بڑے لوگوں کی سنہری یادیں: نثار احمد زبیری

‎میرے دور میں جنگ کے بڑے بڑے صحافیوں کی کہکشاں کا ایک اور بڑا نام ڈاکٹر نثار احمد زبیری کا ہے، جو اس وقت صرف نثار احمد زبیری کے نام سےمشہور تھے۔ میں ان کے نام سے اپنے زمانہ طالب علمی ہی سے اچھی طرح واقف تھا۔ اس کی وجہ ان کا جنگ میں شائع ہونے والا ’’شہر سے بارہ میل پرے‘‘ کالم تھا جو ہر ہفتے جنگ کے صفحہ طلبہ میں شائع ہوتا تھا۔اس کالم میں جامعہ کراچی کے طلبہ کی مختلف تعلیمی سرگرمیوں کی روداد شائع ہوتی تھی۔ کالم کا نام “ شہر سے بارہ میل پرے“ اس بنا پر رکھا گیا تھا کہ اس زمانے میں کراچی یونیورسٹی شہر سے12 میل کی دور ی پر تھی۔ روزنامہ جنگ 1960 کے آغاز ہی سے پاکستان کا سب سے زیادہ کثیر الاشاعت اور رائے عامہ پر اثرات مرتب کرنے والا اخبار بن چکا تھا۔ اس لیے اس کو ہر طبقے میں زیادہ پڑھا جاتا تھا۔ طلبا وطالبات بھی اپنی سرگرمیوں اور خبروں کی تلاش میں زیادہ تر اسی لئے جنگ اخبار کی طرف ہی رجوع کرتے تھے۔ میں یونیورسٹی کا طالب علم اور اسلامی جمعیت طلبا کا سرگرم کارکن تھا۔ اس لیے اپنی یونیورسٹی کی سرگرمیوں یا جمعیت کی خبروں کی معلومات کے لیے اخبارات کا مطالعہ کرتا تھا۔ ’’شہر سے بارہ میل پرے ‘‘ہماری ان ضروریات کو بخوبی پورا کرتا تھا۔ اس کالم کے خالق نثار احمد زبیری تھے۔ لیکن اس کو لکھنے والے یونیورسٹی کے نو آموز طلبہ لکھاری ہی ہوتے تھے جن کا انتخاب زبیری صاحب ایک اعلانیہ تحریری مقابلے کے بعد کرتے تھے

‎میں ابھی جنگ میں شامل نہیں ہوا تھا اور جمعیت کراچی کے سیکرٹری نشر و اشاعت کی حیثیت سے اکثر جنگ کے دفتر آتا جاتا تھا۔ جنگ برنس روڈ کی بلڈنگ سے نیا نیا سے آئی آئی چندریگر روڈ پر اپنی ایک نئی بلڈنگ میں منتقل ہوا تھا جو ڈیلی نیوز بلڈنگ کے نام سے مشہور ہے۔ نثار احمد زبیری سے میری پہلی ملاقات ڈیلی نیوز کی اسی بلڈنگ میں ان کے دفتر میں غالباً1966ء میں ہوئی۔ میرے ساتھ این ای ڈی انجینئرنگ کالج کی یونین کے صدر سید احمد تھے وہ جمعیت کے رکن اور کالج کی طلبہ یونین کے منتخب ہونے والے محمد خان منہاس کے بعد دوسرے صدر تھے۔جن کا تعلق جمعیت سے تھا۔ وہ صف اول کے مقرر اور پاکستان بھر میں ہونے والے بین الجامعات تقریری مقابلوں میں ہمیشہ پہلا یا دوسرا انعام حاصل کرتے تھے۔ انہیں کالج کی سرگرمیوں کے بارے میں نثار زبیری سے اکثر ملنا ہوتا تھا۔ایک موقع پر جمعیت کے دفتر سے وہ مجھے بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ ملاقات کے دوران جس نثار زبیری سے ہم نے ملاقات کی وہ میرے تصور سے کافی مختلف تھے۔ میں سمجھتا تھا کہ وہ ایک بھاری بھرکم شخصیت کے مالک کوئی بڑے بارعب صحافی ہوں گے مگر دفتر گئے تو ایک دبلے پتلے ‘6فٹ طویل اور نہایت خوش مزاج اور خوش اخلاق نوجوان سے ملاقات ہوئی جس نے اپنی نشست سے اٹھ کر ہمارا استقبال کیا۔وہ میرے تصوراتی خاکے سے بہت مختلف تھے۔ یہ ان سے میری پہلی ملاقات تھی۔اس وقت میرے ذہن میں دور دور تک کوئی خیال تک نہیں تھا کہ اس شخصیت سے میرا زندگی بھر کا کبھی نا ختم ہونے والا تعلق قائم ہو گا۔ اس کے بعد ہماری ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔جنگ گروپ میں ہم ایک دوسرے کے ساتھی بنے وہ جنگ کے سٹی ایڈیٹر بھی رہے۔ روزنامہ جسارت نکلا تو مجیب الرحمن شامی ان کو وہاں لے گئے لیکن کچھ عرصے کے بعد پھر جنگ گروپ میں واپس آگئے۔ اخبار جہار جہاں کے 1974 سے 1984تک کامیاب ایڈیٹر رہئے۔ اسی سال عملی صحافت کو خیرآباد کہ کر کراچی یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ میں صحافیوں کے استاد بن گئے۔ پی ایچ ڈی کیا اور اب ڈاکٹر نثار زبیری 82 سال کی عمر میں بھی ایک نہیں کہی یونیورسٹیوں میں پڑھا رہئے ہیں اور کتابیں لکھ رہئے ہیں۔ 1966 میں قائم ہونے والا ہمارا یہ باہمی تعلق گزشتہ 53 برسوں سے پہلی ملاقات کی طرح اب تک برقرار ہے ۔

نثار احمد زبیری

جنگ میں آنے کے بعد ان سے یہ ملاقاتیں روزانہ ہونے ‎لگیں۔ میں نیوز روم میں تھا وہ بدستور طلبا کے صفحے کے انچارج تھے۔ اپنی اس حیثیت میں انہوں نے کراچی کے ذہین ترین طلبا کی سرپرستی کی۔ انہیں لکھنا سکھایا‘ کالم نگار بنایا‘ ڈیبیٹرز کو آگے بڑھایا اور یہ سارا کام انہوں نے جنس‘ زبان‘ فرقہ ‘دائیں اوربائیں بازو ،سبز اور سرخ کے کسی امتیاز کے بغیر انجام دیا۔ اس وقت کے جن طلبا کے نام یاددہ گئے ہیں۔ان میں ظہورالحسن بھوپالی‘ سلیم جہانگیر‘ طاہر جمیل نقوی‘ انیس صدیقی‘ راشدہ نثار‘ اعجاز شفیع گیلانی‘ جنید فاروقی‘رئیس فاطمہ‘ انیس خاتون‘ سعدیہ صدیقی‘ فائزہ صدیقی‘ اسد اشرف ملک‘ ثریا جبین‘ نوشابہ صدیقی‘ محمد مجاہد‘ محمد ارشد‘ سبط اصغر بلگرامی، دوست محمد فیضی،قمر علی عباسی ،حمیرا اطہر اور خوش بخت شجاعت شامل ہیں۔ یہ سارے طالب علم بڑے اہم عہدوں پر فائز ہوئے اور اپنے اپنے شعبوں میں کامیاب ترین زندگی گزار رہئے ہیں۔ ان سب کی کامیابیوں میں نثار زبیری کی رہنمائی کا بھی بڑا کردار ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ظہورالحسن بھوپالی اور قمر علی عباسی اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ اللہ تعالی ان کی مغفرت کرے۔

جاری ہے۔

آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے عارف الحق عارف نے 1967 میں روزنامہ جنگ کراچی سے صحافت کا آغاز کیا،جہاں 2002 تک وابستہ رہے،اسی سال جیو ٹی وی سے وابستہ ہوئے جہاں بطور ڈائریکٹر 18 سال سے زائد عرصہ گزارا، عارف الحق عارف کی صحافت سے 52 سالہ وابستگی کا یہ سفر بڑا دلچسپ ہے،پاکستان 24 میں “ بڑے لوگوں کی سنہری یادیں “ کے اس تحریری سلسلے میں آپ کو نامور لوگوں کی متاثر کن کہانیاں پڑھنے کو ملیں گی۔امید ہے قارئین کے لیے یہ سلسلہ دلچسپ ہوگا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے