پرائیویٹ اسکولز والوں میں شرم نہیں

  سپریم کورٹ نے نجی سکولوں کی فیس کے کیس میں وفاقی دارالحکومت کے دو نجی سکولوں سے عدالتی فیصلے کے بارے میں توہین آمیز زبان استعمال کرنے پر تحریری جواب طلب کر لیا ہے۔

بنچ کے سربراہ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ نجی سکولوں کی انتظامیہ کی آنکھ میں شرم کا ایک قطرہ بھی نہیں ہے، نجی سکولوں سے بچے کتنی بیماریاں لے کر نکلتے ہیں۔

جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں بنچ نے کیس کی سماعت کا آغاز کیا تو جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ نجی سکولوں نے عدالتی فیصلے کے بعد والدین کو خط لکھا، خط میں تضحیک آمیز زبان استعمال کی گئی اور فیصلے کو ظالمانہ / ڈریکونین لکھا ۔

نجی سکول کے وکیل نے کہا کہ عدالت کی تضحیک کا کوئی ارادہ نہیں تھا، عدالتی فیصلے پر عمل کرکے فیس کم کردی ہے ۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ عدالتی فیصلے کے بعد کس قسم کی باتیں کی گئیں، نجی سکولوں سے کیوں نہ نمٹ لیں، حکومت کو نجی سکول تحویل میں لینے کا حکم دے دیتے ہیں، سکول انڈسٹری یا پیسہ بنانے کا شعبہ نہیں ۔

جسٹس گلزار احمد نے مزید کہا کہ نجی سکولوں نے تعلیم کو کاروبار بنا دیا ہے، نجی سکول والے بچوں کے گھروں میں گھس گئے ہیں، گھروں میں زہر گھول دیا ہے، نجی سکول والے بچوں کے والدین سے ایسے سوال پوچھتے ہیں جن کا تصور نہیں کرسکتے، والدین بچوں کو لے کر سیر کرانے کہاں جاتے ہیں یہ پوچھنے والے پرائیویٹ سکول والے کون ہوتے ہیں، سب سے زیادہ فیس لینے والے سکول کو مشہور اور اچھا سمجھا جاتا ہے، ہم سمجھتے ہیں سرکاری سکولوں کی کارکردگی زیادہ بہتر ہے ۔

جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ نجی سکول والے والدین سے ان کی نجی زندگی سے متعلق تضحیک آمیز سوالات کرتے ہیں، نجی سکول والے والدین سے ایسے سوالات پوچھتے ہیں کہ وہ بیچارے روتے ہوئے نکلتے ہیں، والدین سے پوچھا جاتا ہے کتنی تنخواہ ہے؟ کب سوتے ہیں؟ کب اٹھتے ہیں؟ سکول والوں کا یہ پوچھنے کا کیا کام؟

جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ نجی سکولز والے اس ساری گندگی کو بند کریں ۔ بعدازاں عدالت نجی سکولوں سے عدالتی فیصلے پر من و عن عمل درآمد سے متعلق تحریری جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 2ہفتوں تک ملتوی کردی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button