سندھ کا لسانی آتش فشاں

عبدالجبارناصر
سندھ بھر بالخصوص صوبائی دارالحکومت تقریباً 30سال تک لسانی اور مذہبی دہشت گردی کی زد میں رہا، اس دوران ایک اندازے کے مطابق 30ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے ، لاکھوں متاثر اور لاکھوں افراد کی املاک کو نقصان پہنچا،جبکہ ایک اندازے کے مطابق ان فسادات سے تنگ آکر سندھ سے 50ہزار سے زائد چھوٹی بڑی صنعتیں اندرون ملک یا بیرون ملک منتقل ہوئی اور 15لاکھ سے زائد افراد بے روزگار ہوئے۔
4ستمبر 2013ء سے قبل کراچی میں امن ایک خواب تھا، کیونکہ نہ صرف گلی ، محلے،بلکہ مساجد اور ہسپتال بھی کراچی میں لسانی بنیادوں پر تقسیم تھے، کوئی شخص نہ صرف گھر سے باہر بلکہ اپنے آپ کو اپنے گھرمیں بھی محفوظ نہیں سمجھتا تھا۔ 4ستمبر 2013ء کو شروع ہونے والے آپریشن کے بعد کراچی میں امن کا خواب پورا ہوا اور ایک بار پھر کراچی کی روشنیاں بحال ہوئیں۔ اس بحالی میں وفاقی حکومت، صوبائی حکومت، رینجرز ، پولیس اور دیگر اداروں کا کردار قابل تحسین رہا۔
2018ء کی آخری سہ ماہی میں ایک بار پھر مختلف جرائم میں اضافہ ہونا شروع ہوا بالخصوص اسٹریٹ کرائم میں اضافہ تشویشناک حد تک ہوا اوروفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اعلانات تو کئے مگر بہتری بہت کم ہی محسوس کی گئی اوراب جو لسانی فسادات کی ایک نئی لہر آئی ہے وہ ایک آتش فشاں ہے، اس پر فوری قابو نہ پایا گیا تواب کی بار صرف کراچی یا حیدر آباد نہیں بلکہ سندھ کے بیشتر اضلاع نشانہ بنیں گے۔
لسانی فسادات کی حالیہ لہر 6 فروری 2019ء کونیشنل ہائی وے بھنس کالونی میں ایک یوسی چیئرمین رحیم شاہ کی جانب سے ایک شخص ارشاد رانجھانی کو ڈکیت قرار دیکر 5 گولیاں مار کر زخمی کرنا اور زخمی کو فوری ہسپتال پہنچانے سے روکنے، پولیس کی مجرمانہ غفلت کے باعث بر وقت علاج کی سہولت نہ ملنے سے زخمی شخص کے جاں بحق ہونے سے آئی ہے۔
بنیادی طور پر یہ واقعہ ایک فرد اور پولیس کی مجرمانہ غفلت کے نتیجہ میں پیش آیا مگر افسوس کہ اس کو بعض افراد نے دانستہ طور پر لسانی رنگ دیا اور پھر جلسے،جلوس، مظاہروں اوراحتجاج کا سلسلہ شروع ہوا،جس میں انتائی خوفناک نعرے لگے اور عملاً لوگوں کو لسانی فسادات کی تلقین کی گئی، اس میں مختلف سیاسی جماعتوں اور قوم پرست تنظیموں کے ذمہ داران ، کچھ صحافی، مبینہ سول سوسائٹی اور سوشل میڈیا کے بعض سرگرم افراد پیش پیش تھے۔ اگر یہ احتجاج قاتلوں اور مجرمانہ غفلت کے مجرموں کے خلاف کارروائی تک محدود رہتا تو قابل قبول اقدام ہوتا مگر افسوس یہ کہ اس احتجاج کو عملاً لسانی رنگ دیا گیا اور اس کا نتیجہ 13فروری 2019ء کو لاڑکانہ کے علاقے نوڈیرو میں 3 مزدوروں کے قتل کی صورت میں نکلا، مقتول مزدوروں کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے۔
اب صورتحال کافی کشیدہ ہوچکی ہے ، جس کوصورتحال کو فوری کنڑول نہ کیا گیا تو حالات ماضی سے بد تر ہوسکتے ہیں۔
فوری تدارک کے لئے ضروری ہے کہ ارشاد رانجھانی اور تین مزدوروں کے قاتلوں کو فوری کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
ایک کمیشن تشکیل دیکران مجرموں کو تلاش کیا جائے جنہوں نے ایک فرد کے غیر قانونی اور درندگی پر مبنی عمل کولسانی رنگ دیکر پورے صوبے کو لسانی آگ جھونکنے کی کوشش کی ہے۔
سنجیدہ سندھی اور پختون قوم پرست قوتوں کے ساتھ ساتھ تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی قیادت کو ہنگامی بنیادوں پر ایک جگہ جمع کرکے لسانی فسادات کی سازش کو ناکام بنائیں۔
فسادات کا رنگ دینے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کاروائی کی جائے۔
تمام سیکیورٹی اداروں کو انتہائی ہائی الرٹ کردیا جائے۔
متاثرین کو فوری انصاف فراہم کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے