یونس خان سے سید عبدالرشید تک

سندھ اسمبلی میں آنکھوں دیکھا احوال !
تحریر: عبدالجبارناصر

سندھ اسمبلی میں پیش آنے والے دو افسوسناک واقعات انتہائی تکلیف دہ ہیں ، اتفاق سے ان دونوں واقعات کے ہم بھی عینی شاہد ہیں۔
(1)عام انتخابات 2002ء کےنتیجے میں متحدہ قومی موومنٹ سندھ کے شہری علاقوں سے بھاری اکثریت سے کامیاب رہی اور ان کی بدترین مخالف جماعت مہاجر قومی موومنٹ کا ایک ہی رکن محمد یونس خان کامیاب ہوے اور اب ایم کیوایم کی کوشش تھی کہ حلف برداری سے قبل گرفتاری ہو، اس کے لئے ایم کیوایم نے اپنے کارکنوں کی ایک کثیر تعداد کو ذمہ داریاں دینے کے ساتھ ساتھ پولیس انتظامیہ کو بھی آگاہ کیا تھاکہ یونس خان اسمبلی میں نہیں آنا چاہئے اور روپوش یونس خان نے 12دسمبر 2002ء کو سخت سیکیورٹی اور ایم کیوایم کی نگرانی کے باعث حلف اٹھانے کے لئے نہ آسکے باقی ارکان نے حلف اٹھا ۔ 14دسمبر 2002ء کو اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب ہونا تھا۔ 14 دسمبر کو یونس خان پولیس اور ایم کیوایم کو جھل دیکر اسمبلی پہنچ گئے او ر ایوان میں ان کو دیکھتے ہی ایم کیوایم کے ارکان آپے سے باہر ہوگئے مگر ایوان میں بے بس تھے ، یونس خان حلف اٹھا اور اس کے بعد وہ نکتہ اعتراض بات کرنا چاہتے تھے مگر تقریبٍاً پونے دو گھنٹے تک انہیں ایک منٹ بات نہیں کرنی دی گئی ، اس دوران اسپیکر بھی بے بس نظر آئے ، کیونکہ ایم کیوایم ، ق لیگ اور ف لیگ کا اتحاد تھا اور ایم کیوایم اس اتحاد کی سب بڑی جماعت اور سابق آمر پرویز مشرف کی منظور نظر تھی ۔
اب یہ منصوبہ بندی کی گئی کہ یونس خان اسمبلی سے باعزت بچکر باہر نہیں جانا پائے ،جبکہ یونس خان کی خواہش تھی کہ گرفتاری باعزت انداز میں ہو ۔ غالباً سندھ اسمبلی کی تاریخ میں پہلی بار پولیس نے نہ صرف سندھ اسمبلی کی عمارت کے اطراف بلکہ اسمبلی کی چاردیواری کے اندر 4 سے 5 گھنٹے مکمل محاصرہ کیا اور منتخب ڈپٹی اسپیکر راحیلہ ٹوانہ سمیت کسی فرد کو باہرنکلنے نہیں دیا۔ ارکان اسمبلی ، میڈیا نمائندوں ، عملے کے افراد اور ویزیٹرز سمیت ایک ہزار کے قریب افراد محصور اور یرغمال بنے رہے۔یونس خان ایوان کی لابی میں موجود رہے اور پھر پیپلزپارٹی اور متحدہ مجلس عمل کے ارکان نے اپنی بس میں ان کو چھپادیا۔درجنوں گاڑیوں میں سوار پولیس، ایم کیوایم کے ممبران اور کارکن مہاجر قومی موومنٹ کے اکلوتے رکن یونس خان کو تلاش کر رہی تھے ۔پولیس نے اسمبلی کی عمارت کے باہر بھی سخت ناکہ بندی کی ہوئی تھی اور درجنوں گاڑیاں کھڑی کر کے ٹریفک کو بھی بلاک کر دیا تھا۔ اراکیں اسمبلی نے جب نومنتخب سپیکر سید مظفر حسین شاہ کے سامنے احتجاج کیا تو انہوں نے انہیں یقین دلایا کہ پولیس کو کوئی ایم پی اے مطلوب نہیں ہے اور یہ کہ کسی رکن اسمبلی کو گرفتار نہیں کیا جائے گا۔بعد میں پولیس نے ارکان اسمبلی کی گاڑیوں کی تلاشی لینے کی کوشش بھی کی جس پر پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز اور متحدہ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے ارکان سخت احتجاج کیا۔تقریباً 5 گھنٹے کے گھیراؤ کے بعد پولیس نے اسمبلی کے احاطے میں موجود گاڑیوں کی تلاشی لینا شروع کر دی۔ پی پی پی پی کی خواتین ارکان اسمبلی سے بھری بس کی تلاشی کے دوران یونس خان پولیس کے ہاتھ لگ گئے اور پولیس کے سپاہی انہیں گھسیٹتے ہوئے وہاں سے لے گئے۔ یونس خان کو بہت بری طرح زدوکوب بھی کیا۔یہ دن سند ھ اسمبلی کی تاریخ کا ایک سیاہ دن تھا جب اسمبلی کے تقدس کو پامال کیا گیا۔دلچسپ بات یہ ہے یونس خان کو بچانے میں پیپلزپارٹی کے جو ارکان سر گرم تھے میں موجودہ وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ ،صوبائی وزیر مکیش کمار چاولہ ، سینیٹرسسی پلیجو،رکن قومی اسمبلی شازیہ مری اور ایم ایم اے کے نصر اللہ خان شجیع شہید سر فہرست تھے۔7مارچ 2019ء کو ایک مرتبہ پھر اس واقعہ کی یاد تازہ کردی اور پیپلزپارٹی ایک بار پھر ایک جماعت کے واحد رکن کے تحفظ کے لئے سید مراد علی شاہ کی قیادت میں پیش پیش ہے۔
(2)سندھ اسمبلی میں 7مارچ 2019ء کا دن سیاہ ترین دن دو وجہ سے ہے (1)غالباً نہ صرف سندھ اسمبلی بلکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے کسی ایوان میں اپوزیشن رکن نے اپنے ہی قائد حزب اختلاف کے خلاف تحریک استحقاق پیش کی ہو اور وہ قرارداد منظور ہوکر عارضی استحقاق کمیٹی کے سپرد ہوچکی ہو ، اگر سندھ اسمبلی میں 13اگست 2019ء سے7 مارچ 2019ء تک قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی اور ان کی جماعت تحریک انصاف کا دو چھوٹی اپوزیشن جماعتوں متحدہ مجلس عمل (جماعت اسلامی)کے واحد رکن سید عبدالرشید اور تحریک لبیک پاکستان کے 3 ارکان کے ساتھ رویہ کو مد نظر رکھا جائے تو یہ نوبت تو آنی تھی ۔ 7مارچ کو سید عبدالرشید کی قائد حزب اختلاف کے خلاف تحر یک استحقاق ایجنڈا کا حصہ تھی ، قائد حزب اختلاف اور تحریک انصاف ذر اغورو فکر کرکے رابطہ کرتی اور گلوے شکوے ختم کئے جاتے تو شاید جماعت اسلامی کی قیادت سید عبدالرشید کو روکتی مگر تحریک انصاف کے کچھ عاقبت نا اندیش لوگوں میں طاقت کا خمار اسی طرح سوار ہے جس طرح یونس خان کے وقت ایم کیوایم میں سوار تھا اور پھر یہ تحریک منظور ہوئی ۔(2)سندھ اسمبلی میں 7 مارچ 2019ء کا دن اس لئے بھی سیاہ ترین دن ہے کہ جس طرح 14دسمبر 2002ء کو مہاجر قومی موومنٹ کے تنہا رکن کی تذلیل اور بزور طاقت زباں بندی کے لئے ایم کیوایم کے 50کے قریب ارکان سرگرم تھے ، اسی طرح جماعت اسلامی کے واحد رکن کی بزور طاقت زباں بندی اور تذلیل کے لئے نہ صرف تحریک انصاف کے 30ارکان ،بلکہ ایم کیوایم اور جی ڈی اے کے کئی ارکان بھی پیش پیش تھے ۔ ایوان میں سید عبدالرشید کی نشست پر جاکر زبردستی ان کا مائک بن، غلط نعرے بازی ،بعض ارکان کی جانب سے ہاتھ اٹھانے اور زدو کوب کرنے کی کوشش کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ اگربر وقت پیپلزپارٹی کے مکیش کمار چاولہ ، امتیاز شیخ ،شر جیل انعام میمن اور دیگر ایک درجن ارکان نہ پہنچتے تو واقعی بات بہت آگے بڑھ جاتی ۔ اس عمل کے دوران تحریک انصاف کے ارکان کی غلطی کو قوائد و ضوابط اور اسمبلی روایات سے لاعلمی قراردیکر شاید رعایت دی جاسکتی ہے ، مگر ایم کیوایم کے دو دہائیوں سے ایوان ’’ رکن‘‘رہنے والے رہنماء بھی میں شامل ہوں تو یہ عمل قابل مذمت ہے ۔ ایوان نے اس طرح کے رویوں کا تدارک نہ کیا تو پھر آئندہ اس سے بڑھکر واقعات پیش آسکتے ہیں ۔
(3)یونس خان اور سید عبدالرشید کے واقعات میں یہ مماثلت بھی کہ یونس خان ایم کیوایم کو ایوان میں قبول نہیں تھا اور سید عبدالرشید اور ٹی ایل پی کے 3ارکان تحریک انصاف بالخصوص قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی کو اپوزیشن میں کسی صورت قبول نہیں ہیں ۔ یونس خان کے وقت ایم کیوایم کو مشرف کی حمایت حاصل تھی اورتحریک انصاف کو وفاقی حکومت کی بھرپور حمایت حاصل ہے ۔اس پورے عمل میں تذلیل اور بے توقیری اسمبلی کی ہورہی ہے۔ تحریک انصاف کو یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ سید عبد الرشید یونس خان کی طرح مجبور، جماعت اسلامی مہاجر قومی موومنٹ کی طرح بے بس و لاچار اور نہ ہی تحریک انصاف ماضی کی ایم کیو ایم طرح طاقت ور ہے۔ واقعات میں مماثلت ضرور ہے مگر حالات اور کرداروں میں بہت فرق ہے ۔اس لئے سب کو غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ چھوٹی یا بڑی اپوزیشن جماعتیں کی اپنی پالیسیاں ہیں ان کو عمل کرنے کا موقع دیا جانا چاہئے ۔ پہلی صف میں ایم ایم اے اور ٹی ایل پی کے پارلیمانی لیڈر کو اسمبلی روایات کے مطابق جگہ ملتی ہے تو اس پر قائد حزب اختلاف اور تحریک انصاف کا احتجاج درست نہیں ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ موجودہ اسمبلی میں سید عبدالرشید واحد رکن ہے جس نے اب تک سیکھ کر مثبت انداز میں اپنی جگہ بنائی ہے۔

متعلقہ مضامین