نیب بحریہ ٹاؤن کے خلاف کارروائی جاری رکھے

سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کراچی کے خلاف دیے گئے فیصلے پر عمل درآمد کیس کی سماعت کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی کارروائی جاری رکھے، عدالتی سماعت سے متاثر نہ ہو ۔

سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کراچی فیصلے پر عمل درآمد کیس کی سماعت 14 فروری تک ملتوی کرتے ہوئے کوس موس، پرزم اور ٹرائی سٹار مارکیٹنگ کمپنیوں سے بحریہ ٹاؤن کے پلاٹوں کی بکنگ کی تفصیلات طلب کر لی ہیں ۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ بحریہ ٹاؤن سے متعلق عدالتی کارروائی نیب کے کام پر اثر انداز نہیں ہو گی، نیب عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کیلئے اپنا کام جاری رکھے ۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ہم بحریہ ٹاؤن کے ڈیلرز کو ملزمان کے طور پر نہیں بلا رہے، ڈیلرز کو عدالتی معاونت کے لیے بلایا جا رہا ہے، جسٹس شیخ عظمت سعید نے ڈیلرز کے پیش نہ ہونے پر کہا کہ اگر ڈیلرز مجرم بن کر آنا چاہتے ہیں تو ہم ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیتے ہیں ۔

بحریہ ٹاؤن کے وکیل نے بار بار مداخلت کی تو جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ جو آپ کا مسئلہ نہیں ہے اسے اپنا مسئلہ نہ بنائیں ، جسٹس شیخ عظمت سعید نے بحریہ ٹاؤن کے پلاٹوں کی مارکیٹنگ کرنے والے ڈیلرز سے کہا کہ اگر آپ سے عدالت کی معاونت نہیں ہو سکتی ہو ہم کسی اور کو کہہ دیتے ہیں، آ بیل مجھے مار والا حال نہ کریں ۔

بحریہ ٹاؤن کے وکیل نے ایک موقع پر سپریم کورٹ سے کیس کی سماعت پرسوں تک ملتوی کرنے کی استدعا کی تو جسٹس عظمت نے کہا کہ چودہ فروری کو تو ویلنٹائن ڈے نہیں؟

جسٹس عظمت سعید نے وکیلوں سے مذاق کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کے کلائنٹس نے ہمیں تنگ کیا تو ہم نیب پراسیکیوٹر سے شکایت کریں گے ۔

کیس کی سماعت 14 فروری تک ملتوی کر دی گئی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے