کشمیر حملے کے بعد

اظہر سید
جموں سری نگر شاہراہ پر انڈین فوجی کانوائے پر حملہ کی ٹائمنگ کا تجزیہ کیا جائے اور خطے میں لڑی جانے والی ایجنسیوں کی پراکسی جنگوں کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کی مشکلات میں اضافہ نظر آرہا ہے ۔ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلاتا ہے لیکن اس جمہوریت سے بھارتی فوج کہیں زیادہ طاقتور ہو چکی ہے ۔ بھارتی فوج سرکریک اور سیاچن کو نومین لینڈ قرار دینے کی بھارتی جمہوریت کی کوشش کو ویٹو کر چکی ہے ۔ بھارتی فوج من موہن کی وزارت عظمی میں مقبوضہ کشمیر میں حکومت کے علم میں لائے بغیر ایک خصوصی یونٹ قائم کر چکی ہے جو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتا تھا۔ بھارتی فوج کا ایک کرنل مسلمانوں کو ہدف بنانے کی دہشت گردی کی متعدد کاروائیوں میں پکڑا جا چکا ہے ۔ بھارتی فوج انتہا پسند ہندووں کی ایسی فوج کی شکل اختیار کر چکی ہے جو انتہا پسند بی جے پی حکومت کو سیاسی تقویت دینے کیلئے سرجیکل سٹرائیک کا دعوی کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتی ۔ بھارتی فوج کانگرس کی حکومت میں پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور بھارتی وزیراعظم کے درمیان شرم الشیخ میں مذاکرات کے بعد اس مشترکہ بیان کو مسترد کر چکی ہے جو بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے متعلق تھا ۔
جموں سری نگر شاہراہ پر خود کش کار بم حملہ اس لحاظ سے بہت انوکھا ہے کہ اپنی نوعیت کا پہلا حملہ ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین گزشتہ ستر سال سے حملے کر رہے ہیں بے، شمار خود کش حملے کئے گئے لیکن بارود بھری کار سے حملہ پہلا حملہ ہے ۔ آج تک مقبوضہ کشمیر میں کسی مجاہد نے نہ بارودی بیلٹ باندھ کر خود کو اڑایا نہ بارود بھری کار سے حملہ کیا البتہ سرفروشانہ حملے متعدد بار ہوئے جن میں زندہ بچنے کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔
موجودہ حملہ بھارتی عام انتخابات سے پہلے ہوا ہے اور توقع کے عین مطابق بھارتی فوج اور انتہا پسند مودی حکومت نے اس حملے کو بھارتی رائے عامہ کو پاکستان کے خلاف ہموار کرنے کیلئے استمال کرنا شروع بھی کر دیا ہے ۔ بھارتی میڈیا بھی بھارت کی سیکولر سیاسی جماعتوں کی بجائے بھارتی فوج اور انتہا پسند بی جے پی حکومت کے موقف کی تائید کر رہا ہے اور جیش محمد کے ایک ترجمان کے حملے میں ملوث ہونے کے اعتراف کو لے کر پاک فوج اور آئی ایس آئی کو معطون کر رہا ہے ۔
امریکی افغانستان سے واپس جا رہے ہیں اور بھارتی افغانستان میں اپنی سرمایہ کاری برباد ہونے کے خدشات سے دو چار ہیں ۔ افغانستان میں امریکہ اور بھارت کی مشترکہ ناکامی کا نتیجہ پلوامہ میں فوجی قافلے پر حملے کی صورت میں نکلا ہے ۔ بھارتی انتہا پسند ہندوؤں کی حکمران جماعت اس حملے کو آئیندہ عام انتخابات میں کامیابی کیلئے استمال کرے گی اور عین ممکن ہے پاکستان پر محدود جنگ مسلط کرنے کی سازش رچائی جائے ۔
امریکی اس حملہ کو پاکستان کو دباو میں لانے کیلئے استمال کریں گے اور افغانستان میں اپنی ناکامی کو کامیابی میں بدلنے کی کوشش کریں گے ۔
پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے حکمت سازوں کو ایک حقیقی چیلنج کا سامنا ہے ۔ ملکی معیشت تباہی کے دھانے پر ہے ۔ پاک فوج منظور پشتین، نواز شریف کے خلاف کارروائی کے تاثر اور عام انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علما اسلام، بلوچ قوم پرست جماعتوں اور ایم کیو ایم کی انتخابات میں شکست کی وجہ سے ان جماعتوں کے حامیوں کی حمایت سے محروم ہو چکی ہے ۔ پاک فوج مولوی خادم حسین کے خلاف کارروائی کی وجہ سے پنجاب میں بھی مذہبی عنصر کی حمایت کھو بیٹھی ہے ۔ بھارتی فوجی قافلے پر خود کش حملہ پراکسی وار کا ایک حصہ ہے جس کا ہدف پاک فوج ہے ۔
نواز شریف کے خلاف کارروائی کی وجہ سے چینی ناراض ہیں ۔ سی پیک پر سرمایہ کاری منجمد ہو چکی، عالمی ریٹنگ ایجنسیوں کی طرف سے پاکستان کی معاشی ریٹنگ گرائی جا چکی اور پاکستان کو گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں ڈالنے کے عمل کا آغاز بھی ہو چکا ۔
بھارتیوں نے اگر اس حملہ کو جواز بنا کر پاکستان کے خلاف کسی ایڈونچر کی کوشش کی تو پاک فوج چینی ناراضی، امریکی حمایت سے محرومی، خراب معیشت اور قومی یکجہتی کے فقدان کے حالات میں کس نوعیت کی جوابی کارروائی کرے گی یہ ملین ڈالر سوال ہے ۔
مسائل حل کئے جا سکتے ہیں اور تمام چیلنجز کا سامنا بھی کیا جا سکتا ہے لیکن بنیادی سوال قومی یکجہتی ہے ۔ ایک نااہل ٹولے کو قوم پر مسلط کر کے ہمالیہ جیسی غلطی کی جا چکی ہے جس کے نتائج سامنے آرہے ہیں ۔ اس سے پہلے کہ پانی سر سے گزر جائے اس غلطی کو درست کر لینا چاہے ۔ ملک اور ادارے سے بڑھ کر کوئی بھی نہیں ہوتا جو آج ہیں کل ریٹائر ہو جائیں گے لیکن ملک اور ادارے ہمیشہ زندہ، طاقتور اور برقرار رہنے چاہئیں بھلے کسی کی ذاتی انا کو قربان کرنا پڑے ۔

متعلقہ مضامین