مسئلہ کشمیر اور غدار؟

اظہر سید
پاکستان میں سیاست دانوں پر غداری کا فتوی اس وقت لگتا ہے جب وہ خارجہ پالیسی کی ملکیت ہاتھوں میں لینے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر بھارت کے ساتھ مسلہ کشمیر کے حل کی کوئی کوشش کرتے ہیں ۔ محترمہ بینظر بھٹو کی وزارت عظمی میں بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی پاکستان کے دورہ پر آئیں تو ان پر نواز شریف چھوڑ دیا جاتا ہے . میڈیا میں غلیظ مہم چلائی جاتی ہے اور بینظر بھٹو ایسی قوم پرست راہنما کو سیکوریٹی رسک قرار دے دیا جاتا ہے ۔ یہ ایک الگ بات ہے کسی زمانے میں میاں نواز شریف کو ایجنسیوں کا فخر بنانے والے جنرل حمید گل برین ہمیرج سے اپنی بے وقت موت سے کچھ عرصہ قبل اس بات کا اعتراف کرتے ہیں بینطر بھٹو کے متعلق انکی تام باتیں غلط تھیں وہ بہت محب وطن تھیں ۔سابق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ بھی محترمہ بینظر بھٹو کی حب الوطنی کا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں انکی بے پناہ جرات ،قوت فیصلہ اور وطن سے محبت کی وجہ سے امریکہ ،بھارت اور اسرائیل کی پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو تباہ کرنے کی سازش کامیاب نہ ہو سکی ۔ دونوں حب الوطنی کے پہاڑ جنرلوں کے اعترافات کی ویڈیو یو ٹیوب پر موجود ہے ۔
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے خلاف غداری کی مہم کا آغاز اس وقت ہوا جب انہوں نے خارجہ پالیسی کی ملکیت لینے کی کوشش کی اور مسلہ کشمیر کے حل کیلئے سابق بھارتی وزیراعظم واجپائی کو پاکستان آنے کی دعوت دی ،واجپائی پاکستان آئے اور اکھنڈ بھارت کے نعرے سے رجوع کرنے اور مینار پاکستان پر پاکستان کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا لیکن اس وقت اسٹیبلشمنٹ کی مدد کیلئے جماعت اسلامی آگے آئی بھارتی وزیراعظم کے دورہ پاکستان کے خلاف بھر پور احتجاج کیا اور پھر کارگل ہو گیا ۔
اس سے قبل شیخ مجیب کی انتخابات میں کامیابی پر ذوالفقار علی بھٹو اسٹیبلشمنٹ کی مدد کیلئے سامنے آئے نتیجہ سقوط ڈھاکہ کی صورت میں نکلا ،بنگالیوں نے پاکستان سے الگ ہونا ہی تھا لیکن انکی انتخابی جیت کو تسلیم نہ کرنے کے نتیجے میں الگ ہونے کا عمل بہت تیزی سے مکمل ہوا۔
ذوالفقار علی بھٹو ،بینظر بھٹو اور نواز شریف اس وقت سیکورٹی رسک قرار پائے جب انہوں نے خارجہ پالیسی کی ملکیت حاصل کرنے کی کوشش کی ، جب کوئی راہنما عوامی حمایت سے مسلہ کشمیر کے حل کی کوشش کرتا ہے وہ غدار کہلاتا ہے ۔ جنرل مشرف نے چناب فارمولے پر آمادگی طاہر کرتے ہوئے مسلہ کشمیر کے حل کی کوشش کی اس کے خلاف وکلا تحریک شروع ہو گئی اور مسلہ کشمیر پر فیصلہ کن مزاکرات کی بیل مندے نہ چڑھ پائی ۔ اس کا اعتراف مشرف کے وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری اپنی کتاب میں کر چکے ہیں ۔
اب ایک سانحہ ہو چکا ہے اسٹیبلشمنٹ کے نئے حلیف اور وزیراعظم سیلکٹ نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شوشہ چھورا ہے بیس سال پہلے مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی کوئی تحریک نہیں تھی ،وزیراعظم سیلکٹ نے یہ بات اپنے اسی ویژن کے تحت کی ہے جس میں وہ مرغیوں اور کٹے کے زریعے پاکستانی معیشت کو بحال کرنے کا پروگرام دیتے ہیں یا اسٹیبلشمنٹ کے مسلہ کشمیر میں کارپوریٹ مفادات ختم ہو چکے ہیں اس کا تعین مستقبل قریب میں ہو جائے گا ۔
جنرل شاہد عزیز نے اپنی کتاب یہ خاموشی کب تک میں مسلہ کشمیر کے متعلق اسٹیبلشمنٹ کے تصورات پر بھی کڑی تنقید کی تھی کہا تھا کشمیر کے متعلق حکمت عملیوں کا خمیازہ مظلوم کشمیری بھگتتے ہیں اور یہ ایک مسلسل عمل ہے ،جنرل شاہد عزیز لاپتہ ہیں نہیں معلوم انہیں بھی نیپال سے اغوا ہونے والے پاکستانی ریٹائرڈ کرنل کی طرح کسی ٹریپ میں لا کر پاکستان سے نکالا گیا اور لاپتہ کیا گیا یا پھر حقیقت کچھ اور ہے ۔
پاکستانی کے معاشی حالات تیزی کے ساتھ دیوالیہ پن کی طرف جا رہے ہیں لیکن اس بات کی زمہ داری کوئی نہیں لے گا سابق وزیراعظم کی فراغت کے اپریشن کا اصل نشانہ سی پیک اور پاکستانی معیشت بنی ہے ۔ پاکستان عملی طور پر اسلامی کانفرنس تنظیم ایسی طاقتور تنظیم کا رکن نہیں رہا اور بھارت پاکستان کی جگہ اس تنظیم کا رکن ہی نہیں بنا بلکہ تنظیم کے اجلاس میں پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات بھی لگا رہا ہے اسلامی ممالک کے مندوب اس پر ڈیسک بھی بجا رہے ہیں ۔اسلامی کانفرنس تنظیم میں پاکستان کے ساتھ حقارت آمیز سلوک پر ان منصوبہ سازوں کو کیا کہا جائے گا جنہوں نے ایرانی صدر کے عین دورہ پاکستان کے دوران بھارتی جاسوس کی گرفتاری کا اعلان کرتے ہوئے کہا یہ جاسوس ایرانی بندر گاہ سے اپریٹ کر رہا تھا ،ان منصوبہ سازوں کو کتنی توپوں کی سلامی دی جائے گی جنہوں نے پاک فوج کے ایک سابق سربراہ کو اس لئے 40 رکنی مسلم فوج کی سربراہی یہ کہتے ہوئے لینے کی اجازت دی عرب ممالک میں پاکستان کے مفادات کا تحفظ ہو گا اور پاکستان کے مفادات کا تحفظ یہ ہوا ہے تنظیم کے اجلاس سے پاکستانی پرچم کی جگہ بھارتی پرچم لگ گیا ہے ۔
آج پاکستان ادائیگیوں کے توازن کیلئے جگہ جگہ کاسہ گدائی لئے گھوم رہا ہے اور بھارتی پاکستان کی کمزور معیشت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مقبوضہ کشمیر پر ہاتھ صاف کرنے کے چکر میں ہیں ۔آج پائلٹ بھارت کو جنگ سے باز رکھنے کی نیت سے واپس کیا ہے کل انہوں نے پھر کوئی پلوامہ ایسا ڈرامہ کر دیا تو کیا دیں گے ۔ ابھی وہ ایٹمی پاکستان کے ساتھ توہین آمیز سلوک کر رہے ہیں اس کے وزیراعظم سیلکٹ کی فون کال کو حقارت کے ساتھ مسترد کر رہے ہیں ۔ابھی بھارتی 20 لوگوں کی فہرست دے رہے ہیں یہ دہشت گرد ہیں کل وہ کلبھوشن کی رہائی کی بات کریں گے پرسوں وہ کسی انتظامی حکم سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیشیت ختم کر دیں گے پھر کس طرح سیاستدانوں کو غدار کہا جائے گا ۔
بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا ہے ،دنیا میں باعزت مقام حاصل کرنا ہے تو اپنی معیشت کو مستحکم کیجئے ۔ ہمیں اس دور میں واپس جانا ہو گا جب پاکستانی معیشت تیزی کے ساتھ ترقی کرتی معیشت بن رہی تھی اچانک کسی نے جادو کی چھڑی ہلائی سب منظر بدل گیا اور وزیراعظم سیلکیٹ کہنے لگا مقبوضہ کشمیر میں 20 سال پہلے آزادی کی کوئی تحریک نہیں تھی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button