شہزادہ آ گیا میدان میں

عمار مسعود
یہ قصہ خلیج کی ریاستوں میں سے ایک چھوٹی ریاست کے عیاش شہزادے کا ہے۔ اس عیاش شہزادے کے من میں جانے کیا سمائی کہ اس نے پاکستان آنے کی ٹھان لی۔ پاکستان کا قصد ایک دوست ملک سے باہمی تعلقات کے فروغ کی خاطر بالکل نہیں ہوا۔ دراصل شہزادے نے سن رکھا تھا کہ پاکستان ایک غریب ملک ہے۔ یہاں کی بیشتر آبادی دو وقت کی روٹی کو ترستی ہے۔ پینے کا صاف پانی عوام کو میسر نہیں۔ صحت کی سہولیات اور کھیل کے میدان تک موجود نہیں ۔ شہزادے کی آمد کی وجہ نہ حکومتی نظام میں بہتری تھی، نہ غریب عوام کی فلاح کا کوئی ارداہ تھا۔ دراصل شہزادہ امیر ریاستوں میں سے ایک چھوٹی ریاست کا شہزادہ تھا اور اپنے ارد گرد بے شمار امیر لوگوں میں رہ کر وہ کچھ احساس کمتری میں مبتلا ہو گیا تھا۔ وہ خلیج کے لوگوں کو اپنی دولت سے مرعوب نہیں کرسکتا تھا اس لیئے اس نے ایک غریب ملک کے سفر کی ٹھانی۔ ایسا ملک جہاں کے لوگ اس کی جاہ و حشمت سے خوب مرعوب ہوں، اس کے قصیدے گائیں، اسکے کے نام کے نعرے لگائیں کہ ” شہزادہ آ گیا میدان میں ۔ ہے جمالو”
شہزادے نےبڑے پیمانے پر پاکستان پہنچنے کی تیاریاں شروع کر دیں۔ وہ چاہتا تھا کہ پہلی نظر میں ہی پاکستانیوں کو اپنی امارت سے اتنا مرعوب کر دے کہ لوگ تاعمر اسکی تعریف کرتے رہیں۔ اسی مقصد کے پیش نظراس نے سفر کے لیئے امریکہ سے سب سے بڑا طیارہ چارٹرڈ کروایاا۔ درجنوں خدام شہزادے کی دیکھ ریکھ کے لیئے ملازم کیئے گئے۔ شاہی مطبخ کے لیئے شاہی باورچی آ گئے۔ پینے کے لیئے پانی فرانس سے ڈرموں کے حساب سے منگوایا گیا۔ سفر میں آرام کے لیئے مخملیں گدیلوں کا انبار لگ گیا۔ دیو قامت طیارے پر شہزادے کی شبیہ نقش کروائی گئی اور خدا خدا کر کے سفر کا آغاز ہوا۔ جوں جوں پاکستان قریب آ رہا تھا شہزادے کا دل بلیوں اچھل رہا تھا۔ اس کو توقع تھی کہ کہ جیسے ہی شاہی طیارہ پاکستان کی زمیں کو چھوئے گا ۔ لوگ اس کے قصیدے گانا شروع کر دیں گے۔ پاکستان پہنچ کر جب جہاز کا دروازہ کھلا توشہزادے کے لیئے ہاتھ سے بنا ہوا سرخ قالین بچھادیا گیا مگرجیسے ہی شہزادے نے طیارے سے قدم باہر نکالا اسکی امیدوں پر پانی پھر گیا۔ شہزادے کے استقبال کو کوئی امیر، وزیر نہیں آیا ہوا تھا۔ ائر پورٹ کا عملہ نہائت بے دلی سے کھڑا تھا۔ عملے نے نہائت بد تہذیبی سے شہزادے سے پاسپورٹ طلب کیا اور نیم دلی سے اس پر مہریں ثبت کر دیں۔ اسی اثنا میں کچھ "پورٹرز” نے شہزادے کا شاہی سامان اٹھا ،اٹھا کر” کارگو” گاڑی میں پھینکنا شروع کر دیا۔ شاہی عملے کی "امیگریشن” میں بھی شہزادے کو دیر تک لائن میں کھڑے رہنا پڑا۔ شہزادہ اس صورت حال سے نہائت بد دل ہوا۔ ایک دفعہ تو اس نے پاکستانیوں کو مرعوب کرنے کی خواہش پرچار حرف بھیج کر واپسی کا سوچا مگر وزیر باتدبیر نے اسے سمجھایا کہ اپنا دل چھوٹا نہ کرے، ہوش سے کام لے، اگر صبر سے کام لیا جائے تو وہ وقت دور نہیں کہ جب پورے پاکستان میں یہ نعرہ گونجے گا کہ ” شہزادہ آ گیا میدان میں ۔ ہے جمالو۔
شہزادے کا عارضی قیام تو دارالحکومت کے ایک سات ستاروں والے ہوٹل میں تھا مگر افسوس کہ ہوٹل والوں نے بھی شہزادے کو بس واجبی سی توجہ دی۔ پہلے تو ایڈوانس میں قیام کے پیسے دھروا لیئے پھر ہوٹل کا عملہ شہزادے کی پاسپورٹ والی تصویر اور اصل شکل کے بارے میں رکیک جملے کہتے پایا گیا۔ شہزادے کو کمرہ بھی "نان سموکنگ” نصیب ہوا اور وہاں "شیشہ” پینے کی ممانعت کا بورڈ بھی لگا دیا۔ شہزادہ اس رویے سے بہت دکھی ہو چکا تھا ۔ اس نے پاکستانیوں کو مرعوب کرنے کے کیا کیا جتن نہیں کیئے تھے مگر کسی نے اسکی طرف رشک سے نہیں دیکھا۔ اسی پریشانی کے عالم میں وزیر باتدبیر کمرے میں وارد ہوا اور شہزادے کے دل جوئی کے لیئے کہنے لگا ” حضور میں نے آپکی پریس کانفرنس کا انتظام کیا ہے جس میں آپ پاکستان میں اپنے شاہی محل کی تعمیر کے عالیشان منصوبے کا اعلان کریں گے اسطرح اس غریب ملک کے باسی "فارن انوسٹمنٹ” کا سن کر آپ کی بہت پذیرائی کریں گے”۔
پریس کانفرنس میں چند گمنام سے روزناموں کے رپورٹر بیزار بیٹھے تھے۔ جن کی توجہ شہزادے سے زیادہ پیسٹریوں اور کیک پر تھی۔ شہزادے نے شاہی محل کی تعمیر کا اعلان کیا۔ سینکٹروں ایکڑ زمیں خریدنے کا عندیہ دیا اور دنیا کا بہترین محل بنانے کا اعلان کیا۔ اگلے دن شائد ہی کسی کام کے اخبار میں یہ خبر لگی ہو۔ ملکی میڈیا اس بارے میں خاموش ہی رہا اور پاکستانیوں کو مرعوب کرنی کی خواہش شہزادے کے دل میں سسکتی ہی رہی۔
شاہی عملے نے شاہی محل کی تعمیر کے لیئے بڑے پیمانے پر زمیں خریدی ۔ دیواریں بنانے کے لیئے افریقہ کی مٹی کی اینٹِں تیار کروائیں۔ لان کے لِئے برطانیہ سے گھاس آئی۔ کچن کا سامان امریکہ سے منگوایا۔ باتھ روم سونے کی ٹائلوں کے تجویز کیئے گئے۔ درو دیوار کو روغن کرنے والے فرانس سے آئے۔ فانوس اوربرقی قمقمے بیلجئم سے آڈر کیئے گئے۔ طرزتعمیر کو روایتی رنگ دینے لیئے ماہر تعمیرات ملک شام سے درآمد کیا گیا۔ غرض ہر، ہر چیز پر جتنا پیسہ لگ سکتا تھا، لگایا گیا۔ یہ خبریں ہر روز پریس میں ریلیز بھی کی گئیں مگر مجال ہے جو پاکستانیوں میں سے کوئی ایک شخص بھی اسکی دولت سے مرعوب ہوا ہو۔ محل کی تعمیر آخری مرحلوں پر تھی اور شہزادہ اب پاکستانیوں کے رویئے سے بہت عاجز آ چکا تھا۔ اسکے پاس جمع شدہ شاہی خزانہ بھی تیزی سے ختم ہو رہا تھا۔ اس عالم پریشانی میں ایک دن وزیر باتدبیر مخل ہوا اور کہنے لگا "حضور کے اقبال بلند ہوں اب محل میں "گیزر” لگانے کا مرحلہ آگیا ہے۔ "گیزر” کس ملک کا منگوانا ہے” ۔ شہزاداہ پہلے ہی اکتا یا ہوا بیٹھا تھا اس نے بے زاری سے کہا” لوکل” منگوا لو اور میرے آرام میں مخل نہ ہوا۔ کچھ ہی دیر بعد وزیر با تدبیر ہانپتا کانپتا شہزادے کی آرام گاہ میں داخل ہوا۔ اور کہنے لگا "حضور جب سے "گیزر” آیا ہے عوام کا ایک جم غفیر جمع ہے، جو آپ کی دریا دلی اور ثروت مندی کے قصیدے گا رہا ہے”۔ شہزادے نے شاہی جھروکے سے دیکھا تو عوام کی ایک بڑی تعداد اس عیاشی یعنی "گیزر” کو بڑے رشک سے دیکھ رہی تھی اور کچھ لوگ تو” گیزر” کو بار بار چھوتے اور چومتے جا رہے تھے۔ ہر طرف شہزادہ کے حق میں نعرے لگ رہے تھے۔ سب ہی لوگ کہہ رہے تھے ” واہ بھئی واہ بہت ہی عیاش شہزادہ ہے یہ تو”۔ شہزادہ اس صورت حال پر بہت خوش ہو ا ۔ عین اسی وقت اسکی خوشی کو غارت کرنے کے لیئے وزیر باتدبیر نے پڑوسی محل کا گیس کا بل شہزادے کے ہاتھ میں تھما دیا۔ شہزادہ پہلے تو پھٹی پھتی آنکھوں سے گیس کے بل کو دیکھتا رہا اور پھر جلال میں آ کر بولا۔ ابھی اور اسی وقت یہ ” گیزر” واپس کروایا جائے۔ میں اس عیاشی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ یہ کہنے کے ساتھ ہی شہزادے نے ایک بڑا سے دیگچہ لیا اور غسل کی غرض سے پانی گرم ہونے لکڑیوں کے چولہے پر رکھ دیا ۔ کہنے والے کہتے ہیں شہزادہ اس وقت زیر لب بڑبڑا رہا تھا ” اب میں اتنا بھی شہزادہ نہیں ہوں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے