پی ایس ایل 4 فلاپ؟


ہر گزرتے دن کے ساتھ پی ایس ایل 4 کے رنگ پھیکے پڑتے چلے جا رہے ہیں۔
پاکستان سپر لیگ کے گزشتہ میلوں میں شائقین کرکٹ کا جیسا جوش و خروش دیکھنے میں آیا تھا اس بار پاکستان کرکٹ بورڈ کی نئی انتظامیہ احسان مانی کی قیادت میں اچھی کارکردگی دکھانے میں ناکام نظر آ رہی ہے۔ مہنگے ترین کھلاڑی بھی خانہ پوری ہی کر رہے ہیں جس کی ایک وجہ خالی سٹیڈیم ہونا بھی ہے۔
کرکٹ لیگز اب دنیا بھر میں جہاں نئے کھلاڑیوں کو پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں وہیں انٹرٹینمنٹ کا بڑا ذریعہ ہوتی ہیں۔ افتتاحی تقریب کو ہی لے لیں۔ مشہور انٹرنیشنل گلوکار پٹ بل کی تقریب میں پرفارمنس کی تشہیر کر کے ٹکٹ بیچے گئے اور آخری لمحات میں ان سے ایک ویڈیو میسج کروا دیا گیا کہ جہاز کے انجن کی خرابی کی وجہ سے نہیں آ پائیں گے۔ شاید میامی، امریکہ سے دوبئ کوئی اور فلائٹ نہیں آرہی تھی! چہ مگوئیاں ہوتی رہیں کہ انکے ہزاروں مداح منتظمین سے ٹکٹوں کی رقوم واپس کرنے کا تقاضا کریں گے۔
باقی کے فنکار بھی رنگ نہ جما سکے۔ افتتاحی تقریب سے آج تک حیرت انگیز طور پر منتظمین ایک میچ بھی ہاوس فل نہ کر سکے ہیں۔

متحدہ عرب امارات میں جمعہ اور ہفتہ کے روز چھٹی ہوتی ہے۔ کسی چھٹی والے دن میچوں کا نہ ہونا منتظمین کی نااہلی کا بڑا ثبوت ہے ۔
علاوہ ازیں پاکستانی وقت کے مطابق رات 2 بجے تک جاری رہنے والے میچز علی الصبح دفتر، سکول اور کالج جانے والوں کی ایک بڑی تعداد دیکھنے سے قاصر ہے ۔ پوری دنیا میں ٹی ٹونٹی لیگز مقامی شائقین کے لئے پرائم ٹائم(6 بجے سے 11 بجے) میں کھیلے جاتے ہیں جس کو مد نظر رکھتے ہوئے پی ایس ایل کے میچز دیر رات جاری رکھنا کسی حماقت سے کم نہیں۔ اس غلط ٹائمنگ کا مارکیٹنگ پر بھی یقینا منفی اثر پڑ رہا ہے۔
وہ اور بات ہے اس مرتبہ پی ایس ایل کرکٹ ٹورنامنٹ کم اور ایک سیلفی کمپیٹیش زیادہ لگ رہا ہے۔ لاکھوں ڈالرز دے کر لائے گئے کوچز کرکٹ کے میدانوں میں محنت کرتے نظر آنے کے بجائے کھلاڑیوں کے ہمراہ کبھی کروز ٹرپ اور کبھی مہنگے ریسٹورانٹس میں سیر سپاٹے پائے جاتے ہیں۔ کیا ہی بہتر ہو کہ ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں پر یہ وقت صرف ہو۔

پی ایس ایل میلے کا آخری راونڈ پاکستان کی اپنی سرزمین پر کھیلے جانا ہے۔ پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق کچھ میچز لاہور جب کہ فائنل اور دوسرے اہم میچز کراچی میں کھیلے جانے تھے۔ ایک
عجیب و غریب منطق دے کر لاھور سے میچز کراچی منتقل کر دئیے گئے ہیں کہ جو فلائیٹ آپریشن لاھور سے تین مارچ کو بحال ھو چکا وہ سات مارچ کو میچز میں آڑے آ رہا ہے! اس فیصلے نے نہ صرف زندہ دلان لاہور بلکہ قریبی شہروں گوجرانوالہ، سیالکوٹ، فیصل آباد حتی کہ اسلام آباد و راولپنڈی کے لاکھوں افراد کو مایوس کیا ہے۔ یاد رہےلاہور قلندرز کے علاوہ تین ٹیمیوں اسلام آباد یونائٹڈ، ملتان سلطان اور پشاور ذلمی کے سپورٹران کے لئے بھی قریبی سنٹر تھا اور یہاں پہنچنا بہت آسان تھا۔ اب اس غیر دانشمندانہ فیصلے کی بدولت یہ کرکٹ کے دیوانے اپنی ٹیموں کو میدانوں میں دیکھنے سے محروم رہ جائیں گے۔

ماضی قریب میں جب پی ایس ایل کے فائنل کا میدان لاہور میں سجا اور جو غیر ملکی سٹار کھلاڑی دلیری سے پاکستان کھیلنے آئے، ان کو موجودہ وزیراعظم عمران خان نے پٹھیچر اور ریلو کٹے کے تمغوں سے نوازا تھا۔ اس بار بھی مسٹر 360 اے بی ڈی سمیت کئی سٹار پلیئرز نے پاکستان آنے سے انکار کر دیا ہے۔ اب دیکھنایہ ہے کہ اس بار پاکستان آنے والے غیر ملکی کھلاڑیوں کو کپتان کن الفاظ سے نوازتے ہیں۔

بہرحال اس فیصلے سے یقینی طور پر پی ایس ایل کی بچی کچی ساکھ بھی متاثر ہو گی۔ پی سی بی میں تبدیل تو پہلے ہی راونڈ میں پٹ چکی۔ آگے دیکھتے ہیں کہ اپنی کوتاہیوں سے مانی صاحب اور انکے رفقاء سیکھتے ہیں یا پھر ۔۔

باسط سبحانی

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے