انڈیا کا پاگل پن اور ہماری ذمہ داری

عبدالجبار ناصر
پلوامہ خودکش حملے کے بعد بھار ت کا ہر فرد پاگل پن کا شکار نظر آرہا ہے اور اس میں سب سے اہم کردار بھارتی میڈیا نے ادا کیا ہے ۔یہ پہلی بار نہیں ہوا ہر بار اس کی یہی کیفیت ہے ۔ بھارت نے جب 26فروری 2019 ء دعویٰ کیاکہ اس کے 12 طیاروں نے کنٹرول لائن کے بعد پاکستان کی بین الاقوامی سرحد کو عبور کرکے جیش محمد کے مبینہ کیمپ پر حملہ کرکے 300سے زائد افراد کو ماردیا ہے ، بھارتی میڈیا نے آسمان سر پر اٹھا یا مگرکسی کو اتنی جرات نہ ہوئی کہ وہ اپنی حکومت اور اداروں سے پوچھے کہ جناب ٹھیک ہے آپ نے کارروائی کی مگر اس کا کوئی ایک ثبوت ؟ ایک تصویر ؟ ایک ویڈیو ؟ یا کوئی اور مصدقہ ثبوت ؟ ، ہر طرف یہ انڈین میڈیا میں ایک ہی چیخ و پکار تھی کہ ـ’’ہم نے گھس کر مارا‘‘ مگر حقیقت یہی ہے کہ یہ سب تصور اور خواہش تھی ، ہے اور رہے گی(ان شاء اللہ تعالیٰ)۔
انڈین میڈیا کو علم ہونا چاہئے کہ جو لوگ گھس کر مارتے ہیں وہ پھر ثبوت بھی دیتے ہیں ۔
پاکستان نے بھارتی طیارے مار گرائے اور پائلٹ گرفتار کیا تو کچھ ہی دیر میں دنیا کو بتادیا کہ کونسا جہاز کہاں مار گرایا ہے اور کونسا پائلٹ گرفتار ہے ۔
انڈین میڈیا کا تازہ پروپیگنڈہ کہ ہم نے پاکستان کا ایک F.16طیارہ مارا گرایا ہے ، اگر واقعی گریا ہے تو پھر کوئی ثبوت ؟ کوئی دلیل ؟
اب انڈین میڈیا پاکستان کے اندر ایبٹ آباد حملہ طرز کے حملے کی عجیب عجیب خاکے پیش کر رہا ہے ،بھارتی فلموں سے بہت بہتر تفریح ہے ۔
تفریح اپنی جگہ مگر خیال رہے کہ دشمن سے ہوشیار رہیں ۔ انڈیا پاگل پن کا شکار ہے اور اس وقت اس کی پوزیشن وہی ہے جو ’’گلی کے پاگل!‘‘ کی ہے۔
پہلے وار میں بدترین نامی کے بعد اب بھارت کی یہ کوشش ہوسکتی ہے کہ وہ ملک کے اندر کوئی دہشت کارروائی کرے اس لئے ہر پاکستانی کو خود ’’رضاکارانہ سپاہی ‘‘ بننا ہوگا ، سب پر نظر ہو۔
د شمن افواہوں سے کام لینے کی کوشش کرسکتا ہے ، اس لئے کوئی بات یا ردعمل سے قبل تصدیق ضرور کریں ۔
دشمن مذہبی ، لسانی ، سیاسی یا علاقائی انتشار کی کوشش کرسکتا ہے ، اس لئے سب صرف پاکستانی بنیں ،جنگ کے بعد باقی باتیں ہونگی۔
دشمن ملک میں سیاسی اختلاف کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرسکتا ہے ، اس لئے اس بحران کے خاتمے تک سب بھول جائیں اور سیاسی کارکن و رہنماء سیاسی اختلاف کے حوالے سے اپنی زبانوں پر کچھ دن کے لئے تالے لگائیں اور کچھ کو اس موقع پر ’’بڑ بولنے بننے کا مرض ہے‘‘ ان کو ادارے خود لگام دیں یا علاج کریں ۔
بھارتی جنگی جنون میں اگر شدت آتی ہے تو حکومت اور ادارے عوام کی رہنمائی کے لئے ہدایت نامے جاری کریں ۔
سوشل میڈیا میں اپنے وطن کے دفاع اور اداروں اور جوانوں کی حوصلہ افزائی کے لئے متحرک ضرور ہوں مگر آپ کی یہ تحریک شرمندگی کا باعث نہ بنے (جیسے 27فروری کو ایک بڑے اینکر کا ٹیوٹ اور منسلک ویڈیو انٹرنیشنل میڈیا میں شرمندگی کا سبب بنی ہے)، اس لئے بغیر تصدیق کے کوئی چیز شیئر ، پوسٹ یا ری ٹیوٹ کرنے سے گریزکریں۔
کسی مشکل کی صورت میں ایک دوسرے کے مدد گار بنیں ،نہ کہ غیر دانستہ طور پر ’’شر‘‘ کا ذریعہ ۔
شودے پن اور بڑ بولے پن سے گریز کریں ، آپ کا عمل نہ صرف آپ بلکہ دیگر کے لئے بھی مشکلات کا باعث بن سکتا ہے ۔
بھارتی جنونیوں کی طرح ہمیں جنونی نہیں بننا ہے مگر جنگ مسلط کی جاتی ہے تو پھر ’’فتح یا شہادت ‘‘میں سے ایک کا انتخاب کرنے کی جستجو کرنی ہے۔
اداروں بالخصوص مسلح افواج کے حوالے سے اس موقع پر کسی بھی منفی پروپیگنڈے کا خود شکار ہونا ہے اور نہ ہی دوسروں کو شکار کرنا ہے۔
ملک دشمنوں پر کڑی نظر رکھیں ۔
اگر بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ کوئی غلط سلوک ہوتا ہے تو اس کا بدلہ یہاں پر غیر مسلموں سے لینے کا بدتراز گناہ بلکہ اسلام اور ملک دشمنی شریک ہونے سے کلی طور پر بچیں اور اپنے غیر مسلم بہن بھائیوں کا خیال اپنوں سے زیادہ رکھیں۔
ہم سب دنیا کو آگاہ کریں کہ ہم جنگ کے حامی نہیں مگر ہم جنگ مسلط کی جاررہی ہے ۔ اور جنگ مسلط ہو تو پھر زندھ قوموں کی طرح ہر حد تک مقابلہ کرنا ہے۔
دعائوں بالخصوص علماء کرام کی مشاورت سے مساجد میں دعائے قنوت نازلہ کا اہتمام کیا جائے تو بہتر ہے۔
آخری گزارش یہ کہ غداری اور کفر کے سرٹیفکیٹ کی فکیٹریاں فی الحال بند کردی جائیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے