کوٹ لکھپت کا قیدی، ہسپتال نہ جانے پہ بضد

عفت رضوی

میں ذاتی طور پر شریف خاندان کی سیاست کی مداح نہیں ہوں ، مگر میں ایک بیٹی ضرور ہوں جسے ایک بیٹی مریم نواز کی تکلیف کا بخوبی اندازہ ہورہا ہے، یہ تحریر لکھنے تک مریم نواز اپنے والد کی گرتی صحت کے لیے اتنی ہی بے بس ہیں جتنا کہ کوئی بھی بیٹی ہوسکتی ہے، نہ کوئی سیاسی جلسہ دل کی تکلیف کا علاج ہے ، نہ کوئی قانونی فیصلہ دل کی بند شریانیں کھول سکتا ہے ، دل کی حرکت میں بے قاعدگی آجائے تو ووٹ زیادہ نہیں ملا کرتے ، گردے بھی تکلیف دینے لگ جائے تو سیاسی پوزیشن مستحکم نہیں ہوا کرتی ، ہاں مرض انسان کے شکستہ حوصلے دیکھ کر توانا ہوجاتا ہے ، علاج نہ ملے تو جیت ہمیشہ بیماری کی ہوتی ہے۔

مئی ۲۰۱۶ میں لندن کے مقامی اسپتال میں اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کی اوپن ہارٹ سرجری ہوئی ،اس سے قبل ۲۰۱۱ میں بھی نواز شریف ایک کارڈیک پراسیجر سے گزر چکے تھے، نواز شریف نے اوپن ہارٹ سرجری کے بعد کچھ دن لندن میں آرام کیا اور صحتیاب ہوکر واپس ملکی قیادت سنبھال لی ، تاہم نواز شریف کی اس اوپن ہارٹ سرجری کو سوشل میڈیا بلکہ ملکی میڈیا کے کچھ عناصر نے خاصا مشکوک بنادیا ، کہا گیا کہ نواز شریف بالکل صحت مند ہیں اور یہ اوپن ہارٹ سرجری ایک ڈرامہ ہے۔

نواز شریف کی اوپن ہارٹ سرجری حقیقت تھی یا ڈرامہ اس بات کی تصدیق اسلام آباد کے پمز اسپتال نے ۲۰۱۸ میں کی جب نواز شریف لندن فلیٹس کے ریفرنس میں اولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے قیدی تھے۔ اڈیالہ جیل میں رہتے ہوئے نواز شریف کو معمولی علالت کے باعث اسلام آباد کے پمز اسپتال لایا گیا ، جہاں ڈاکٹرز کی ٹیم نے انکے سینے پر سرجری کے نشانات کی تصدیق کی ، ڈاکٹرز نے انہیں بہتر سہولیات والے ہسپتال منتقل کرنے کی تجویز دی تاہم انہیں اسپتال سے واپس اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا۔

جیل جانے کے بعد ابتداء میں منظر عام پر آنے والی تصاویر سے نواز شریف کی گرتی صحت عیاں تھی ، عام طور پر نواز شریف بھرے گالوں ، گلابی رنگت کے ساتھ نظر آتے تھے مگر جیل جانے کے ایک ماہ کے اندر ہی ان کا وزن گر گیا تھا، چہرہ پچک سا گیا تھا اور رنگ زرد پڑ گیا تھا۔ کلثوم نواز کے انتقال کے بعد نواز شریف مزید جسمانی لاغر دکھائی دیئے ، تاہم انہیں کوئی سنجیدہ نوعیت کی علالت بظاہر نہ تھی۔

نواز شریف کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت ملی مگر رہائی نصیب نہ ہوئی، کیونکہ کچھ ہی دن میں العزیزیہ کیس میں پھر انہیں جیل قید کی سزا سنا دی گئی ، اب کی بار جیل کا انتخاب نواز شریف نے خود کیا اور ایک درخواست کے ذریعے کوٹ لکھپت جیل لاہور کی استدعا کی جوکہ منظور ہوئی۔

دسمبر ۲۰۱۸ میں نواز شریف کو کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا، یہاں آتے ہی نواز شریف کی بیماریوں نے پہلے سے بھی زیادہ قوت سے سر اٹھایا ، نواز شریف کے دل نے اب مزید بوجھ برداشت کرنے سے انکار کردیا، ۱۱ جنوری کو نواز شریف نے بائیں بازو کے درد اور سینے میں تکلیف کی شکایت کی، جس کے ۶ دن بعد حکومت پنجاب کی جانب سے پروفیسر ڈاکٹر شاہد حمید کی سربراہی میں بنے تین رکنی میڈیکل بورڈ نے ان کا طبی معائنہ کیا ، ۲۱ جنوری کو انہیں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کردیا گیا ، ۲۳ جنوری کو میڈیا کے ذریعے یہ بات منظر عام پر آئی کہ میڈیکل بورڈ کی تشخیص کے مطابق نواز شریف کی دل کی بیماری بڑھ گئی ہے۔ نواز شریف کے معالج ڈاکٹر عدنان نے ان کی بیماری کے حوالے سے ٹوئٹ کیا کہ ان کے مریض نواز شریف کے دل کے ایک بڑے حصے کو خون کی سپلائی نہیں ہورہی ، یہ انجائنا کا مسئلہ ہے جس کا فوری علاج ضروری ہے۔

۳۰ جنوری کو جیل میں میڈیکل ٹیم نے نواز شریف کا طبی معائنہ کیا، جن کی رپورٹ میں کہا گیا کہ نواز شریف عارضہ قلب کے مریض ہیں ساتھ ہی انہیں گردوں کا مزمن مرض لاحق ہے جس کے لیے انہیں صرف امراض قلب کے ہسپتال کے بجائے بڑے میڈیکل سینٹر منتقل کیا جائے جہاں تمام امراض کا علاج دستیاب ہوں۔

ادھر جیل میں نواز شریف کی بیماری بڑھ رہی ہے ادھر مریم نواز جو پہلے ہی اپنی ماں کو لندن کے ہسپتال میں کھوئی بیٹھی تھی اور بھی پریشاں نظر آرہی ہیں۔نواز شریف کا دل ساتھ نہیں دے رہا، ۳ فروری کو انہیں کوٹ لکھپت جیل سے لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کیا، ابھی سروسز اسپتال میں نواز شریف کا علاج شروع ہی ہوا تھا کہ ۶ فروری کو انہیں دوبارہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کرنے کا مژدہ سنا دیا گیا ، جس پر نواز شریف نے سروسز اسپتال کے میڈیکل سپریٹنڈنٹ کا کہا کہ بہتر ہے مجھے جیل ہی بھیج دیں ایسی خانہ بدوشی اچھی نہیں۔

یہ وہ دن تھا جب کوٹ لکھپت کے اس قیدی نے اسپتال نہ جانے کی ضد پکڑ لی ، مریم نواز نے بھی اپنے ٹوئٹ میں واضح کیا کہ ان کے ابو اب مزید تضحیک کا نشانہ نہیں بننا چاہتے ، کئی میڈیکل بورڈ بیٹھ گئے اور ہسپتال سے دوسرے ہسپتال منتقل کردیا جاتا ہے۔

مریم نواز نے آخر کا خاموشی توڑی اور ایک ٹوئٹ کے ذریعے حاکم وقت کو خبردار کیا ’ میں نے چپ رہ کر سب کچھ سہا اور مانگا تو صرف اللّہ سے، کسی چیز پر سیاست نہیں کی، مگر اب اگر میرے والد کی صحت سے کھلواڑ کیا گیا، یا اس کو سیاست کی نظر کیا گیا، یا ان کو خدا نہ خواستہ کوئی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری حکومت پر ہو گی۔ ایک رات جیل میں میاں صاحب کو سینے میں تکلیف ہوئی، وہ آوازیں دیتے رہے مگر کوئی نہ آیا۔ اس بے حسی اور سیاسی انتقام کا جواب حکمرانوں کو دینا پڑے گا۔‘

سروسز اسپتال میں نواز شریف کا علاج کرنے والے میڈیکل بورڈ نے ان کی شریانوں کے اندرونی جانچ کی تجویز دی ہے، تاہم مزید زیر علاج رہنے کے بجائے نواز شریف کو ۲۵ فروری کو ایک بار پھر جیل روانہ کردیا گیا ، اب نواز شریف نے جیل سے ہسپتال منتقلی کے اس سلسلے کو ختم کرنے کے لیے ایک نئی بات کردی ، ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان خان کو نواز شریف نے جیل میں کہا کہ اب مجھے سینے میں تکلیف ہوئی تو جیل انتظامیہ کو نہیں بتاونگا بلکہ خاموشی سے سہہ لوں گا۔ نواز شریف کی یہ ترکیب ان کی صحت کے لیے نئی رکاوٹ ہے ، ۵ مارچ کو مریم اور نواز شریف کے معالج ڈاکٹر عدنان نے نواز شریف سے ملاقات کی ، مریم نواز نے اپنے ٹوئٹر کے ذریعے عوام کو آگاہ کیا کہ ملاقات کے دوران ہی ان کے والد کو انجائنا کا حملہ ہوا، جس میں انہیں سینے میں تکلیف اٹھی، اسی دوران باپ نے بیٹی پہ منکشف کیا کہ پچھلے ایک ہفتے میں چار بار یہ انجائنا کا حملہ ہوچکا ہے تاہم انہوں نے جیل انتظامیہ سے درد کی شکایت نہیں کی۔

ایک طرف نواز شریف اپنا مرض اور جیل کاٹ رہے ہیں، دوسری طرف ان کی بیٹی کی بے تابی قابل فہم ہے ، مگر قابل ذکر ہے ان حلقوں کا بیان جو کہ اب بھی یہ مانتے ہیں کہ نواز شریف کی بیماری کسی ڈیل کے لیے رچایا گیا ڈرامہ ہے، کوئی ڈھیل حاصل کرنے کا بہانہ ہے، عوام کی حمایت لینے کا ایک جذباتی طریقہ ہے ، اتنا ہی کہہ دینا اہم ہے کہ یہی وہ لوگ تھے جن کی زبانیں بیگم کلثوم نواز کی بیماری کا مذاق اڑاتے نہیں تھکتی تھیں ، کہا جاتا تھا کہ باپ بیٹی کو لندن جانے کے لیے اک بہانہ چاہیے سو وہ ماں کو استعمال کررہے ہیں، پھر یہ ہوا کہ کلثوم نواز دنیا سے رخصت ہوئیں اور الزام دھرنے والوں کو آخر کار بیماری کا ثبوت ملا، سب کا کلیجہ ٹھنڈا ہوا۔ ایک بار پھر شور ہے بیماری کے ڈرامے کا ، الزام لگانے والے اب بھی ثبوت مانگ رہے ہیں ۔ شاید یہ سمجھنے میں انہیں ایک زمانہ لگے کہ ہر بیماری ملک چھوڑ کر بھاگنے کا بہانہ نہیں ہوتی ، ہر مریض جھوٹا نہیں ہوتا، اور ہر ڈاکٹر سیاسی طور پر بکا ہوا نہیں ہوتا۔

عفت حسن رضوی اسلام آباد میں مقیم صحافی و مصنفہ ہیں ۔ نجی ٹی وی چینل کے لیے سپریم کورٹ اور دفاعی امور کی رپورٹنگ کرتی رہی ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button