سندھ اسمبلی میں اذان اور جرمن تقریر

سندھ اسمبلی میں حافظ محمد نعیم کی آذان!
پہلی اور آخری بار جرمن زبان میں تقریر!

عبدالجبارناصر
(1) یہ بات عام انتخابات 2002ء کے بعد کی ہے، ان انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے سندھ اسمبلی میں 10ارکان منتخب ہوئے تھے ،جن میں سے 4 جمعیت علماء اسلام ، 4 جماعت اسلامی ، ایک تحریک جعفریہ پاکستان اور رکن جمعیت علماء پاکستان (نورانی) کا تھا۔
مسلم لیگ (ف) کے سید مظفر حسین شاہ اسپیکر ،مسلم لیگ (ق) کی راحیلہ ٹوانہ ڈپٹی اسپیکر اور مسلم لیگ(ق) کے سردار علی محمد مہر کا بطور وزیر اعلیٰ کا انتخاب ہوا ۔ ہر نماز کے وقت حافظ محمد نعیم شموزئی ، مولانا احسان اللہ اشرف ہزاروی ، مولانا عمر صادق ، نصر اللہ خان شجعی شہید اور ایم ایم اے کے دیگر ارکان نماز وقفے کی نشاندہی کرتے تھے مگر وقفہ نہیں ہوتا ۔
حافظ محمد نعیم شموزئی نے کئی بار اسپیکر کو انتباہ کیاکہ نماز کا وقفہ نہ ہوا تو ہم ایوان میں ہی نماز ادا کریں گے ۔ایک روز حافظ صاحب نے اسپیکر سے بار بار نماز کے وقفے کا کہا مگر وقفہ نہ ہوا اور حافظ صاحب اپنی نشست پر کھڑے ہوئے اور غالباً عصر کا وقت تھا آذان شروع کی اور آذان مکمل ہوتے ہیں اسپیکرکی ڈائس کے سامنے اپنا رومال بچھادیا مگر قبل اس کے کہ نماز شروع کرتے اسپیکر نے فوری نماز کا وقفہ کیا ۔حافظ صاحب کے اس عمل کو بعض افراد نے پسند نہیں کیا مگر اکثریت خوش تھی ۔
اسپیکر نے حافظ صاحب کو اپنے دفتر بلایا اور کہاکہ آپ ایسا نہ کریں ۔ حافظ صاحب نے کہا کہ اگر آپ نماز کے اوقات میں نماز وقفہ نہیں کریں گے تو میں ایسا ہی کرونگا اور پھر اسپیکر سید مظفر حسین شاہ نے وعدہ کیا کہ اب ہر نماز میں وقفہ ہوگا، اگلے اجلاس میں ایوان میں آذان کے لئے دو لائوڈ اسپیکر لگے تھے جو اسمبلی کے قریب سندھ سیکریٹریٹ کی جامع مسجد سے منسلک تھے، کیونکہ اسمبلی کی پرانی بلڈنگ کی حدود میں کوئی مسجد اور نہ جائے تھی اور سید مظفر حسین شاہ نے 5 سال تک اس وعدے کی پاسداری کی اور حافظ صاحب اور شاہ صاحب کی 5 سال تک دوستی بھی خوب چلی ۔ اب نئی عمارت کی حدود میں بیسمنٹ میں دو خوبصورت جائے نمازیں بنائی گئی ہیں جن میں سے ایک مردوں اور دوسری خواتین کے لئے خاص ہے۔ ایوان میں آذان کی آواز سننے کے لئے لایوڈ اسپیکر بھی ہیں مگر نماز وقفہ نہیں۔
عام انتخابات 2008ء کے بعد ایک مرتبہ پھر سندھ اسمبلی میں نماز کا وقفہ ختم ہوچکا ہے ، ایم کیوایم پاکستان کے سید سردار احمد صاحب، پیپلزپارٹی کے انور مہر سمیت کئی ارکان نے کئی بار اس کی نشاندہی کی مگر آج تک نماز وقفہ بحال نہیں ہوا اور ہر نمازی کو آج بھی حافظ صاحب یاد آتے ہیں۔
ارکان اسمبلی ، صحافیوں ، اسمبلی عملے سمیت سیکڑوں افراد بیشتر اوقات بر وقت اور با جماعت نماز سے محروم رہتے ہیں اور بعض اوقات تو نماز جمعہ بھی نصیب نہیں ہوتا ہے ۔ آج قومی اسمبلی میں ایم ایم اے اور ن لیگ کے نصف درجن ارکان کے عمل کو دیکھکر یہ واقعہ یاد آیا۔ بہت سارے احباب اس عمل کو سیاست کے لئے مذہب اور نماز کا استعمال قرار دے رہے ہیں، سندھ اسمبلی میں حافظ محمد نعیم شموزئی کے عمل کے وقت بھی مجھ سمیت کئی افراد اس عمل درست نہیں سمجھتے تھے ،مگر حالات نے ثابت کردیا کہ اس سے بہتر کوئی حل نہیں ہے ۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور قانون سازفورم میں نماز کا وقفہ نہ ہونا ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے۔
(2)حافظ محمد نعیم شموزئی صاحب کا اسمبلی میں ایک اور دلچسپ واقعہ یہ ہے کہ کچھ ارکان مسلسل انگریزی میں تقاریر کرتے تھے ۔ حافظ صاحب نے کئی بار نشاندہی کی کہ اگر چہ مجھے انگریزی سمجھ آتی ہے مگر کئی ارکان کے لئے مشکل ہے ،کیوں نہ اپنی قومی زبان اردو یا سندھ میں بات کی جائے ، کچھ ارکان نے اس کا مذاق اڑیا اور پھر حافظ صاحب نے اپنی باری پر ’’جرمن زبان ‘‘میں تقریر شروع کی ، کافی دیر تک کئی ارکان اس کو پشتو سمجھتے رہے اور ایک رکن نے کہا کہ حافظ صاحب یہاں پشتو نہیں اردو ، سندھ یا انگریزی میں بات کریں ۔ ایک نے آواز دی یہ پشتو نہیں کوئی زبان ہے ۔ کئی منٹ تک حافظ صاحب کی تقریر جاری رہی اور پھر حافظ صاحب انکشاف کیاکہ یہ ’’جرمن زبان ‘‘ ہے اور وہ کئی برس جرمنی میں گزار چکے ہیں ، انہیں جرمن زبان پر مکمل عبور ہے ۔ غالباً سندھ اسمبلی کی تاریخ میں جرمن زبان کی یہ پہلی اور آخری تقریر ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے