پاک بھارت ایٹمی جنگ

اظہر سید
بھارت کی طرف سے کسی ایڈونچر کے خدشات جس قدر حقیقی آج ہیں کبھی بھی نہیں تھے ۔بھارتی افغانستان میں اپنی سرمایہ کاری ضائع ہوتی دیکھ رہے ہیں ۔کارگل کی لڑائی کے دوران پاکستانی حکمت سازوں نے بھارت کی طرف سے فضائیہ اور دور مار توپوں کے استمال کے باوجود پسپائی کی آپشن استمال کر لی لیکن پاک فضائیہ اور طاقتور آرٹلری استمال نہ کر کے خطہ کو ایٹمی جنگ سے بچا لیا ۔ بھارت کی ملٹری اکیڈمیوں میں کارگل کی جنگ کے دوران پاکستانی فوج کے ردعمل پر مختلف طرح کے نظریے پیش کئے جاتے ہیں ۔ گزشتہ سال جنوری 2018 میں بھارتی فوج کے سربراہ جنرل راوت نے بھری پریس کانفرنس میں یہ کہہ کر پوری دنیا کو حیران کر دیا تھا ” ہم پاکستانی فوج کا ایٹمی بلف دیکھنے کیلئے تیار ہیں "
بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ کے بعد دونوں ملکوں کی مسلح افواج ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کئی ماہ سرحدوں پر موجود رہیں اور پھر سیز فائر معاہدہ میں بھارت نے صرف لائین آف کنٹرول پر باڑ لگانے کی پاکستانی اجازت ہی حاصل نہیں کی امریکی ضمانت پر یہ یقین دہانی بھی لے لی "پاکستانی سرزمین در اندازی کیلئے استمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی” جبکہ امریکیوں نے افغانستان میں خود بھی ریلیف حاصل کیا بھارتیوں کو بھی قدم جمانے کے بہترین مواقع فراہم کروائے ۔
بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ آور ممبئی میں دہشت گردی کی وارداتوں سے بھارت نے بے پناہ فوائد حاصل کئے ۔پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی حمایت کرنے والی ریاست کا عالمی سطح پر پروپیگنڈہ کیا اور پاکستان کو عالمی سطع پر تنہا کرنے کی کامیاب کوشش کی ۔ پاک فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف پروپیگنڈے کی کامیابی کا یہ عالم تھا پاکستان میں دہشت گردی میں ہزاروں لوگوں کو مار دیا گیا لیکن دنیا کی توجہ بھارتی پارلیمنٹ اور ممبئی دہشت گردی کے واقعات کی طرف تھی جس کا مجرم پاکستان کو ٹھہرایا گیا تھا جبکہ پاکستان 50 ہزار ہلاکتوں کے باوجود بھارت اور امریکیوں کی طرف انگلیاں اٹھانے سے قاصر رہا ۔
بھارتی فوجی قافلے پر حملہ بھی اسی پراکسی وار کا حصہ ہے جس میں پاکستانی طالبان کفر کی حکومت کے خاتمے کیلئے شام اور عراق کے بعد افغانستان میں اچانک نمودار ہونے والی داعش میں جوق در جوق شامل ہونے لگے تھے اور یہ جانے بغیر پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے داعشیوں کو عراق اور شام سے افغانستان میں کون لے کر آیا ہے ۔
جس کشمیری نوجوان نے خود کش حملہ کیا ہے وہ بھارتی فوج کے ہاتھوں گرفتار بھی ہو چکا ہے اور تشدد کا سامنا بھی کر چکا ہے ۔اس نوجوان کی بھارتی فوج کے خلاف نفرت کو کسی ایسی خفیہ ایجنسی نے استمال کیا ہے جو پاکستان کو افغانستان میں واک اوور نہیں دینا چاہتی ۔جو لائیں آف کنٹرول پر باڑ لگوانے ایسی کوئی سٹرٹیجک کامیابی حاصل کرنا چاہتی ہے یا بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کے عالمی عدالت انصاف میں چلنے والے مقدمہ میں رہائی کی خواہاں ہے ۔
پاکستانی فوج آپریشن رد الفساد، آپریشن ضرب عضب اور افغانستان میں کامیابی حاصل کر چکی ہے ۔اندرونی محاذ پر میاں نواز شریف کو شکست فاش ہی نہیں ملی آصف علی زرداری ،الطاف حسین،مولانا فضل الرحمن،اسفندیار ولی اور محمود اچکزئی سمیت تمام آوازیں خاموش کر دی گئی ہیں اور اپنے پسندیدہ نئے فخر کو عام انتخابات میں کامیابی بھی دلوا دی گئی ہے ۔اسٹیبلشمنٹ کی ان تمام کامیابیوں کے باوجود جس قدر کمزور اسٹیبلشمنٹ آج ہے کبھی نہیں تھی اور بھارتی اسی کمزوری سے فائدہ اٹھانے کے چکر میں ہیں ۔
پاکستانی معیشت بدترین بحران کا شکار ہے ادائیگیوں کے توازن میں نادہندگی کی تلوار گویا سر پر گرنے کو ہے ۔ملک کے اندر منظور پشتین اور نواز شریف کے خلاف کاروائی ،مولوی خادم حسین کی گرفتاری ، سانحہ ساہیوال،بلوچستان میں ایک پروفیسر کے قتل ،راو انوار کے خلاف سست روی سے چلنے والی مشکوک کاروائی سمیت متعدد ایسے واقعات تسلسل سے ہو رہے ہیں اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ایک رائے عامہ بن رہی ہے اور بھارتیوں کیلئے یہ سنہرا موقع ہے وہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو پلوامہ واقعہ کی آڑ میں دباو میں لانے کی کوشش کریں ۔
بلوچستان سے منسلک ایرانی علاقے میں دہشت گردی کرنے والی قوتیں وہی ہیں جنہوں نے بھارتی فوجی قافلے پر خود کش حملہ اسٹیج کروایا ۔ایک طرف بھارتی راجھستان میں جنگی مشقیں کر رہے ہیں دوسری طرف ایرانی اپنے دانت تیز کرنے کے چکر میں ہیں اور تیسری جانب افغانی سرحدوں پر جمع ہو کر دھمکیاں لگا رہے ہیں ۔تشویش ناک بات یہ ہے چینی مسلسل خاموش ہیں ۔
بھارت ایڈونچر کرے گا وہاں رائے عامہ پاکستان کے خلاف اسی طرح ہموار کی جا رہی ہے جس طرح کارگل کی لڑائی کے دوران کی گئی تھی ۔درپیش چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے کرپشن کرپشن کا ڈرامہ بند کیا جائے اور فوری طور پر میاں نواز شریف آصف علی زرداری منظور پشتین محمود اچکزئی مولانا فضل الرحمن سمیت تمام قومی راہنماوں کی کانفرنس منعقد کی جائے اور بین الاقوامی برادری کو قومی اتحاد سے اسی طرح جواب دیا جائے جس طرح بھارت کی تمام سیاسی جماعتوں نے پاکستان کے خلاف انتہا پسند ہندو حکومت کی حمایت کا اعلان کیا ہے ۔ تمام پالتو اینکرز کو میاں نواز شریف آصف علی زرداری اور عمران خان کے خلاف مہم جوئی کی بجائے بھارت عزائم کے حوالے سے ٹاسک دی جائے اور رائے عامہ کو ہموار کیا جائے ۔بعض
جنرلوں نے اپنی حماقتوں سے آج پاکستان کو ایک مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا ہے لیکن یہ فوج ہماری اپنی ہے اور آزادی کی ضمانت بھی ہے ۔ادارہ جاتی خرابیاں دور کی جا سکتی ہیں لیکن پہلی ترجیح گھر کی حفاظت اور تحفظ ہے ۔فوج کو پوری قوم کی حمایت ملے گی تو وہ ملکی سالمیت کا تحفظ کر سکے گی ۔
بھارتی محدود جنگ کی طرف جائیں گے ایٹمی جنگ سے بچنے کی کوشش کریں گے کیونکہ ان کے پاس کھونے کیلئے بہت کچھ ہے ۔محدود جنگ پاکستان کے مفاد میں نہیں کہ اس سے مرکز گریز قوتوں کو بھی تقویت ملے گی اور معیشت بھی محدود جنگ کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہو گی ۔
کاش نواز شریف کے ہاتھ مضبوط کئے جاتے سی پیک پر کام جنگی رفتار سے جاری رہتا عام انتخابات میں مداخلت نہ کی جاتی پاکستانی معیشت جو ٹیک آف کی پوزیشن میں آرہی تھی اس کو کرپشن،توہین رسالت اور مودی کا یار کے پروپیگنڈے سے تباہ نہ کیا جاتا ۔اب بھی غلطیاں درست کی جا سکتی ہیں لیکن اس کیلئے خلوص اور ذاتی انا کر ترک کرنا اولین شرط ہے ۔

متعلقہ مضامین