لفظوں کا دھندا

میں لفظوں کا دھندا کرتا ہوں تم کس کا دھندا کرتے ہو ؟
وقار حیدر
تم نے میرے کمرے کے بارے میں پوچھا ہے، تم کبھی میرے کمرے میں آکر دیکھو! تمہیں جابجا بکھرے الفاظ ملیں گے، ٹوٹے پھوٹے، شکستہ، بے حال، بے جان ، بے بال و پر الفاظ میری شکستگی کی ایسی منظر کشی کر رہے ہوں گے کہ تم دیکھتے ہی دلِ ویران کی شکستگی کی تصویر کا باآسانی تصور کر لو گے۔ جب تم مزید غور کرو گے تو تم پھٹے پرانے، دریدہ الفاظ کا ایک بوسیدہ پیرہن میرے جسم پر پاؤ گے، تم یقینا دلِ لاچار کی بے بسی کو جان لو گے، لیکن یہ تو صرف شروعات ہوگی ۔ بوسیدہ، بے رحم، بے وقعت، بے حیا، اور پارسا الفاظ ایک مجموعہ جو ترتیب سے میرے وجود سے جڑے ہوئے ہیں کہ ان کے بغیر جیسے میں موجود ہی نہیں۔ لیکن اس سے پہلے کہ تم میرے شکستہ بدن کے دریچوں میں جھانکوں، میں تمہیں اپنے کمرے کے بارے بتانا چاہتا ہوں، تمہیں دیواروں پر ٹنگے الفاظ نظرآئیں گے، یہ سب ہی دھول سے اٹے ہوئے لفظ ہیں، کمرے میں کوئی تصویر تو نہیں ہے لیکن لفظوں کی ایک ادھوری شکل ضرور نظر آئے گی۔ تمہاری نظر کھڑکی پر پڑے گی تو دیکھنا کیسے کچھ بے کس الفاظ باہر کی طرف جھانک رہے ہیں۔
خیال رہے کمرے میں داخل ہوتے وقت ایک بار اپنے پاوں کی جانب ضرور دیکھنا جب تک تمہارا پاوں میرے کمرے کی بے رونقی میں قدم رکھے گا کچھ الفاظ تمہارے پاوں سے لپٹ لپٹ جائیں گے، تمہیں اس کمرے کی تیریگی میں اپنی روشنی بکھیرنے سے روکیں گے، تم ایسا کرنا ان کو کچلنا مت، ان سے بچ کر کمرے کے اندر داخل ہونا ، تمہیں یقینا کمرے کی ہولناکی تم پر گراں گزرے گی، لیکن ڈرنے کی کوئی بات نہیں، یہ الفاظ سالوں سے اس کمرے کے مجاور ہیں، یہ بے حس و حرکت الفاظ ہمیشہ سے انتظار میں رہے ہیں کہ انکو کوئی انگلی پکڑ کر باہر کی دنیا میں قدم رکھنا سکھائے ، لیکن اس کمرے کی تاریکی سے یہ اتنے مانوس ہیں کہ باہر کی روشنی کہیں انہیں یقینا اندھا نہ کر دے گی ، انکی آنکھیں چندھیا جائیں گی۔ تم غور کرنا اخبار کے بستر پر وہ دائیں ہاتھ میں کونے کے ساتھ کتنے ہی ورق ایسے ہیں جن کی سفیدی کو ان الفاظ نے سیاہ کر دیا ہے۔ تمہیں شاید کچھ الفاظ کی چبھن بھی محسوس ہے ، کچھ الفاظ یقینا زہر آلودہ بھی ہوںگے، تم انکی زہر افشانی سے اپنی قوت سماعت کو بچائے رکھنا کہ انکی کڑواہٹ تمہارے الفاظ کا ذائقہ ہی نہ بدل دے ، یہاں کچھ الفاظ بے زباں ہے تو کچھ بد زبان بھی ہیں تمہیں یہ سب نا چاہتے ہوئے جھیلنے پڑیں گے
یہ نیم مردہ الفاظ تھے ، لیکن کچھ الفاظ دل کے تہہ خانوں میں کہیں کونوں کھدروں میں دل لبھانے ، ہنسانے والے بھی ہیں ، محبت کی مٹھاس کا تو نہیں پتہ لیکن عشق کی خون آشام شاموں کا رنگ ان الفاظ میں موجود ہے ، شاعروں کے شعر سے لیکر محبت و خلوص اور چاہتوں کےجزبوں سے سرشار یہ الفاظ سچے بھی ہیں اور پکے بھی ہیں لیکن اپنے کام میں ، یوں سمجھ لیجئے محبت کا استعمال کرنا بھی ان کےلئے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ یہ الفاظ رشتے بنانے اور بگاڑنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ کچھ پُرامید الفاظ بھی کمرے میں موجود چراغ کی لو بن کر ٹمٹما رہے ہیں، کمرہ کے بیت الخلا کی جانب نظر نہ ہی اٹھے تو بہتر ہے، وہاں پر ننگے، فحش، بدزبان، بے تاب، بے مروت، نسوانیت اور جنسی عمل سے بھرپورلفظوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ الفاظ نہیں درندے ہیں۔ ایسے الفاظ کہ چند ایک تو گھٹیا کے زمرے سے بھی تجاوزکر چکے ہیں، الفاظ کی عریانی دیکھ کر تو آپ کو ہو جائے کہ یہ الفاظ کبھی پیشیمان نہیں ہونے والے، لیکن پھر بھی چند ایک الفاظ حیادار بھی ہیں اور وفادار بھی ہیں اور رہی بات وضع داری کی تو وہ یقینا نظر آ ہی رہی ہوگی ۔
آپ کو شاید بُرا لگے لیکن ان الفاظ کی بناوٹ اور آوازیں اسی معاشرے سے مجھ تک پہنچی ہیں، مجبوروں کی چیخوں سے لیکر سعادت مندوں کے قہقہوں تک الفاظ کی لہریں میرے کانوں سے ٹکراتی رہتی ہیں ۔ میں ہوا کے دوش پر موجود ہر الفاظ کی پُراسراریت پر کان دھرتا ہوں، پھر اسکے بعد نہیں معلوم کتنی صداوں کا جواب دیتا ہوں اور کتنے آہوں کو اَن سنا کردیتا ہوں، مجھے جون صاحب کا ایک شعر یاد آ رہا ہے
میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں
میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں


ہم جون کی خون آلودہ کتابوں کی رمز تو شاید ابھی تک نہیں جان سکے لیکن اتنا ضرور ہے کہ جو چند الفاظ مستعار لیے گئے ہیں ان میں شاعروں، ادیبوں اور قلم کاروں کی جھلک اس لیے موجود ہے کہ ہم بھی کبھی کبھار پڑھنے کی سعی کر لیتے ہیں۔ اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ
میرے کمرے کو دیکھنے کی تمنا ہے تمہیں
میرے کمرے میں الفاظ کے سوا کچھ بھی نہیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے