ایف 16 کے استعمال کا درست طریقہ

مطیع اللہ جان
آزاد کشمیر میں در اندازی کرنے والے دو بھارتی جہازوں کو تباہ ، انکے ایک پائلٹ کو گرفتار اور اسکی رہائی کر کے پاکستان نے انڈیا کو خوب رسوا کیا ہے- زمین پر گرے مکے باز بھارت کی طرف سے پاکستان پر ’’فاؤل پنچ‘‘ یعنی قواعد کے برخلاف مکا مارنے کاالزام لگایا جا رہا ہے- ٹوٹی بلکہ کٹی ناک کے ساتھ مودی سرکار اور مودی میڈیا رونا رو رہے ہیں کہ پاکستان نے بھارت کا مگ اکیس جنگی جہاز گرانے کے لئیے امریکہ کا ایف سولہ جہاز استعمال کیا – پاکستان نے اس کی شروع دن سے سختی سے تردید کر رکھی ہے- فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کے مطابق بھارتی طیارے کو گرانے کیلئیے ایف سولہ نہیں بلکہ اسکا کزن جے ایف سترہ طیارہ استعمال ہوا جو چین اور پاکستان کی مشترکہ کاوش ہے- بھارتی میڈیا پر بظاہر امریکی ساخت کے وہ میزائل کے ٹکرے بھی دکھائے جا رہے ہیں جو صرف ایف سولہ طیارے سے ہی فائر ہو سکتے ہیں- امریکی حکومت نے بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اہداف اور بھارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کیلئیے ایف سولہ طیارے کے استعمال کی خبروں پر پاکستان سے وضاحت طلب کی ہے-
اس تمام بحث کے دو پہلو ہیں۔ ایک تو یہ کہ ہاتھی جیسا بھارت شیر جیسے پاکستان سے زچ ہو کر یہ گلہ کیسے کر سکتا ہے کہ شیر نے اس کی سونڈ کو کیوں دبوچا؟ کیا پاکستان بھی روس سے مگ اکیس کے استعمال پر بھارت کے خلاف شکایت کرنے کا حق رکھتا ہے؟ بھارت جیسی ایٹمی طاقت اور مودی جیسے وزیر اعظم کے لئیے ایف سولہ جہاز کے استعمال پر احتجاج کرنا شرمناک ہے- جب جنگ ہوتی ہے تو دشمن کی پسند معلوم کر کے ہتھیاروں کا استعمال نہیں کیا جاتا- اگر بھارت کے پاس پاکستانی ایف سولہ طیاروں کا جواب نہیں تو مودی سرکار اور اس سے پہلے کی حکومتیں بھارتی جنتا کو اب تک بے وقوف کیوں بناتی رہی ہیں۔ کیا بھارتی فوج اور اس کی جنگی صلاحیت صرف مقبوضہ کشمیر کی نہتے کشمیریوں کے قتل عام اور ان کو پیلٹ گنوں سے معزور کرنے تک محدود ہے؟ پاکستانی ایف سولہ اگر استعمال بھی ہوا ہے تو بھارت جیسے ملک کے لئیے اس پر امریکی حکومت سے شکایت اور اسکے میڈیا پر شور جنگی میدان میں پاکستان کی افواج کے ہاتھوں بدترین شکست کا کھلے عام اعتراف ہے-

اس تمام بحث کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے- پاکستان کی حکومت کو اپنے عوام کے سامنے فوری طور پر اس الزام کی وضاحت کرنا ہو گی کہ کسی معاہدے کے تحت امریکی ایف سولہ طیارے بھارت کے خلاف جنگ میں استعمال نہیں کئیے جا سکتے- پہلے تو یہ شرط ہی مضحکہ خیز ہے کہ اربوں ڈالر میں خریدے گئے یہ جنگی جہاز پاکستان کے دفاع میں بھارتی جارحیت کے خلاف استعمال نہیں کئیے جائینگے- ایف سولہ پاکستان کے دفاع اور فضائی برتری کی علامت بنا کر پیش کیا جاتا رہا ہے- پاک فضائیہ کے پائلٹوں کی بڑی تعداد ایف سولہ جہازوں کی اڑان اور تصاویر دیکھ کر ہی بھرتی کے لئیے آئی تھی- ہر سال تئیس مارچ کو پاکستان ڈے پریڈ کے فلائی پاسٹ کی قیادت فضائیہ کے سربراہ ایف سولہ کی دل دھلا دینے والی نچلی پرواز سے کرتے رہے ہیں- “یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے ۔۔۔۔ اور اقبال کا شاہیں” بھی ایف سولہ کے بغیر کھانا نہیں کھاتا – پوری کی پوری پریڈ ہی ازلی دشمن بھارت کے لئیے ایک پیغام ہوتی ہے- تو ایسے میں ایف سولہ کے محدود استعمال سے متعلق خبریں اور الزامات کو پاکستانی حکومت کی جانب سے نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہو گا- بھارت جائے بھاڑ میں پاکستانی عوام کا جاننے کا یہ حق ہیکہ آیا ایف سولہ کی خریداری کے معاہدے میں اسکے محدود استعمال سے متعلق کوئی شرط رکھی گئی تھی؟ اگر نہیں تو اس کا دو ٹوک اعلان کیا جائے- اگر یہ درست ہے تو پھر ماضی کے تمام وزرا اعظم، وزرا دفاع اور پاک فضائیہ کے سربراہان سے عوام کے ان اربوں ڈالر کا حساب لیا جائے جو فضائیہ کے افسران کے ایک خوبصورت جنگی جہاز کی سواری کے شوق کی تسکین کے لئیے خرچ کئیے گئے-کیا ایف سولہ کے محدود استعمال کے معاہدے سے متعلق تمام سیاسی و عسکری قیادت آگاہ تھی؟ کیا پہاڑوں میں چھپے گدھوں پر سوار دھشت گردوں کا مقابلہ ایف سولہ طیاروں سے ہی کیا جا سکتا تھا؟ کیوں نہ ایسے جنگی ماہرین مسلح افراد کو ایف سولہ پر خرچ ہونے والی رقم کے عوض اور ڈبل تنخواہ و مراعات پر بھارت کے خلاف پاکستان کے دفاع کیلئیے باقاعدہ بھرتی کر لیا جاتا-

اگر ایف سولہ کے محدود استعمال کے پاک امریکہ معائدے کی بات درست ہے تو ابھی بھی وقت ہے- ان جہازوں کو بیچ کر حاصل شدہ رقم سے دوگنی تنخواہ اور مراعات کے ساتھ عسکریت پسندوں کی ایک نئی ریجمنٹ تشکیل دی جائے اور اسے کشمیر میں تعینات کر دیا جائے- نیشنل ایکشن پلان میں شدت پسندی کے خاتمے اور عسکریت پسندوں کی معاشرے کے مرکزی دھارے میں بحالی کا اس سے بہتر اور کیا طریقہ ہو سکتا ہے- اگر شدت پسندوں کو سیاست کے مرکزی دھارے میں بحال کیا جا سکتا ہے تو ملکی دفاع کے مرکزی دھارے میں کیوں نہیں۔

ایف سولہ طیارے کے کشمیر میں مبینہ استعمال سے متعلق کچھ اور اہم سوالات بھی پیدا ہوتے ہیں- اگر اس جنگی جہاز کے محدود استعمال سے متعلق کوئی معاہدہ نہیں تھا تو پھر بار بار اس بات ہر اصرار کیوں کیا جاتا رہا کہ بھارت کے خلاف جوابی کارروائی میں ایف سولہ طیارے استعمال نہیں ہوئے؟ آخر اربوں ڈالر میں خریدے گئے ایف سولہ طیارے ہم اپنے دفاع میں کیوں استعمال نہیں کر سکتے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ ہم نے محدود استعمال کے اسی معائدے کی وجہ سے ہی کشمیر میں ایف سولہ طیاروں کا استعمال نہیں کیا؟ کیا معاہدے کے تحت (اگر کوئی ہے تو) ہم لائن آف کنٹرول کے اپنی طرف رہ کر ایف سولہ طیاروں سے بھارتی اہداف کو نشانہ بنا سکتے تھے یا ہم نے بنایا؟ بھارتی طیارے مار گرانے کے فورا بعد ہم نے دو پائلٹوں کی تحویل کا اعلان کیا تھا کن میں سے ایک سی ایم ایچ میں زخمی اور زیر علاج تھا- وہ دوسرا پائلٹ کون تھا اور کہاں گیا؟
اب جبکے ہم نے بھارت جیسے دشمن کو ناک آؤٹ کر ہی دیا ہے تو اگلی فائٹ کے لئیے ضروری ہے کہ ہماری کوچ حکومت اور مینیجر پارلیمنٹ کو ہر معاملے پر بھرپور اعتماد میں لیا جائے- واضح طور پر اور برملا قوم کو بتایا جائے کہ ایف سولہ طیارے کی خریداری کے معاہدے کی اصل شرائط کیا تھی- بھارتی اور امریکی حکومتوں کے ردعمل کے بعد واضح ہے کہ کون کیا جان چکا ہے اور اگر کوئی نہیں جانتا تو پاکستان کی عوام اور پارلیمنٹ- وہ پارلیمنٹ جس کے سامنے پاک فضائیہ کے اعلی افسران شاید اس کی لئیے پیش نہ ہوئے تھے کہ مزکورہ تکنیکی مگر اہم اور بنیادی سوالات کے جوابات وہ اس وقت نہ دینا چا رہے تھے-

پارلیمنٹ کا بھی اب امتحان ہے کہ وہ حکومت اور اداروں کو کیسے جوابدہ بناتی ہے- سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہتھیاروں کے محدود استعمال کا معاہدہ کسی دوسرے ایسے ہتھیار کی خریداری میں بھی کیا گیا ہے جو ہم بھارت کے خلاف استعمال نہ کر پائیں گے؟ ایف سولہ طیاروں کے اڑانے کا درست طریقہ کیا ہے یہ تو پاک فضائیہ کے پائلٹ ہی بتا سکتے ہیں مگر اس کے درست استعمال کی پالیسی طے کرنے کا حق صرف اور صرف حکومت اور وزارت دفاع کے پاس ہے- اگر یہ حق کسی نامعلوم معاہدے سے محدود کیا گیا ہے تو پھر یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سکینڈل اور نیب کیس ہو گا –

متعلقہ مضامین