سیاستدانوں کی سنہری یادیں: شاہ مردان شاہ ثانی پیر پگارا ہفتم


عارف الحق عارف

سندھ میں لاکھوں حروں کے روحانی پیشوا شاہ مردان شاہ ثانی پیر پگارا ہفتم بیسویں صدی کی سحر انگیز سیاسی شخصیت اور روحانی بزرگ تھے۔جن کے پاکستان کی سیاست پر گہرے اثرات کو ان کے انتقال کے سات سال بعد آج بھی محسوس کیا جاتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی سربراہی میں پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت کے دور میں وہ متحدہ مسلم لیگ کے صدر تھے اور نظام مصطفے کی مشہور تحریک میں وہ ایک بڑے متحرک لیڈر کے طور پر ابھرے اور ان کا شمار اپوزیشن کے اہم رہنماؤں میں ہونے لگا۔ان کی قیام گاہ کنگری ہاؤس حروں کا روحانی مرکز تو تھا ہی،اب وہ ملکی سیاست کا بھی ایک مضبوط گڑھ بن گیا۔ اس دور میں کنگری ہاؤس میں گہما گہمی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔لیکن پیر پگارا کے سیاسی عروج کا دور 1985 کے غیر جماعتی انتخابات کے بعد شروع ہوا اور وہ حقیقی طور پر کنگ میکر بن گئے۔ ان کی جاذب نظر شخصیت اور کامیا ب سیاسی حکمت عملی سے ان کے مرید محمد خان جو نیجو وزیر اعظم نامزد ہوئے۔ اور پیر پگارا کو حکومت سازی اور جوڑ توڑ میں تاریخی حثیت حاصل ہو گئی۔

پیر پگارا کے نام سے تو مجھے اخبارات میں ان کے ذو معنی بیانات کے ذریعہ سے پہلے ہی آگاہی حاصل تھی لیکن ان کو قریب سے دیکھنے کا موقع سب سے پہلے 1966 میں لسبیلہ چوک نشتر روڈ پر مخدوم ہاؤس کے ایک ظہرانے پر ملا۔ جو مخدوم زادہ حسن محمود نے سیاستدانوں پر پابندی کے قانون ایبڈو کے خاتمے پر دیا تھا اور جس میں دوسرے سیاستدانوں،مسلم لیگی رہنماؤں اور کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی تھی ۔پیر پگارا بھی وہاں مدعو تھے اور مجھے اس دعوت میں مخدوم زادہ حسن محمود کے ہم زلف اور میرے روم میٹ پیر سید اختر گیلانی لائے تھے۔ اس ظہرانے کا مقصد مخدوم زادہ حسن محمود کے عملی سیاست میں حصہ لینے کا اعلان کرنا تھا۔ میرے وہم وگمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ جس پیر پگارا کو دور سے دیکھنے کا موقع اس وقت مل رہا ہے۔ ان سے چھ سات سال بعد دوستی کا ایسا مضبوط تعلق قائم ہو گا جس کی مثالیں دی جایا کریں گی۔ اور دوستی کا یہ گہرا تعلق کم و پیش 40 سال تک قائم رہے گا۔

صاحب تحریر پیر پگارا کے ساتھ

میرے پیر پگارا سے اصل تعلق کا آغاز 1973 سے شروع ہوا ۔ میں نے ایک سال قبل سیاسی رپورٹنگ شروع کی تھی اور پہلی بار مجھے ان کی پریس کانفرنس کی رپورٹنگ کے لیے کنگری ہاؤس کراچی جانے کا موقع ملا تھا۔ میں نے دوسری خبروں کی طرح یہ خبر بھی دفتر آکر فائل کی اور بھول گیا۔کچھ ہفتے بعد ایک دن جب میں پریس کلب میں تھا،پیر پگارا کے سیکرٹری اور ان کے ہفتہ وار انگریزی میگزین کے ایڈیٹر اویس صاحب میری تلاش میں آئے اور مجھ سے ملے۔ وہ پیر صاحب کا یہ پیغام لے کر آئے تھے کہ میں پیر صاحب کے لئے مختلف اخبارات کے ایسے سینئر رپورٹرز کی ایک فہرست بناکر دوں جن کو وہ آئندہ کے کسی پروگرام میں مدعو کرنا چاہتے تھے۔ میں نے اویس صاحب سے پوچھا کہ پیر صاحب نے اس کام کے لیے میرا ہی انتخاب کیوں کیا ہے؟ اویس صاحب نے کہا کہ اس سوال کا جواب تو صرف پیرپگارا صاحب کے پاس ہے اور وہی اس بارے میں بہتر بتاسکتے ہیں۔ میں نے تمام سینئررپورٹرز کی ایک فہرست بناکر دے دی جو سیاسی نامہ نگار تھے اور مختلف اخبارات اور خبر رساں ایجنسیوں سے تعلق رکھتے تھے۔ اس واقعہ کے بعد پیر صاحب سے میرا قریبی تعلق قائم ہوگیا اور یہ واسطہ جلد ہی گہری دوستی میں بدل گیا جو ان کی زندگی کے آخر تک قائم رہا۔ اصل میں 1970ء سے1980ء تک وہ دور تھا جب اخباری نمائندوں کی پیر صاحب سے رسائی بہت دشوار تھی پیر صاحب سے کوئی اخبار نویس مل نہیں سکتا تھا۔مجھے اس کا علم تھا۔ اس ماحول میں اویس صاحب کے توسط سے پیر صاحب کا مجھ پر اعتماد کرنا مجھ جیسے جونیئر رپورٹر کے لئے جہاں حیرت انگیز تھا وہیں بڑے اعزاز کی بات بھی تھی۔ لیکن مجھے یہ بات بہت ہی عجیب محسوس ہوتی تھی کہ پیر جیسا قد آور لیڈر صحافیوں پر اپنے دروازے کیسے بند کر سکتا ہے۔ چنانچہ جب میرے تعلقات پیر صاحب سے اچھی طرح قائم ہو گئے اور میں نے محسوس کیا کہ پیر صاحب میری بات کونہ صرف توجہ سے سنیں گے بلکہ اس پر عمل بھی کریں گے تو میں نے پیر صاحب کو اخباری نمائندوں کی اہمیت کے بارے میں بتایا کہ ان سے رابطہ رکھنا ان کی سیاسی زندگی کے لیے کتنا ضروری ہے۔ پیر صاحب نے غور سے میری بات کو سنا اور میرے مشورے پر عمل شروع کردیا، اس کے بعد میڈیا کے دیگر نمائندوں کو بھی ایک ایک کرکے کنگری ہاؤس میں داخلے کی اجازت ملنے لگی۔

جاری ہے۔

متعلقہ مضامین