٹی فام پر دستخط کیے جانے تھے، وزارت خزانہ نے گارنٹی فارم پر دستخط کر دیے لیکن وزارت قانون نے نہیں کیے ۔

پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ بابر اعوان کی وزارت کے دوران فارم پر دستخط میں ایک سال کی تاخیر کی گئی، ٹرائل شروع ہو گا تو عدالت کو بتائیں گے کہ ملزمان کے بیانات ایک دوسرے کے ہی خلاف ہیں، بابر اعوان کے دور میں چار بار سمری وزارت قانون کو بھیجی گئی لیکن تاخیر کی گئی ۔

پراسیکیوٹر نے بتایا کہ وزیراعظم آفس نے وزارت قانون کو میمورنڈم جاری کیا، وزارت قانون نے جواب دیا کہ وزارت اس وقت جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں، بابر اعوان کے ہٹنے کے بعد وزارت قانون کی جانب سے تعاون شروع کیا گیا ۔

نیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ رحمت حسین جعفری کمیشن کی رپورٹ موجود ہے، وزارت قانون نے صرف ایک فارم جاری کرنا تھا نہیں کیا ۔ نیب پراسیکیوٹر کے مطابق یہ سب بابر اعوان کے دور میں وزارت قانون کی نااہلی کے باعث ہوا ۔ جج نے پوچھا کہ صرف ایک فارم جاری کرنا اتنی بڑی بات تو نہیں تھی معاملہ کیوں التوا میں آ رکھا گیا؟ پراسیکیوٹر نے بتایا کہ وزیراعظم سیکرٹریٹ سے لکھے گئے تمام خطوط ریکارڈ پر موجود ہیں، ٹرائل چلے گا تو ہم شواہد سے کیس ثابت کریں گے ۔ نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ہمارے پاس 37گواہان موجود ہیں ان کے خلاف جو بیان دیں گے ۔

پراسیکیوٹر نے بتایا کہ وزارت خزانہ نے اس وقت فارم جاری کر دیا تو وزارت قانون کو کیا رکاوٹ تھی؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ایک بندے کی وجہ سے ریاست کو کروڑوں کا نقصان ہو جائے اور وہ کہے میں نے کچھ نہیں کیا؟ بابر اعوان کی درخواست بریت قابل سماعت ہی نہیں ۔

نیب پراسیکیوٹر کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے بابر اعوان کی بریت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا جو ۲۰ فروری کو سنایا جائے گا ۔


متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button