کلبھوشن کیس، دی ہیگ میں پاکستانی صحافی کیا کرتے رہے

چوہدری تبریز عورہ، لندن


عالمی عدالت انصاف ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں ہے جہاں بھارتی حاضر سروس نیوی کمانڈر کلبھوشن یادیو کا مقدمہ سُنا گیا ۔ اس کیس میں پاکستان اور بھارت بطور فریقین آمنے سامنے ہیں۔ ایک سال کے وقفے کے بعد اکیس فرور ی کو یہ مقدمہ عالمی عدالت انصاف میں سماعت کے لیے لگایا گیا۔


اس انتہائی اہم کیس کی کوریج کا موقع تھا، جس کے لیے نے عالمی عدالت انصاف کی ویب سائٹ سے رجوع کیا ۔ معلوم ہوا کہ ایکریڈیشن کی تاریخ گزر چکی ہے۔ پاکستان ہائی کمیشن برطانیہ کو ہمیں وقت سے پہلے آگاہ کرنا چاہئے تھا لیکن نہیں کیا ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی فروری 2019 کے پہلے ہفتے میں برطانیہ کے دورے پر تھے، ان کے ساتھ وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل اور وفد تھا ۔ پریس کانفرنسز بھی کیں، مگر کلبھوشن یادیو کیس کی سماعت کا ذکر تک نہ کیا ۔


خیر دیر تو ہو ہی چکی تھی، پاکستان ہائی کمیشن کے پریس اتاشی منیر احمد نے مجھے کال کرکے کہا کہ اٹھارہ فروری 2019 کو کیس کی سماعت ہے، آپ جائیں میں پاکستان ہائی کمیشن ہالینڈ سے بات کروں گا ۔ انہوں نے بات کی مگر شاید وہاں سے انہیں سرخ جھنڈی دکھائی گئی ۔ خیر میں نے ارادہ کیا کہ پریس گیلری نہ سہی پبلک گیلری سے ہی بیٹھ کر اپنے ادارے اب تک نیوز کے لیے رپورٹنگ کی جائے۔
میں لندن سے ہیگ 17فروری کو پہنچ گیا جہاں پہنچ کر پتہ چلا کہ وزارت خارجہ کے خرچے پر اسلام آباد سے صحافیوں کی ایک پوری فوج دی ہیگ لائی گئی ہے ۔ کوئی کہہ رہا تھا میں اخبار سے ہوں تو کوئی کسی چینل کا بتا رہا تھا، چینلز کے ناموں سے تو میں واقف تھا مگر ایسے ایسے اخبارات کے مالکان بھی وہاں آئے تھے جن کے ڈمی اخبارات کا کبھی نام بھی نہیں سنا۔ ہمیں خوشی ہوئی کہ چلو اب ہمارے صحافی بھی بھارتی کوریج کا مقابلہ کریں گے اور ان کے بیانیے کو آڑے ہاتھوں لیں گے۔ یہ میری خام خیالی تھی۔
کلبھوشن کیس کی سماعت شروع ہوئی تو مجھے حیرت ہوئی کہ ہماری اسلام آباد سے آنے والی میڈیا ٹیم کے اکثر ارکان غائب تھے، جو کیس کوریج سے زیادہ سونے کو ترجیح دے رہے تھے۔ اس نیند اور خماری کی وجہ کچھ اور ہی تھی۔ اور رہی بات کلبھوشن کیس کوریج کی تو بتاتا چلوں کہ یہ کیس عالمی عدالت انصاف سے ویب سائٹ پر لائیو اسٹریمنگ پر نشر کرہا تھا، اس لائیو نشریات کو سننے کے لیے عدالت کے اندر موجود ہونا چنداں ضروری نہ تھا۔


پہلے روز کی سماعت مکمل ہوئی اور پاکستانی میڈیا وہاں سے رفو چکر ہو گیا کیونکہ نائٹ آؤٹ کے پروگرام پہلے ہی بنارکھے تھے، ہمارا میڈیا وفد موج مستی کو ایسے نکلا جیسے یہ سرکار کے خرچ پہ اسی کام کے لیے یہاں لائے گئے ہیں ۔ دوسری طرف بھارتی میڈیا پاکستانی وکلاء ٹیم کا تعاقب کرتا رہا اور ایمبیسٹر ہوٹل جس میں پاکستانی وفد، انور منصور، خاور قریشی اور ڈاکٹر فیصل سمیت دوسرے ممبرز رہائش پزیر تھے، اس کے باہر بھارتی میڈیا کے نمائندے تاک میں رہتے کہ کوئی وفد کا کوئی ممبر نظر آئے اور یہ کوئی خبر نکالیں۔ بھارتی وفد ہیگ کے ہلٹن ہوٹل میں رہائش پزیر تھا لیکن پاکستان سے خصوصی کوریج کیلئے آیا ہوا میڈیا ان کی خبر لینے کے بجائے سیروتفریح اور پارٹیوں مصروف رہا، مستی کے موڈ میں آئے یہ نام نہاد صحافی ہالینڈ کے مختلف شہروں میں گھومتے رہے۔ کلبھوشن کیس دوسر ے دن کی سماعت کے دوران کافی میڈیا کے احباب عدالت سے غیر حاضر تھے اور آخری روز تو ہو کا عالم تھا کیوں کہ ہمارا میڈیا وفد یہ جان گیا تھا کہ عدالت کی سماعت کا آنکھوں دیکھا حال تو پوری دنیا میں دیکھا جارہا تھا، پاکستانی چینلز بھی وہیں سے لائیو نشرکر رہے تھے، پھر کوالٹی ٹائم سماعت کے بجائے مٹر گشتی اور موج مستی میں لگایا جائے۔


اب سوال یہ ہے اگر میڈیا کے احباب نے یہاں آکرکل وقتی سیروتفریح ہی کر نی تھی تو ان پر عوام کا پیسہ لگانے کی کیا ضرورت تھی، دوسری بات جب تمام چینلز کے نمائندے یورپ میں موجود تھے تو ان کی فری میں خدمات کیوں نہیں لی گئیں؟ تیسری بات، یہ معاملہ عدالت میں ہے تو پھر کیوں نہیں پاکستان سے کورٹ رپورٹنگ کرنے والے ان سینئر رپورٹرز کو لایا گیا جو پاکستان میں رہ کر بھی عالمی عدالت انصاف کی بڑی خبریں رپورٹ کرتے ہیں؟ کیوں وزارت خارجہ ایسے نام نہاد صحافیوں کو سرکاری خرچ پر دی ہیگ لائی جن کے ڈمی اخبارات نہ صرف مقامی طور پر غیر معرف ہیں، بلکہ ان کی سرکولیشن اور ادارتی حقیقت خود ایک سوالیہ نشان ہے۔


پاکستان سے آئے میڈیا کی توجہ کام سے کم اور رات کو پارٹیوں میں شمولیت زیادہ تھی، وفد کے بہت سے ارکان بہت ہی پروفیشنل اور معتبر بھی تھے ، مگر میری تحریر لائق عزت صحافیوں کے لیے نہیں ، ہاں البتہ میں یہ تحریر ان نام نہاد صحافیوں کے لیے ضرور لکھ رہا ہوں جو شام کو سجنے والی رنگین محفلوں کے رسیا نکلے۔ دی ہیگ میں واقع ریڈ سٹریٹ جہاں خواتین بن سنور کر اپنے گاہکوں کا انتظار کر رہی ہوتی ہیں اس میں بھی میڈیا کے کچھ شرفا دیکھے گئے ۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ جی بھر کر سرکاری پیسے پر عیاشی کی گئی۔ رات کی ان سرگرمیوں کا نتیجہ یہ ہوتا کہ کسی صحافی بھائی سے ہم صبح مل لیتے تو منہ سے آنے والی بدبو، اور سوجھی ہوئی شکل دیکھتے ہی اندازہ ہوجاتا کہ موصوف کو نارمل ہونے میں ابھی وقت لگے گا۔
میرے خیال میں پاکستان کے عوام کے ٹیکسوں کے پیسے پر ایسی عیاشی کے لیے صحافیوں کو دی ہیگ لانے والی وزارت خارجہ ہی جواب دے کہ اس نے کوریج کروانے کے لیے میڈیا کا کیا معیار رکھا تھا؟ ایسے اہم ترین کیس کی کوریج کے لیے نہایت غیر سنجیدہ اور غیر پروفیشنل صحافیوں کا ہی انتخاب کیوں کیا گیا؟


اب بات کرتے ہیں پاکستان کے وکیل سنیئر بیرسٹر خاور قریشی اوراس کی ٹیم کی جو پاکستان کا مقدمہ عالمی عدالت انصاف میں لڑ رہے تھے۔ قریشی کا تعلق برطانیہ کے شہر لندن سے ہے اور ان کا شمار برطانیہ کے منجھے ہوئے وکلاء میں ہوتا ہے، انتہائی محنتی اور پروفیشنل ہیں اور بڑی بات کہ یہ اس سے پہلے بھی عالمی عدالت انصاف میں دیگر مقدمات میں پیش ہو تے رہے ہیں ۔ قریشی نے پاکستان کا مقدمہ بڑے اچھے انداز میں پیش کیا اور مکمل ثبوت کے ساتھ عدالت میں بحث کی جس کا جواب بھارتی وکیل ہریش سالوے جواب نہ دے سکے ۔ سب لوگوں کی نظر میں پاکستانی وکیل کے دلائل حقائق پر مبنی تھے ۔ بھارتی وکیل صرف ویانا کنونشن کے آرٹیکل 36 کی خلاف ورزی کا بار بار حوالہ دیتے رہے۔


عالمی عدالت انصاف کا بنچ 16ججز پر مشتمل تھا جس میں پاکستان کے ایڈہاک جج تصدق حسین جیلانی بھی شامل تھے لیکن وہ خرابی صحت کی وجہ سے پہلے 3دن بنچ کا حصہ نہیں بن سکے لیکن آخری روز شامل ہو گئے تھے ججزز نے بڑی تسلی سے دونوں فریقین کے دلائل سنے اور سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
کوریج کرنے والے بھارتی میڈیا ارکان مطمئن تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو معلوم ہے کہ وہ اتنا جلدی کلبھوشن کو رہائی نہیں دلا سکتے جو کام کرنے والا تھا اس میں وہ پہلے ہی کامیاب ہو چکے ہیں یعنی کلبھوشن کی سزائے موت پر عمل درآمد رکوانا ۔ اب ان کا خیال یہ ہے کہ اگر عالمی عدالت کلبھوشن تک کونسلر رسائی اور سول کورٹ میں مقدمے کے ری ٹرائل کا فیصلہ دے تو یہ بھارت کی بہت بڑی کامیابی ہوگی ۔ پاکستانی وکلا ء کا ماننا تھا کہ عالمی عدالت انصاف ٹرائل کورٹ نہیں اس لئے کلبھوشن کی رہائی کا حکم نہیں دے سکتی ہاں عدالت کو یہ دیکھنا ہے کہ ویانا کنونشن کی خلاف ورزی ہو ئی یا نہیں، کیس کا فیصلہ مئی کے آخر تک سنایا جا سکتا ہے۔

اگر دی ہیگ جانے والے میڈیا وفد سے کوئی صحافی یا وزارت خارجہ کی جانب سے اس مضمون/ رپورتاژ کا جواب دینا چاہے تو پاکستان 24 کا پلیٹ فارم جوابی تحریر بھی شائع کرے گا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے