مرغی چور نہیں عادی مجرم ہے، سپریم کورٹ

چوری کے الزام میں اڈیالہ جیل میں دس ماہ سے بند شخص کے بارے میں عدالت عظمی کو بتایا گیا ہے کہ اس کے خلاف مرغی چوری کے علاوہ بھی کئی مقدمات درج ہیں ۔

سپریم کورٹ نے مرغیوں سمیت دیگر اشیا کی چوری پر گرفتار کئے گئے ملزم محمد زاہد سے متعلق تمام ریکارڈز تین روز میں طلب کر لیا ہے ۔

پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق جسٹس مشیر عالم نے دو رکنی بنچ کی سربراہی کرتے ہوئے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ ملزم تو کرمنل ریکارڈ یافتہ ہے ۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کے خلاف اس کیس سمیت 8 مقدمات درج ہوئے ۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام اباد کے مطابق گلگت میں بھی چوری کے 4 مقدمات ملزم کے خلاف درج ہوئے ۔

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ چاروں ایف آئی آر ایک ہی دن درج کرانا بھی عجیب سی بات لگتی ہے ۔ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ ملزم کے خلاف 17 اپریل دو ہزار اٹھارہ کو مقدمہ درج ہوا، ملزم سے مرغیاں، واٹر ڈسپنسر،ایل سی ڈیز اور کمپیوٹر سمیت دیگر 25 اشیا برآمد ہوئیں ۔

جسٹس قاضی فائز نے پوچھا کہ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرنے میں اڑھائی ماہ کی تاخیر کیوں کی گئی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ ملزم سے ۲۵ اشیا برآمد کی گئی ہیں، عادی ملزم کو ضمانت دینا بھی مشکل ہے ۔

عدالت نے پولیس کو ملزم سے متعلق تمام تر ریکارڈ تین دن میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے