پائلٹ کی رہائی اور بھارتی دھمکی!

عبدالجبار ناصر
وزیراعظم عمران خان نے 28 فروری 2019 کو پارلیمنٹ کو آگاہ کیاکہ یکم مارچ 2019 کو بھارت کے گرفتار پائلٹ کو خیر سگالی کے طور پر رہاکیا جارہا ہے۔ امکان تھا کہ بھارت کی جانب سے اس کا مثبت جواب آئے گا مگر بھارتی تینوں مسلح افواج کے سربراہوں کی مشترکہ پریس کانفرنس سن کر یقین ہوگیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کا فیصلہ قبل از وقت اور جلد بازی پر مبنی ہے۔


بھارتی افواج کے سربراہوں نے واضح طور پر دھمکی دی ہے کہ وہ پاکستان کے اندر داخل ہوکر حملوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
اب وزیر اعظم عمران خان صاحب سے چند سوال ہیں کہ
(1)۔بھارتی پائلٹ کی رہائی کے لئے کیا اقوام متحدہ یا کسی دوست ملک نے آپ سے درخواست کی تھی ؟؟ ہے تو کونسا ملک ؟؟
(2)۔خود بھارت نے جینوا کنونشن کے طریقہ کے مطابق پائلٹ کی واپسی کے لئے کوئی رابطہ کیا ہے؟
(3)۔ جنگ بھارت نے شروع کی اور کیا بھارت نے خود یا کسی کی مداخلت پر جنگ بندی کا اعلان کیا ہے؟
(4)۔آپ کے اعلان کے بعد بھارت کے تینوں مسلح افواج کےسربراہوں کی دھمکی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
(5)۔ جو کشمیری سب کچھ قربان کر رہے ہیں، ان کے جذبات اور قربانیوں کا اس رہائی کے فیصلے میں احترام کیاگیا ہے؟
(6)۔اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ پائلٹ کی رہائی کے بعد بھارت اب مزید کوئی مداخلت نہیں کرے گا؟
(7)۔ پاکستانی مسلح افواج نے جوابی کارروائی میں منہ توڑ جواب دیکر قوم کو مایوسی سے نکال کر شادمانی کی بلندی تک پہنچادیا ، اب پائلٹ رہائی سے پیدا ہونے والی مایوسی کا ذمہ دار کون ہے؟
(8)۔ آخر آپ کی ایسی کونسی مجبوری تھی کہ جنگ اور دھمکیوں کے دوران ہی آپ نے بھارتی پائلٹ کو فوری رہا کرنے کا فیصلہ کیا ؟؟
(9)۔ کیا ماضی میں اس طرح کی جلد بازی کی کوئی مثال ہے؟؟
(10)۔ پائلٹ رہائی کا فیصلہ آپ کا اپنا تھا یا سب کی مشاورت سے کیا گیا ؟؟
(11)۔ عوام کے ایک بڑے طبقے کا یہ خیال ہے کہ ہماری مسلح افواج نے میدان میں جیتی ہوئی جنگ کو آپ کے اس فیصلے نے داغدار کیا ہے، اس میں کتنی حقیقت ہے؟
اس طرح کے دیگر کئی اور سوالات بھی ہیں ۔
ہماری ذاتی رائے اور تجزیہ یہی ہے کہ خان صاحب نے بہت جلد بازی میں قبل از وقت پائلٹ کی رہائی کا فیصلہ کیا ہے، کیوں کہ مذکورہ بالا سوالات کا بظاہر کوئی ایک بھی جواب مثبت نہیں ملے گا۔
لگ یہی رہا ہے کہ ہماری مسلح افواج کی جیتی ہوئی بازی کو خان صاحب کا عمل سوالیہ نشان بنادے گا۔
خان صاحب کےاس جلد بازی کے فیصلے کے نتائج مثبت نظر نہیں آرہے ہیں۔
سچ یہ ہے کہ اس طرح کا فیصلہ نواز شریف یا آصف علی زرداری اپنے ادوار میں کرچکے ہوتے تو خان صاحب اور ان کے ساتھی مودی کے یار کے لقب کے ساتھ دھرنے کی تیاری کر رہے ہوتے۔
اللہ تعالی پاکستان کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے