بڑے لوگوں کی سنہری یادیں: نثار احمد زبیری ۲


عارف الحق عارف

‎کچھ عرصے بعد ان کو طلبا کے صفحہ کے ساتھ اضافی طور پر سٹی ایڈیٹر کی ذمہ داری بھی سونپ دی گئی۔ بس پھر کیا تھا۔ انہوں نے یہ منصب سنبھالتے ہی اس صفحے کو معیاری صفحہ بنانے کا ارادہ کرلیا۔ وہ پہلے شعبہ اشتہارات سے اشتہارات کی تعداد اور سائز (جگہ) معلوم کرتے اورپھر خبروں کے لیے بچنے والی جگہ کے حساب سے لے آؤٹ پلان تیار کرتے کہ کتنی تین‘ کتنی ڈبل اور کتنی سنگل کالمی خبریں اور کتنی تصاویر صفحہ کی زینب بنیں گی۔ کاپی کے لے آؤٹ یہ کام اس زمانے میں جنگ میں نہیں ہوتا تھا۔ بعد میں تو اس کے لیے باقاعدہ آرٹ ڈائریکٹرز رکھے گئے جو لے آؤٹ بنانے کے ذمہ دار ہوتے۔ پھر خبروں کے انتخاب کا مرحلہ آتا۔ نثار زبیری اپنے صفحے کو صحافت کے مسلمہ معیار کے مطابق بنانے کے حامی تھے اور ان کو یہ موقع مل گیا تھا۔ وہ ہر خبر کو خبریت کی بنیاد پرکھتے ،کانٹ چھانٹ کرتے اور خبریت کے لحاظ سے اس کا لے آؤٹ طے کر کے شائع کرنے کا فیصلہ کرتے۔ اہم ترین خبر کو بہت اوپر اور پھر اہمیت کے لحاظ سے ساری خبریں اپنی جگہ پاتیں۔ نثار زبیری نے سٹی ایڈیٹر بنتے ہی پہلی بار سفارشی خبروں کے رجحان کی نہ صرف حوصلہ شکنی کی بلکہ اس سفارشی کلچر کو سرے سے ختم کردیا۔ پھر وہی ہوا جو ایسے سخت اصول اور میرٹ پر ہر کام کرنے والے کا ہوتا ہے کہ وہ سٹی ایڈیٹر کی پوسٹ پر برقرار نہ رہ سکے اور چند ماہ بعد انہیں وہاں سے تبدیل کردیا گیا۔

‎نثار زبیری کا اصل امتحان اس وقت شروع ہوا جب 1972ء میں انہیں ایڈیٹر اخبار جہاں کی حیثیت سے مقرر کیا گیا۔ یہ ذمہ داری ان کے لیے بہت بڑا چیلنج بن گئی۔جس وقت انہوں نے اخبار جہاں کے ایڈیٹر کے طور پر چارج سنبھالا اس وقت اس کی اشاعت 25 سے 30 ہزار کے لگ بھگ تھی مگر ان کی محنت شاقہ‘ اخبار جہاں میں نت نئی سلسلہ وار کہانیاں‘ نئے نئے عنوانات کے صفحات اور خواتین سے متعلق تمام دلچسپ امور کو شامل کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ اشاعت میں ہر ہفتے اضافہ ہونے لگا اور1984ء میں جب انہوں نے اخبار جہاں سے استعفیٰ دیا تو اس کی اشاعت ایک لاکھ10ہزار تک پہنچ چکی تھی۔ نثار زبیری نے اخبار جہاں کے کام کو اپنے حواس پر اتنا سوار کرلیا تھا کہ وہ اکثر بتایا کرتے کہ رات کو خواب میں بھی خود کو دفتر کے مختلف امور ادا کرتے ہوئے دیکھتے اور کبھی اتنے زور سے بولتے ہوئے ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھتے کہ’’ یہ تصویر یا مضمون یہاں نہیں دوسری جگہ لگانا تھا یہاں کیوں لگادیا‘‘ اور راشدہ بھابھی ان کی ہڑبڑاہٹ میں بلند ہونے والی آواز پر نیند دے بیدار ہو کر اٹھ بیٹھتیں اور پوچھتیں تو جواب ملتا کہ خواب میں اخبار جہاں کی کاپیاں لگارہا تھا۔ 1978 کے زمانے کا ذکر ہے۔ ہمیں اس وقت جنگ سے4سالانہ بونس ملا کرتے تھے۔ ایک بونس بنیادی تنخواہ اور مہنگائی الاؤنس کے مساوی رقم پر مشتمل ہوتا تھا۔ ہماری تنخواہ حبیب بینک عید گاہ برانچ میں بھیج دی جاتی تھی۔ ایک دن سید محمود احمد مدنی‘ نثار زبیری اور میں بونس لینے بینک گئے۔ مدنی صاحب اور نثار زبیری کو پانچ یا چھ ہزار روپے کی رقم ملی جبکہ مجھے تین ہزار روپے ملے۔ میں نے بڑی حسرت سے ان دونوں سینئر ساتھیوں سے کہا کہ مجھے اتنی رقم کے بونس کب ملیں گے؟ اس سے آپ اندازہ لگالیں کہ اس دور میں صحافیوں کی تنخواہیں کتنی کم ہوتیں تھیں۔ صرف مدیران کی تنخواہ چار ہندسوں تک ہوتی تھیں ۔

نثار احمد زبیری

‎نثار زبیری صحافیوں میں اپنی صلح کل طبیعت سادگی، اعلی اخلاق اور مثالی اخبار نویس ہونے کی بنا پر بڑے مقبول تھے۔ اس کا اندازہ ایک موقع پر کراچی پریس کلب کے انتخابات میں ہوا۔ اس دور میں صحافیوں میں دائیں اور بائیں بازو کی تقسیم اور تناؤ پورے عروج پر تھا اور اس بات کا دور دور تک کوئی امکان نہیں تھا کہ دائیں بازو کا کوئی اخبار نویس پریس کلب کے انتخاب میں کامیاب ہو سکے۔ کشیدگی کے اس ماحول میں نثار زبیری نے گورننگ باڈی کا انتخاب لڑا جس میں انہوں نے ریکارڈ ووٹ لے کر پہلی پوزیشن حاصل کی اور گورننگ باڈی کے رکن منتخب ہوگئے۔ ان کی یہ کامیابی ان کی صحافیوں کے تمام طبقات میں مقبولیت کا ایک واضح ثبوت تھا۔حالاں کہ کسی اسلام پسند صحافی کے لیے پریس کلب میں کوئی نشست حاصل کرنا بے حد دشوار تھا۔آج کل کے حالات اس کے بلکل برعکس ہیں۔

آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے عارف الحق عارف نے 1967 میں روزنامہ جنگ کراچی سے صحافت کا آغاز کیا،جہاں 2002 تک وابستہ رہے،اسی سال جیو ٹی وی سے وابستہ ہوئے جہاں بطور ڈائریکٹر 18 سال سے زائد عرصہ گزارا، عارف الحق عارف کی صحافت سے 52 سالہ وابستگی کا یہ سفر بڑا دلچسپ ہے،پاکستان 24 میں “ بڑے لوگوں کی سنہری یادیں “ کے اس تحریری سلسلے میں آپ کو نامور لوگوں کی متاثر کن کہانیاں پڑھنے کو ملیں گی۔امید ہے قارئین کے لیے یہ سلسلہ دلچسپ ہوگا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے