راحیل شریف نے عمران خان سے کیا کہا؟

اسلامی فوجی اتحاد کے سپہ سالار راحیل شریف نے پاکستان کے دورے میں آرمی چیف، وزیر خارجہ اور وزیراعظم سے ملاقاتیں کی ہیں ۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی پاکستان آمد سے قبل ۲۵۰ رکنی وفد کے ہمراہ راحیل شریف کے دورے کو سفارتی ذرائع اور مبصرین اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں ۔

راحیل شریف کی پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کے بعد فوجی ترجمان نے تصویر اور روایتی بیان جاری کیا تھا ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیراعظم عمران خان سے ملاقاتوں کی تفصیل بھی حکومت نے میڈیا کو جاری نہیں کی ۔

اسلام آباد میں سفارتی ذرائع کا دعوی ہے کہ ان ملاقاتوں میں مشرق وسطی، ایران اور یمن کی صورتحال پر بات کی گئی ۔ خیال رہے کہ پاکستان دو برس قبل سعودی عرب کی اس درخواست کو رد کر چکا ہے جس میں یمن افواج بھیجنے کے کیے کہا گیا تھا ۔

پاکستان کی پارلیمنٹ سے یمن میں سعودی عرب کی مدد کیلئے فوج بھیجنے کے خلاف قرارداد کی منظوری کے بعد سعودی و اماراتی حکومتوں نے سخت سفارتی ردعمل ظاہر کیا تھا ۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ سعودی ولی عہد کے دورے اور راحیل شریف کی وفد کے ہمراہ آمد اور اہم ملاقاتوں پر تفصیل سے خبریں اور تجزیے پیش کرنے سے گریز کر رہے ہیں ۔

پاکستان میں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پر تنقیدی جائزے کو ناپسند کیا جاتا ہے اور ایسے موقع پر جبکہ سعودی ولی عہد کی جانب سے اربوں ڈالر کے سرمایہ کاری معاہدوں کی ترغیب دی جا رہی ہے اسلام آباد میں میڈیا کے بڑے ادارے اس دورے کے صرف مثبت پہلو کو اجاگر کر رہے ہیں ۔

متعلقہ مضامین