بڑے لوگوں کی سنہری یادیں: شاہ مردان شاہ ثانی پیر پگارا ہفتم۔ ۲

تحریر: عارف الحق عارف

دوسری قسط

‎ملک میں جب ضیاء الحق کا مارشل لا نافذ ہوا تو پیر پگارا نے ان کا کھل کر ساتھ دیا اور اعلان کیا کہ وہ جی ایچ کیو کے ساتھ ہیں، اس کی وہ یہ تشریح کیا کرتے تھے کہ جی ایچ کیو ہماری مسلح کا ہیڈ کوارٹر ہے اور ہم چاہیں یا نا چاہیں ملک کی حفاظت اور سیاست میں اس کے کردار سے انکار نہیں کیا جا سکتا اس لئے ہر پاکستانی کی طرح وہ بھی اس کے حامی ہیں۔اس کے علاوہ اس تعلق کی یہ توجیح بھی تھی کہ کہ 1965 کی پاک بھارت جنگ میں جب بھارت نے پاکستان کے خلاف جنگ کا اعلان کیا تو پیر پگارا بھی میدان میں آگئے اور ملک کی حفاظت کے لئے سینہ سپر ہو گئے اور اپنے لاکھوں مریدوں کو حکم دیا کہ وہ وہ دشمن کے خلاف میدان میں آ جائیں۔ ان کے حکم پر ہزاروں حر مرید عمر کوٹ پر واقع سرحد کی حفاظت کے لئے آرمی کی مجاہد فورس میں باقاعدہ شامل ہو گئے تھے اور دفاع وطن میں تاریخی کردار ادا کیا تھا۔ وہ اب بھی مجاہد فورس کا حصہ ہیں۔ اس لئے بھی پیر صاحب کا جی ایچ کیو سے ایک تعلق بنتا تھا۔

‎فوج کے ملکی سیاست میں کبھی اعلانیہ اور کبھی خفیہ کردار سے وہ اچھی طرح واقف تھے۔ اس لئے وہ فوج کو ذومعنی انداز میں ملک کی منظم ترین سیاسی جماعت بھی کہا کرتے تھے۔ ان کے اس انداز سیاست کا نتیجہ تھا کہ جنرل ضیاء الحق نہ صرف سیاستدانوں سے بات کرنے پر آمادہ ہوئے بلکہ انہوں نے ملک کو تاخیر ہی سے سہی 1985 کے غیر جماعتی انتخابات کے ذریعہ پٹڑی پر ڈالنے کا وعدہ بھی پورا کیا۔ مارشل لاء کے خاتمے کے بعد یہ جمہوریت کی جانب پہلی پیش رفت تھی۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک میں پاکستان مسلم لیگ کی حکومت قائم ہوئی اور وزیراعظم محمد خان جونیجو کو وزارت عظمیٰ کے منصب تک پہنچنے کا موقع ملا۔پیر صاحب پگارا جی ایچ کیو سے اپنے تعلق کے اظہار میں کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے تھے۔ سندھ کے وزیراعلیٰ جسٹس (ر) سید غوث علی شاہ بھی ان کے نمائندے کی حثیت سے اس عہدے کے لئے نامزد ہوئے تھے۔ پیر صاحب پگارا سے ایک انٹرویو میں پوچھا گیا کہ آپ نے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے اپنے برادرنسبتی مخدوم حسن محمود مرحوم کی بجائے نواز شریف کی حمایت کیوں کی تھی تو انہوں نے کہا کہ پنجاب کے بارے میں فیصلہ تو جنرل ضیاء الحق کو کرنا تھا اور انہوں نے ہی یہ انتخاب کیا تھا۔ البتہ انہوں نے میری رضامندی ضرور لی تھی۔ اسی طرح بلوچستان کےلیے میں نے جام غلام قادر خان جام آف لسبیلہ کا نام دیا تھا اور وہ وزیر اعلی بن گئے تھے۔

‎نواز شریف کے بطور وزیراعلی پنجاب پہلی بار نامزدگی کی منظوری کا میں بھی عینی شاہد ہوں۔ مارچ 1985 کے دوران میں اسلام آباد میں پیر پگارا کے بنگلے ہی میں ان کے ساتھ موجود تھا جو ملک بھر کی سیاسی سرگرمیوں کا سب سے بڑا مرکز بنا ہوا تھا اور ہر ایک پیر پگارا کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر مسلم لیگ میں شامل ہو رہاتھا۔ حکومت سازی کے سلسلے میں ہونے والی سرگرمیاں میرے سامنے ہی ظہور پزیر ہو رہی تھیں۔میری یادوں کے پردے پر اس وقت کے واقعات پوری جزئیات کے ساتھ سامنے آرہے ہیں۔ جن کا تعلق نواز شریف کی پنجاب کے وزارت اعلی کے منصب پر نامزدگی سے ہئے۔پنجاب کی وزارت اعلی کی دوڑ میں میاں نواز شریف اور پیر صاحب کے برادر نسبتی مخدوم زادہ حسن محمود سب سے نمایاں تھے اور عام خیال یہ تھا کہ قرعہ فال حسن محمود کے نام نکلے گا۔ یہ دونوں رہنما صبح ہی بنگلے پر پہچ گئے تھے جن کو الگ الگ کمروں میں بٹھا دیا گیا تھا۔حسن محمود وزارت اعلی کے سنجیدہ اور فیورٹ امیدوار تھے اور چاہتے تھے کہ پیر صاحب اس کی منظوری دے دیں وہ بھاول پور سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی دونوں نشستوں پر کامیاب ہوئے تھے اور ابھی تک کسی نشست سے استعفی نہیں دیا تھا۔ وزارت اعلی کی نامزدگی کا آخری دن تھا۔ وہ اسی سلسلے میں ملاقات کے منتظر تھے پیر صاحب نے ان کو بلایا انہوں نے پیر صاحب سے صرف یہ پوچھا “ سائیں میرے لئے کیا حکم ہے۔” پیر صاحب نے ایک جملے میں جواب دے دیا۔”آپ صوبائی اسمبلی سے استعفی دے دیں” جس کا صاف مطلب تھا کہ پیر صاحب نے اپنا وزن نواز شریف کے پلڑے میں ڈال دیا تھا ۔ دراصل پیر پگارا اس معاملے پر پہلے ہی سوچ بچار کر چکے تھے۔ انہیں معلوم ہو گیا تھا کہ ضیاالحق کی مرضی کیا ہے۔ صرف ان کی رسمی منظوری کے اعلان کی دیر تھی جس کا اعلان انہوں نے کردیا تھا۔اس فیصلے سے حسن محمود کو بڑا دھچکا لگا لیکن وہ کسی ردعمل کا اظہار کئے بغیر وہاں سے روانہ ہوگئے۔ان کو قوی امید ہی نہیں بلکہ یقین تھاکہ پیر صاحب ان کے ساتھ رشتےداری کا خیال رکھتے ہوئے ان کی حمائت کریں گے۔لیکن پیر صاحب نے جو مناسب سمجھا وہی فیصلہ کر دیا ۔

صاحب مضمون، پیر پگارا کے ساتھ شاہ احمد نورانی کی عیادت کرتے ہوئے

میاں نواز شریف بھی اس بنگلے میں چند گھنٹوں سے پیر صاحب سے ملنے کے منتظر تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ بار بار پیر صاحب کا خادم ان کی موجودگی کی اطلاع دیتا اور پیر صاحب کسی اور کو ملاقات کے لئے بلا لیتے۔ یہ سلسلہ کوئی ڈھائی تین گھنٹے چلتا رہا اور پھر آخر میں انہیں بلا لیا گیا۔نواز شریف نے پیر صاحب کو اپنے بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور حمائت کی درخواست کی۔ پیر صاحب کا کہنا تھا کہ آپ کو مجھ سے زیادہ جس کی حمائت کی ضرورت ہئے وہ آپ کو حاصل ہو گئی ہے اس لئے میری ہمدردیاں بھی آپ کے ساتھ ہیں۔ان کی اس حمائت اور منظوری سے پاکستان کے سب سے بڑی آبادی کے صوبے پر نواز شریف کی حکمرانی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو چکا تھا۔ جس کے بارے میں اس وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ شریف خاندان اس کے بعد بتیس تیتس سال تک پنجاب پر حکمرانی کرے گا۔

جاری ہے۔

آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے عارف الحق عارف نے 1967 میں روزنامہ جنگ کراچی سے صحافت کا آغاز کیا،جہاں 2002 تک وابستہ رہے،اسی سال جیو ٹی وی سے وابستہ ہوئے جہاں بطور ڈائریکٹر 18 سال سے زائد عرصہ گزارا، عارف الحق عارف کی صحافت سے 52 سالہ وابستگی کا یہ سفر بڑا دلچسپ ہے،پاکستان 24 میں “ بڑے لوگوں کی سنہری یادیں “ کے اس تحریری سلسلے میں آپ کو نامور لوگوں کی متاثر کن کہانیاں پڑھنے کو ملیں گی۔امید ہے قارئین کے لیے یہ سلسلہ دلچسپ ہوگا۔

‎۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے