سندھ اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن بے بس

رپورٹر کی ڈائری : عبدالجبارناصر
سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن جماعتیں بالخصوص تحریک انصاف اپنی نااتفاقی، عدم تعاون و مشاورت اور قائد حزب اختلاف کی ناتجربہ کاری کی وجہ سے مشکل میں نظرآئی ۔ جمعہ کو شام 4 بج کر 20 منٹ سے رات 9 بجکر 35 منٹ تک جاری رہنے والے سوا 5 گھنٹے کے اجلاس کے دوران ایک مرتبہ پھر حکومت اپوزیشن کو زچ کرنے میں کامیاب رہی ، مگر کشمیر کے حوالے سے قرارداد پہلے پیش کرنے کی حکومتی مخالفت سمجھ سے بالاتر تھی، اپوزیشن تقسیم در تقسیم اور ایک دوسرے کو نیچا دکھاتی نظر آئی ۔
اجلاس کے آغاز کے بعد دعا کے دوران ہی تحریک انصاف اورگرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس ( جی ڈی اے ) کے کچھ ارکان نے سندھ حکومت کے حوالے سے اشاروں میں بات کی کوشش کی ۔ ایک موقع پر جبکہ تحریک انصاف کے خرم شیر زمان نے کچھ کہا تو صوبائی وزیر مکیش کمار نے انتہائی تلخی سے کہا کہ ’’دعا کے لئے کہیں ‘‘ اور خرم شیر زمان خاموش ہوئے ۔ تحریک انصاف کے ایک رکن نے کہاکہ ’’زخمیوں کی مغفرت اور مقتولین کی صحت یابی کےلئے دعا کی جائے‘‘ قریب سے تصحیح کرانے کے باوجود جملہ درست نہیں ہوا۔ وقفہ سوال کے دوران تحریک انصاف کے فردوس شمیم نقوی، خرم شیر زمان اور جی ڈی اے کے عارف مصطفی جتوئی کے طنزیہ سوالا ت کا صوبائی وزیر مکیش کمار نے بھی طنزیہ جوابات دے کر لاجواب کردیا۔
نیب کی جانب سے گرفتار اسپیکر سندھ آغا سراج درانی کو پروڈکشن آڈر پر نیب سیکیورٹی اہلکاروں نے دوپہر کو ہی اسمبلی میں پہنچادیا اور رات 11بجے تک آغا سراج درانی اسمبلی میں رہے، اس دوران پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے سربراہ اور سابق صدر آصف علی زرداری نے اسمبلی میں آکر آغاسراج درانی سے ملاقات کی۔ آغاسراج درانی جب اجلاس کی صدارت کے لئے ایوان میں آئے تو پیپلزپارٹی، متحدہ مجلس عمل اور تحریک لبیک پاکستان کے ارکان نے کھڑے ہو کر ڈیسک بجا کر پرتپاک انداز میں استقبال کیا۔


آغا سراج درانی نے اپنے بیان میں اپنی گرفتاری پر نیب کی کارروائی کا دفاع کرنے والے تحریک انصاف کے ارکان کو نام لئے بغیر سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کئی مواقع پر جذباتی ہوگئے ۔ ایک موقع پر اپنی بچیوں کے ساتھ نیب اہلکاروں کی بدسلوکی کا ذکر کرتے ہوئے ان کے آنسو نکلے اور ایوان کا ماحول بھی جذباتی نظر آیا۔
اجلاس میں قرار دادوں کے پیش اور احتجاج کے موقع پر اپوزیشن جماعتیں بالخصوص تحریک انصاف اپنی نااتفاقی، عدم تعاون و مشاورت اور قائد حزب اختلاف کی ناتجربہ کاری کی وجہ سے مسلسل زچ رہی ۔ جی ڈی اے کے بیریسٹر حسنین مرزا نے اپنی قرارداد پر زور دیا اور وزیر اعلیٰ سندھ کے ساتھ تلخی ہوئی اور احتجاجاً جی ڈی اے کے ارکان نے واک آوٹ کیا تو تحریک انصاف کے ارکان کو سمجھ نہیں آرہا تھاکہ کیا کرنا ہے، کئی منٹ تک پہلے اپنی نشستوں پر کھڑے رہے پھر پہلے قائد حزب اختلاف اسپیکر کی ڈائس کے سامنے گئے اور پھر واک آوٹ کے لئے متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیوایم) پاکستان کو راضی کرنے پہنچے مگر ناکام رہے۔

اس موقع پر پیپلزپارٹی کی جانب سے کشمیر کے حوالے سے قرارداد پہلے پیش کرنے کی مخالفت مناسب نہیں نظر آئی ۔ اس جانب ایم کیوایم کے کنور نوید جمیل نے بھی اشارہ کیا، اگر یہ قرارداد پہلے پیش کرکے منظور کی جاتی تو تحریک انصاف اور جی ڈی اے احتجاج کا موقع نہیں ملتا۔


امکان تھا کہ واک آوٹ سے واپسی کے بعد تحریک انصاف اور جی ڈی اے کوئی مشترکہ حکمت عملی تیار کرکے آئے ہیں مگر جب اسپیکر نے جی ڈی اے کے بیریسٹر حسنین مرزا کو کشمیر پر قرارداد پیش کرنے کی اجازت دی قراداد پڑھنے کے دوران قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی حسنین مرزا کو روکتے رہے اورنہ رکنے پر ناراضگی کا اظہار کیا ،جس پر اسپیکر نے مداخلت کی اور کہاکہ یہ آپ کا اپنا رکن ہے مخالفت کیوں کر رہے ہیں ، جس پر قائد حزب اختلاف کو خاموش ہونا پڑا ۔ کشمیر کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں تحریک انصاف ، ایم کیوایم پاکستان اور جی ڈی اے نے اپوزیشن میں ہوتے ہوئے ایک ہی موضوع پر تین الگ الگ قراردادیں پیش کرکے ایک نیاریکارڈ قائم کیا جو اپوزیشن کے اختلاف ، عدم مشاورت اور ایک دوسرے سے عدم تعاون کی واضح مثال ہے۔


ایم کیوایم اور جی ڈی اے کے ممبران نے قراردادوں پر بحث کے دوران اپنا موقف بہتر انداز میں پیش کیا ،جبکہ تحریک انصاف کے ارسلان تاج کے سوا قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی سمیت باقیوں کی گفتگو بے جان اور بے ربط تھی ۔ سب سے مدلل اور متوازن گفتگو جماعت اسلامی کے سید عبدالرشید کی رہی۔

اجلاس کے اختتامی مراحل میں قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے نکتہ اعتراض پر سورۃ العصر کی تلاوت اور ترجمہ کے بعد بولنا شروع کیا مگر 13منٹ کی گفتگو میں یہ سمجھ نہیں آرہا تھاکہ وہ کہنا کیا چاہتے ہیں ۔ آخر میں جب انہوں نے اسپیکر کو مخاطب کیا اور اشاروں میں تنقید کی کوشش کی ۔ اسپیکر نے سختی سے جواب دیتے ہوئے کہاکہ ’’قائد حزب اخلاف مجھے یہ بتائیں کہ میرے اہلخانہ کے ساتھ بد سلوکی کا ازالہ کون کرے گا؟‘‘اور یہ جملہ اسپیکر نے کئی بار دہرایا، جس کا جواب قائد حزب اختلاف نہ دے سکے، اور پھر اسپیکر نے اپنی قیادت، پارٹی اور تحریک انصاف کے سوا تمام اپوزیشن جماعتوں کا نام لے کر شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس مشکل گھڑی میں ان کاساتھ دیا۔

خلاصہ یہ تھاکہ 22فروری کا دن اسمبلی میں تحریک انصاف کے لئے مشکل ثابت ہوا اور 168 رکنی ایوان میں 69رکنی اپوزیشن 4گروپوں میں تقسیم اور قائد حزب اختلاف بے بس نظر آئے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے