بڑے لوگوں کی سنہری یادیں: نثار احمد زبیری ۳

عارف الحق عارف

‎نثار زبیری نے 1984میں اخبار جہاں سے استعفی دے دیا اور ایک اور اردو جریدے رابطہ میں ایڈیٹر کی ذمہ داری سنبھال لی۔ مشہور صحافی سید محمد یعقوب اور عبدالسلام سلامی بھی اس کے ادارہ تحریر میں شامل تھے۔وہ اس کے ساتھ کم و بیش ڈیڑھ دو سال تک وابستہ رہے اور اس کے بعد انہیں کراچی یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ میں اسسٹنٹ پروفیسر کی حثیت سے شمولیت کا موقع مل گیا۔یوں استاد کے طور پر یہ تقرری ان کے لیے بہت مفید ثابت ہوئی۔عملی صحافت میں کامیابی کے بعد ابلاغ عامہ کے طلبا کو پڑھانا جس قدر ان طلبا کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں تھا وہاں نثار زبیری کے لیے بھی ان کو صحافت کے اسرار و رموز سے آگاہ کرنا بہت آسان تھا۔ اصل میں نثار زبیری کی طبیعت تعلیم و تدریس کے شعبے ہی کے لیے موزوں تھی۔اس لئے وہ اپنے اس فیصلے پر خوش تھے۔ تدریس کے عمل کو مزید موثر بنانےکے لئے انہوں نے ابلاغ عامہ ہی کے ایک اہم پہلو “ ٹی وی دیکھنے کے بچوں پر اثرات “ کے موضوع پر پی ایچ ڈی کرنے کا فیصلہ کیا۔اکثر والدین کی طرح ان کا بھی پہلے یہ خیال تھا کہ ٹی وی دیکھنا بچوں کے لئے نقصان دہ ہے اور اس سے ان کی تعلیم اور صحت دونوں پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔جب انہوں نے اس موضوع پر پڑھنا اور سوچنا شروع کیا تو ان کی رائے بلکل ہی بدل گئی۔ اس کا ذکر انہوں نے مجھ سے خود بیان کیا کہ اس بارے میں ان کی رائے اب پہلے والی نہیں رہی۔ان کی دلیل یہ تھی سائنس،انٹر نیٹ اور دوسری جدید ٹیکنالوجیز میں دن رات بڑی تیزی سے ترقی ہو رہی ہے اور ٹیلی وژن اس ترقی اور نت نئی معلومات کو مختلف پروگراموں میں کسی نا کسی انداز میں پیش کرتا رہتا ہے،جن میں بچوں کے کارٹون اور دوسرے پروگرام بھی شامل ہیں۔ اگر بچے ٹی وی نہیں دیکھیں گے تو وہ اس دور میں ٹیکنالوجی کی اس تیز رفتار ترقی،نئی نئی ایجادات اور اس میدان میں ہونے والی پیشرفت اور ان کو سمجھنے کی زبان سے لا علم رہیں گے۔اس طرح ٹی وی دیکھنے والے طلبہ کے مقابلے میں ٹی وی نا دیکھنے والے طلبہ لیاقت اور قابلیت میں بہت پیچھے رہ جاہیں گے۔ انہوں نے پروفیسر زکریا ساجد کی رہنمائی اور نگرانی میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔ جو میرے سمیت پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا سے وابستہ لا تعداد اینکررز،صحافیوں اور کالم نگاروں کے شفیق استاد ہیں۔ان کا پی ایچ ڈی پر لکھا جانے والا یہ مقالہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

‎پی ایچ ڈی کرنے کے بعد وہ شعبہ ابلاغ عامہ کے سربراہ بنے۔اسی دوران ان کو ملائیشیا کی مشہور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں پروفیسر کی حیثیت سے ساڑے تین سال تک پڑھانے کا بھی موقع ملا۔وہ وہاں کے نصاب ،طریقہ تعلیم اور اساتذہ کی تدریس کے ساتھ لگن اور دلچسپی سے بڑے متاثر ہوئے۔ اس کے علاوہ جس بات کا ان پر سب سے زیادہ اثر ہوا۔وہ یہ تھی کہ اس یونیورسٹی میں تقریباً” ڈیڑھ سو ممالک کے طلبہ اور طالبات سے وہ بات کر سکتے اور ان کے ملکوں کے حالات سے با خبر رہ سکتے تھے۔ وہاں سے واپسی کے ڈیڑھ دو سال بعد وہ 1999ء میں کراچی یونیورسٹی سے ریٹائر ہوگئے۔لیکن انہوں نے تدریس کے عمل کو اب بھی جاری رکھا ہوا ہے 81 سال کی عمر میں بھی آج کل تین جامعات کراچی یونیورسٹی،جناح یونیورسٹی اور بحریہ یونیورسٹی میں ابلاغ عامہ کے طلبہ کو اپنے علم اور تجربے سے فائدہ پہچا رہے ہیں۔ وہ کچھ عرصہ انسٹیٹیوٹ آف ایڈورٹائزنگ کے ڈائریکٹر بھی رہے ۔

‎نثار زبیری اور راشدہ دونوں خوش قسمت ہیں کہ یہ دونوں رشتہ ازدواج سے منسلک ہوئے۔مزاج،خیالات اور پیشے میں یکسانیت کے لحاظ سے واقعی یہ مثالی جوڑا ہے۔راشدہ زبیری جو پہلے راشدہ افضال تھیں مشہور ماہر تعلیم کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر اور تحریک پاکستان کے ایک سرگرم کارکن ڈاکٹر پروفیسر محمد افضال قادری کی صاحبزادی ہیں۔راشدہ خود بھی صحافت کے شعبے سے تعلق رکھتی ہیں وہ براہ راست زبیری صاحب کی تربیت یافتہ اور ان درجنوں نو آموز طلبہ و طالبات لکھاریوں میں سے ایک ہیں جن کو جنگ کے صفحہ طلبہ پر شہر سے بارہ میل پرے اور دیگر کالم لکھنے کی تربیت دی جاتی تھی۔وہ مشرق اخبار میں” ایک خاتون کی ڈائری “کے نام سے ایک مقبول کالم بھی لکھتی تھیں۔ان کی آپ بیتی “اپنی آپ تماشائی” اور کالموں کا مجموعہ” نا حکایتیں نا شکائتیں” شائع ہو چکا ہے۔نثار زبیری کی دو کتابیں “ تحقیق کے طریقے” اور “ابلاغ عامہ،افکار اور نظریات “ شائع اور مقبول ہو چکی ہیں وہ آج کل اپنی آپ بیتی “اخبار بیتی “ کے نام سے لکھ رہے ہیں۔

نثار احمد زبیری

ہم دونوں کو 1984 میں اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کی کوریج کے لئے ڈھاکا بنگلادیش جانے کا بھی موقع ملا۔ ہمارے ساتھ جنگ کے انور قدوائی اور اینکر سلیم بخاری اور برطانیہ کے ایک جریدے “ عربیہ “ کے اسلم عبداللہ اور دوسرے اخبارات،ریڈیو اور پی ٹی وی کے نمائندے بھی تھے۔ کانفرنس کے بعد ہم نے ایک ہفتہ مزید وہیں قیام کیا اور حسینہ واجد ( موجودہ وزیر اعظم ) پروفیسر غلام اعظم اور متعدد دیگر اہم رہنماؤں سے ملاقاتوں کے علاوہ چٹاگانگ اور کاکس بازار بھی دیکھنے کا بھی اتفاق ہوا۔ اس سفر کی روداد کسی اور موقع پر بیان کروں گا۔ اللہ نے انہیں محبت کرنے والی اہلیہ راشدہ بھابھی‘ بیٹی ثوبیہ اور دو بیٹوں رافع اور سمرہ احمد سے نوازا۔ دونوں بیٹے اعلی تعلیم یافتہ اور اعلی عہدوں پر فائز ہیں ۔
———————

آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے عارف الحق عارف نے 1967 میں روزنامہ جنگ کراچی سے صحافت کا آغاز کیا،جہاں 2002 تک وابستہ رہے،اسی سال جیو ٹی وی سے وابستہ ہوئے جہاں بطور ڈائریکٹر 18 سال سے زائد عرصہ گزارا، عارف الحق عارف کی صحافت سے 52 سالہ وابستگی کا یہ سفر بڑا دلچسپ ہے،پاکستان 24 میں “ بڑے لوگوں کی سنہری یادیں “ کے اس تحریری سلسلے میں آپ کو نامور لوگوں کی متاثر کن کہانیاں پڑھنے کو ملیں گی۔امید ہے قارئین کے لیے یہ سلسلہ دلچسپ ہوگا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے